Last Updated on January 2, 2026 6:41 pm by INDIAN AWAAZ

تحریر: آفرین حسین
مغربی بنگال میں یکم جنوری محض نئے کیلنڈر کا آغاز نہیں ہوتا، بلکہ یہ دن سیاسی عزم کی تجدید، عوامی جذبات کی تازگی اور ایک تحریک کے ازسرِنو اظہار کی علامت بن چکا ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے لیے فاؤنڈیشن ڈے کوئی رسمی سالگرہ نہیں، بلکہ عوامی سیاست، عوامی تائید اور بنگال کی شناخت کے دفاع کا اعلان ہے۔
1998 میں وجود میں آنے والی ترنمول کانگریس ایک مزاحمتی آواز کے طور پر ابھری تھی۔ آج، 2026 کے اسمبلی انتخابات کے دہانے پر، یہ پارٹی بنگال کی سب سے طاقتور اور فیصلہ کن سیاسی قوت کے طور پر کھڑی ہے۔ اسی تناظر میں فاؤنڈیشن ڈے اب محض جشن نہیں، بلکہ آنے والی انتخابی جنگ کا باقاعدہ آغاز بن چکا ہے۔
اس پورے سیاسی بیانیے کے مرکز میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا نعرہ — “ماں، مٹی، مانوش” — موجود ہے۔ یہ نعرہ اب محض الفاظ نہیں رہا، بلکہ بنگال کی سیاسی روح اور ترنمول کی نظریاتی بنیاد بن چکا ہے۔ ممتا بنرجی کا مؤقف دو ٹوک ہے: بنگال کی ترقی، جمہوری حقوق اور شناخت کا تحفظ ترنمول کی اولین اور آخری ترجیح ہے، اور بنگال کے فیصلے بنگال میں ہی ہوں گے۔
گزشتہ برسوں میں ترنمول کا فاؤنڈیشن ڈے طاقت کے مظاہرے سے نکل کر عوام سے براہِ راست سیاسی مکالمے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ شہریت قوانین کے خلاف مزاحمت، وفاقی ڈھانچے کا دفاع، اور جن سُنوائی کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر کرنا—یہ سب اس ارتقا کی نمایاں مثالیں ہیں۔
اس تنظیمی تبدیلی میں قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کا کردار کلیدی رہا ہے۔ بوتھ سطح کے کارکنوں کو طاقت کا اصل مرکز قرار دیتے ہوئے انہوں نے تنظیم کو حکمتِ عملی میں ڈھالا ہے۔ ڈائمنڈ ہاربر ماڈل آج 2026 کی انتخابی تیاری کا بنیادی خاکہ بن چکا ہے۔
جیسے جیسے 2026 قریب آ رہا ہے، ترنمول کا فاؤنڈیشن ڈے ایک سیاسی وار روم کی شکل اختیار کر چکا ہے—جہاں مقابلہ اقتدار کا نہیں، بلکہ عوام بمقابلہ دباؤ، وفاقیت بمقابلہ مرکزیت، اور شناخت بمقابلہ یکسانیت کا ہے۔
ترنمول کانگریس کا پیغام واضح ہے:
یہ صرف ایک پارٹی نہیں، بلکہ بنگال کی آواز اور ایک عوامی تحریک ہے۔
