Last Updated on February 6, 2026 6:07 pm by INDIAN AWAAZ

زاکر حسین، ڈھاکہ سے
بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے اقتدار کی منتقلی کا عمل رمضان سے قبل مکمل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چیف ایڈوائزر محمد یونس کے پریس سیکریٹری شفیق الاسلام نے کہا ہے کہ ملک میں 17 یا 18 فروری تک منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔
ڈھاکہ میں فارن سروس اکیڈمی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شفیق الاسلام نے کہا:
“اقتدار کی منتقلی جتنی جلد ممکن ہو، کی جائے گی۔ اگر اراکین پارلیمنٹ کو تین دن کے اندر حلف دلا دیا جاتا ہے تو اکثریتی جماعت کے رہنما کو وزیر اعظم کے طور پر حلف لینے کی دعوت دی جائے گی۔ یہ عمل 15 یا 16 فروری تک ممکن ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ یہ 17 یا 18 فروری سے آگے جائے گا۔”
بنگلہ دیش میں 13واں قومی پارلیمانی انتخاب 12 فروری کو ہونے جا رہا ہے۔ اسی روز جولائی نیشنل چارٹر کے نفاذ سے متعلق ایک ریفرنڈم بھی منعقد کیا جائے گا۔
ادھر اسلامک فاؤنڈیشن کے مطابق چاند نظر آنے کی بنیاد پر رمضان المبارک 19 فروری سے شروع ہونے کا امکان ہے، جس کے باعث سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ عبوری حکومت اقتدار کی منتقلی رمضان سے قبل مکمل کرنے کی کوشش میں ہے۔
رمضان میں سرکاری دفاتر کے اوقات تبدیل
کونسل آف ایڈوائزرز نے فیصلہ کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران تمام سرکاری، نیم سرکاری، خودمختار اور نیم خودمختار دفاتر کے اوقات کار صبح 9 بجے سے دوپہر 3:30 بجے تک ہوں گے۔
عبوری حکومت کی کارکردگی کا دعویٰ
شفیق الاسلام کے مطابق اگست 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عبوری حکومت نے 526 فیصلے کیے اور 116 آرڈیننس جاری کیے۔ ان میں سے 439 فیصلوں پر عمل درآمد ہو چکا ہے، جس کے باعث عمل درآمد کی شرح 83.46 فیصد رہی۔
انہوں نے بتایا کہ 8 اگست 2024 سے 31 جنوری 2026 کے دوران چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کی قیادت میں کونسل آف ایڈوائزرز کے 68 ہفتہ وار اجلاس منعقد ہوئے۔
جاری کیے گئے 116 آرڈیننس میں سے 16 ابھی عمل کے مراحل میں ہیں، جن میں سے تین کو پالیسی سطح پر منظوری مل چکی ہے۔
عبوری حکومت نے 30 پالیسی نوعیت کے اقدامات بھی کیے، جن میں پالیسیاں، رہنما اصول، حکمت عملیاں اور ایکشن پلان شامل ہیں۔ ان میں سے 16 پر دستخط یا توثیق ہو چکی ہے جبکہ 14 پر عمل درآمد جاری ہے۔ اس کے علاوہ اس عرصے میں 14 دو طرفہ معاہدے بھی طے پائے ہیں۔
پریس سیکریٹری نے دعویٰ کیا کہ موجودہ عبوری حکومت کی کارکردگی سابقہ حکومتوں کے مقابلے میں “غیر معمولی طور پر بہتر” رہی ہے اور کئی آرڈیننس ایسے اصلاحاتی اقدامات پر مبنی ہیں جن کے عوام کی زندگیوں پر “دور رس اور تبدیلی لانے والے اثرات” مرتب ہوں گے۔
