Last Updated on March 9, 2026 8:31 pm by INDIAN AWAAZ

AMN / BIZ DESK
پیر کے روز ہندوستانی شیئر بازار میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ اور روپے کی تاریخی کمزوری کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں بازار میں زبردست فروخت کا دباؤ دیکھنے کو ملا۔ اگرچہ کاروبار کے آخری مرحلے میں کچھ خریداری واپس آئی اور بازار نے اپنی دن کی نچلی سطح سے کچھ سنبھلنے کی کوشش کی۔
بی ایس ای سینسیکس 1,352.74 پوائنٹس یعنی 1.71 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 77,566.16 پر بند ہوا۔ کاروبار کے دوران ایک وقت یہ انڈیکس 2,494.35 پوائنٹس (3.16 فیصد) تک گر کر 76,424.55 کی سطح تک پہنچ گیا تھا۔
اسی طرح این ایس ای نفٹی 50 بھی 422.40 پوائنٹس (1.73 فیصد) گر کر 24,028.05 پر بند ہوا۔ دن کے دوران نفٹی میں بھی بڑی گراوٹ دیکھی گئی اور یہ 752.65 پوائنٹس (3.07 فیصد) کم ہو کر 23,697.80 تک پہنچ گیا تھا۔ بعد میں کچھ خریداری آنے سے نفٹی اپنے نچلے درجے 23,868.05 سے تقریباً 160 پوائنٹس سنبھل گیا۔
ماہرین کے مطابق نفٹی اپنے 5 جنوری کے ریکارڈ سطح 26,373 سے اب 10 فیصد سے زیادہ نیچے آ چکا ہے جس کا مطلب ہے کہ بازار تکنیکی طور پر اصلاح (Correction) کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
سیکٹر وار کارکردگی
بینکنگ اور مالیاتی شعبہ
بینکنگ سیکٹر میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔ نفٹی پی ایس یو بینک انڈیکس 3.97 فیصد گر کر دن کا سب سے کمزور شعبہ ثابت ہوا۔ خطرات کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے سرکاری بینکوں کے حصص فروخت کرنا شروع کر دیے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے حصص میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
آٹو موبائل سیکٹر
آٹو موبائل کمپنیوں کے حصص بھی دباؤ میں رہے۔ ماروتی سوزوکی اور مہندرا اینڈ مہندرا کے حصص میں واضح گراوٹ دیکھی گئی۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ایندھن اور نقل و حمل کی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے جس کا براہِ راست اثر گاڑیوں کی مانگ اور کمپنیوں کے منافع پر پڑ سکتا ہے۔
انفراسٹرکچر اور ایوی ایشن
انفراسٹرکچر اور ہوا بازی کے شعبے کی کمپنیوں کے حصص بھی متاثر ہوئے۔ اڈانی پورٹس اور انٹرگلوب ایوی ایشن کے حصص میں کمی آئی۔ ایئر لائن کمپنیوں کے اخراجات میں ایندھن کا بڑا حصہ ہوتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے ان کے منافع پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
سیمنٹ اور تعمیراتی شعبہ
سیمنٹ سیکٹر میں بھی مندی کا رجحان رہا۔ الٹرا ٹیک سیمنٹ سینسیکس کے سب سے زیادہ گرنے والے حصص میں شامل رہا اور اس میں 5 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سیمنٹ کمپنیوں کی پیداواری لاگت بڑھا دیتا ہے۔
آئی ٹی سیکٹر
بازار کی مجموعی گراوٹ کے باوجود آئی ٹی سیکٹر نے نسبتاً مضبوطی دکھائی۔ نفٹی آئی ٹی انڈیکس 0.08 فیصد کی معمولی بڑھت کے ساتھ بند ہوا۔ انفوسس، ٹیک مہندرا اور ایچ سی ایل ٹیک جیسے حصص میں خریداری دیکھنے کو ملی۔ کمزور روپیہ آئی ٹی کمپنیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے آتا ہے۔
فارما اور توانائی
دفاعی سمجھے جانے والے شعبوں میں کچھ خریداری دیکھی گئی۔ سن فارما اور ریلائنس انڈسٹریز جیسے حصص نے بازار کو کسی حد تک سہارا دیا۔
مڈ کیپ اور اسمال کیپ حصص پر زیادہ دباؤ
وسیع بازار میں گراوٹ زیادہ نمایاں رہی۔ نفٹی مڈ کیپ انڈیکس 1.97 فیصد جبکہ نفٹی اسمال کیپ انڈیکس 2.22 فیصد گر کر بند ہوئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار زیادہ خطرے والے حصص سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔
خام تیل میں تیزی اور روپے کی تاریخی کمزوری
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی نے بھی بازار کی پریشانی بڑھا دی۔ برینٹ کروڈ تقریباً 12 فیصد بڑھ کر 104 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا جبکہ دن کے دوران یہ 120 ڈالر فی بیرل تک بھی گیا تھا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ادھر ہندوستانی روپیہ بھی کمزور ہو کر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 53 پیسے گر کر 92.35 کی تاریخی نچلی سطح پر بند ہوا۔ انٹر بینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں روپیہ 92.22 پر کھلا اور کچھ دیر کے لیے 92.15 تک مضبوط ہوا، لیکن بعد میں مسلسل دباؤ کے باعث ریکارڈ نچلی سطح تک پہنچ گیا۔
آئندہ بازار کا رجحان
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بازار میں غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی اور روپے کی حرکت سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔
سرمایہ کار اس وقت عالمی حالات، تیل کی قیمتوں اور کرنسی مارکیٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان عوامل کا براہِ راست اثر مہنگائی، کمپنیوں کے منافع اور شیئر بازار کی سمت پر پڑتا ہے۔
