Last Updated on March 14, 2026 3:01 pm by INDIAN AWAAZ
توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے عارضی اقدامات

— عندلیب اختر
نئی دہلی: مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے درمیان بھارت حکومت نے ایندھن کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کے لیے مٹی کے تیل (کیر وسین)، کوئلے اور بایو ماس جیسے متبادل ایندھن کے محدود استعمال کی اجازت دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا اور گھریلو صارفین کے لیے اس کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایسے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے جو توانائی کے لیے درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ بین الاقوامی معیار Brent Crude حال ہی میں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا ہے، جس سے توانائی کی لاگت اور سپلائی دونوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
بھارت اپنی کل تیل ضرورت کا تقریباً 85 فیصد بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں کسی بھی اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر ملک کی توانائی کی معیشت پر پڑتا ہے۔
ایل پی جی کی طلب کم کرنے کی کوشش
حکومت نے حال ہی میں ہوٹلوں، ریستورانوں، ڈھابوں اور دیگر تجارتی کچن کو محدود مدت کے لیے مٹی کے تیل، کوئلے اور بایو ماس کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کمرشل سیکٹر میں ایل پی جی کی کھپت کم کرنا ہے تاکہ گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
اسی سلسلے میں حکومت نے ریاستوں کے لیے مٹی کے تیل کی اضافی فراہمی کا بھی اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 48 ہزار کلو لیٹر اضافی کیروسین ریاستوں کو فراہم کیا جائے گا، جسے عوامی تقسیم کے نظام اور مجاز ایندھن مراکز کے ذریعے دستیاب کرایا جائے گا۔
چھوٹے کاروبار کے لیے کوئلے کی فراہمی
حکومت نے سرکاری کوئلہ کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ چھوٹے کاروباروں اور صنعتی یونٹوں کے لیے کوئلے کی مناسب فراہمی کو یقینی بنائیں۔ کئی چھوٹے تجارتی ادارے عارضی طور پر ایل پی جی کے متبادل کے طور پر کوئلے کا استعمال کر سکتے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم صرف ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ہے اور اسے مستقل پالیسی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
صاف توانائی کی جانب طویل مدتی حکمت عملی
ان عارضی اقدامات کے باوجود بھارت کی طویل مدتی توانائی پالیسی صاف اور پائیدار ایندھن کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اس سمت میں متعدد اہم اسکیمیں شروع کی گئی ہیں۔
ان میں نمایاں منصوبہ Pradhan Mantri Ujjwala Yojana ہے، جس کے تحت کروڑوں غریب خاندانوں کو ایل پی جی کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کے نتیجے میں لکڑی، کوئلہ اور مٹی کے تیل جیسے روایتی ایندھن پر انحصار میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت National Green Hydrogen Mission کے ذریعے گرین ہائیڈروجن کی پیداوار کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ FAME India Scheme کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو تیز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
توانائی کی سلامتی اور ماحولیات کا توازن
ماہرین توانائی کے مطابق حالیہ صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متنوع ذرائع پر انحصار کرنا ہوگا۔
اگرچہ مٹی کے تیل اور کوئلے کا محدود استعمال فوری طور پر سپلائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں ملک کی ترجیح صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہی رہے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اہداف کو برقرار رکھنا آنے والے برسوں میں بھارت کے لیے ایک اہم چیلنج ہوگا۔
