Last Updated on January 1, 2026 11:48 pm by INDIAN AWAAZ

Staff Reporter
بھارت میں سال 2025 کے دوران فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، تاہم ہجومی تشدد (ماب لنچنگ)، نفرت انگیز جرائم اور شناخت کی بنیاد پر کشیدگی بدستور برقرار رہی۔ یہ بات سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرازم ( ) کی تازہ مانیٹرنگ رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات کے صرف 28 واقعات درج کیے گئے، جبکہ سال 2024 میں یہ تعداد 59 تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران فسادات میں تقریباً 52 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم، رپورٹ اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ تشدد کی نوعیت میں کمی کے باوجود سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں بہتری کے واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔
کے مطابق 2025 میں ماب لنچنگ کے واقعات میں معمولی اضافہ ہوا۔ سال کے دوران ایسے 14 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں کم از کم آٹھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بڑے پیمانے پر فسادات کم ہوئے ہیں، مگر مذہب اور شناخت کی بنیاد پر تشدد نے دیگر شکلیں اختیار کر لی ہیں۔
رپورٹ میں مسلم اور عیسائی برادریوں کے خلاف ادارہ جاتی امتیاز پر بھی گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ ہوا ہے اور عوامی مقامات سے مسلم اور عیسائی ثقافتوں کو دانستہ طور پر غیر نمایاں اور حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی، ہندو دائیں بازو کی ویجیلانٹی گروہوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے اور انہیں عملی طور پر استثنا حاصل ہونے کا رجحان بھی برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق عوامی مقامات پر ہندو تہواروں، مذہبی علامات اور رسوم کی غیر معمولی نمائش اور بالادستی میں اضافہ ہوا ہے، جسے اکثریتی ثقافتی غلبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے سماجی پولرائزیشن کو مزید گہرا کیا ہے۔
نے اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگرچہ اعداد و شمار فرقہ وارانہ فسادات میں کمی کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر نفرت، امتیاز اور عدم احتساب جیسے بنیادی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ان مسائل کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جاتا، محض فسادات میں کمی دیرپا سماجی ہم آہنگی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
