Last Updated on January 25, 2026 12:28 am by INDIAN AWAAZ

AMN / NEWS DESK

In another shocking case of alleged honour killing, a 27-year-old Muslim man and his 22-year-old Hindu friend were brutally murdered in Uttar Pradesh’s Moradabad district, allegedly by the Girl’s brothers for opposing their interfaith relationship.

The victim, identified as Arman, had been working in Saudi Arabia and had returned to Moradabad a few months ago, where he met Kajal. The two developed a relationship, which soon drew strong opposition from Kajal’s family. Her brothers reportedly objected to the interfaith nature of the relationship and pressured her to cut all ties with Arman.

Around three days ago, both Arman and Kajal went missing, prompting concern among their families. Arman’s father, Haneef, lodged a missing persons complaint with the police. During the investigation, police also discovered that Kajal was untraceable.

When questioned, Kajal’s brothers allegedly confessed to killing the couple. According to the police, the accused led investigators to the location where the bodies had been buried. The remains were exhumed on Wednesday evening.

During interrogation, the accused reportedly told the police that they had tied the hands and legs of both Arman and Kajal before hacking them to death. The incident has sent shockwaves through the region and once again highlighted the persistent issue of honour-based violence linked to interfaith relationships.

Police have registered a case and further investigation is underway.

Satpal Antil, Senior Superintendent of Police, said, “During the investigation, we found that the woman’s brothers killed them. When the brothers confessed, we recovered the bodies. The spade used in the murders was also recovered.”

The senior police officer said a case of murder has been registered against the woman’s three brothers. Two of them have been taken into custody. Determined not to let the shocking crime lead to a communal flare-up, police have deployed heavy force in the village where the couple lived. The situation, they said, is under control.

Arman’s sister told NDTV that they were not aware of any relationship between him and Kajal. “He was working in Saudi Arabia for four years. He came three months ago,” she said.

مرادآباد میں بین المذاہب جوڑے کا قتل، خاتون کے بھائی گرفتار

اتر پردیش کے شہر مرادآباد میں غیرت کے نام پر قتل کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک مسلمان نوجوان اور اس کی ہندو محبوبہ کو مبینہ طور پر خاتون کے بھائیوں نے باندھ کر بے رحمی سے قتل کر دیا اور بعد ازاں دونوں کی لاشیں زمین میں دفن کر دیں۔ پولیس نے معاملے کا انکشاف کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق مقتول نوجوان کی شناخت 27 سالہ ارمان کے طور پر ہوئی ہے، جو سعودی عرب میں ملازمت کرتا تھا اور گزشتہ چند ماہ سے مورادآباد میں مقیم تھا۔ اسی دوران اس کی ملاقات 22 سالہ کاجل سے ہوئی، جس کے بعد دونوں کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہو گئے۔ یہ تعلق دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے کاجل کے خاندان، خصوصاً اس کے بھائیوں کو ناگوار گزرا۔

اہل خانہ کے مطابق کاجل کے بھائیوں نے متعدد بار اسے ارمان سے تعلق ختم کرنے کی ہدایت دی تھی، مگر دونوں نے اپنا رشتہ برقرار رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً تین روز قبل ارمان اور کاجل اچانک لاپتہ ہو گئے، جس پر ارمان کے والد حنیف نے مقامی تھانے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔

پولیس کی کارروائی اور انکشاف

گمشدگی کی رپورٹ کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ کاجل بھی اپنے گھر سے لاپتہ ہے۔ اس پر پولیس نے کاجل کے بھائیوں سے پوچھ گچھ کی، جس دوران انہوں نے جرم کا اعتراف کر لیا۔ ملزمان نے پولیس کو وہ مقام بھی دکھایا جہاں دونوں کی لاشیں دفن کی گئی تھیں۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر زمین کھدوائی، جہاں سے دونوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے پہلے ارمان اور کاجل کے ہاتھ پاؤں باندھے اور پھر انہیں تیز دھار ہتھیاروں سے قتل کر دیا۔ قتل کے بعد لاشوں کو چھپانے کے لیے انہیں زمین میں دفن کر دیا گیا۔

غیرت کے نام پر قتل کا پہلو

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ غیرت کے نام پر قتل کا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ کاجل کے بھائی بین المذاہب تعلقات کے سخت خلاف تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف قتل، سازش اور شواہد چھپانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی کب اور کیسے کی گئی۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا اس جرم میں مزید افراد بھی شامل تھے یا نہیں۔

معاشرتی پس منظر اور سوالات

یہ واقعہ ایک بار پھر ہندوستانی معاشرے میں بین المذاہب تعلقات اور غیرت کے نام پر قتل جیسے سنگین مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں بلکہ سماج میں نفرت، عدم برداشت اور تشدد کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

ماہرین سماجیات کے مطابق بین المذاہب شادیوں اور تعلقات کو لے کر معاشرے میں پائی جانے والی سخت سوچ اور خاندانی دباؤ اکثر نوجوانوں کو خطرناک حالات سے دوچار کر دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے نہ صرف قانون کو سختی سے نافذ کرنا ضروری ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔

خاندانوں کا ردعمل

ارمان کے خاندان نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو سخت ترین سزا دی جائے۔ ارمان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا صرف محبت کرنے کی سزا پا گیا۔ دوسری جانب کاجل کے خاندان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ خاندان کے دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

مورادآباد کا یہ واقعہ نہ صرف ایک سنگین جرائم کی کہانی ہے بلکہ یہ معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ بھی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں اور انصاف کو یقینی بنائیں، تاکہ مستقبل میں ایسے لرزہ خیز واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے