Last Updated on October 19, 2026 11:04 pm by INDIAN AWAAZ


حسام صدیقی


انڈیا گٹھ بندھن میں شامل کانگریس اور سماج وادی پارٹی سمیت ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں، کاکروچ جنتا پارٹی، طلباء اور نوجوانوں نے دو اکتوبر سے جنترمنترپر ایس آئی آر کے بہانے بڑی تعداد میں مسلمانوں کے نام ووٹرس لسٹ سے کٹوانے والے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر مظاہرہ شروع کیا جو ہفتوں جاری رہا، مظاہرہ کرنے والے پولیس اور مودی سرکار کی بربریت کا شکار ہوتے رہے لیکن مسلمانوں کے ووٹوں کے سب سے بڑے سوداگر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور لوک سبھا ممبر اسد الدین اویسی پورے مظاہرے میں کہیں نہیں نظر آئے وہ گیانیش کمار کے خلاف اور مظاہرے کی حمائت میں ایک بیان تک دینے کی ہمت نہیں کرپائے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ اویسی کو ان کے آقاؤں یعنی وزیراعظم نریندر مودی اور امت شاہ نے ہدائت دی تھی کہ وہ گیانیش کمار مخالف تحریک میں شامل ہونے کی ہمت نہ کریں۔اس ہدائت پر اویسی نے بڑے ادب سے کہہ دیا جو حکم میرے آقا۔


اویسی ہمیشہ مسلمانوں کے نام پر ڈرامہ اورلفاظی کرتے رہتے ہیں لیکن لاکھوں مسلمانوں کے نام ووٹرس لسٹ سے کاٹے جانے پر ان کی زبان نہیں ہلی۔ اس کے برعکس جب اویسی سے کچھ میڈیا نمائندوں نے تحریک میں شامل نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بڑی بے شرمی سے کہا کہ انہیں انڈیا گٹھ بندھن میں شامل نہیں کیا گیا توو ہ بے گانی شادی میں عبداللہ بننے کیوں جائیں؟ مسلم ووٹرس کے نام لسٹ سے کاٹے جانے کو یہ شخص اگر بے گانی شادی مانتا ہے تو پھر ان کے لئے اپنوں کی شادی کیا ہوگی؟ جہاں تک انڈیا گٹھ بندھن میں شامل نہ ہونے کا سوال ہے تو اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی اور نوین پٹنائک کی بیجو جنتا دل، آئیسا کی صدر نیہا بورا، سوشل ورکر یوگیندر یادو، اداکار پرکاش راج اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن بھی انڈیا گٹھ بندھن میں شامل نہیں ہیں لیکن یہ سب لوگ تو تحریک میں شامل رہے۔ اروند کیجریوال نےباقاعدہ سڑک پر لیٹ کر گرفتاری دی ان کی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر سنجئے سنگھ بھی تحریک میں برابر شامل رہے۔ نیہا بورا تو گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر اس حد تک سرگرم رہیں کہ کئی بار ان کی جان تک کو خطرہ پیدا ہوگیا تمام لوگ آخر کس کے حق کی لڑائی لڑتے رہے انہی مسلمانوں کے حق کی جنہیں اویسی جیسا شخص بڑی بے شرمی کےساتھ بے گانہ بتا دیتا ہے۔


اویسی مسلمانوں کی ہمدردی کی فرضی باتیں کرتے ہیں اور اپنے ایک ایک جملے سے ملک کے عام مسلمانوں کے مفاد کو چوٹ پہونچاتے ہیں ایک طرف تو وہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو مسلمانوں کے ووٹوں کا استعمال کرنے والا اور مسلمانوں سے دری بچھوانے کا کام کرنے والا بتاتے ہیں۔ دوسری طرف انڈیا گٹھ بندھن میں شامل ہونے کے لئے اتاؤلےبھی رہتے ہیں۔ بہار میں بھی انہوں نے پوری کوشش کی تھی کہ تیجسوی یادو انہیں کچھ سیٹیں دے کر اپنے گٹھ بندھن میں شامل کرلیں اب وہ بار بار اکھلیش یادو اورراہل گاندھی کو میسج بھیج رہے ہیں کہ انہیں انڈیا گٹھ بندھن میں شامل کرلیا جائے۔ ساتھ ہی دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر گٹھ بندھن میں ہمیں شامل نہ کیا گیا تو اترپردیش کے مسلم اکثریتی حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرکے گٹھ بندھن اور سماج وادی پارٹی کے امیدواروں کو ہرائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اکھلیش یادو اور راہل گاندھی وغیرہ اتنے ہی خراب سیاست داں ہیں تو آپ ان کےگٹھ بندھن میں شامل ہونے کے لئے اتنے اتاؤلے کیوں ہیں۔ وہاں تو آپ بےگانی شادی میں عبداللہ بننے کے لئے کسی بھی سطح تک گرنے کے لئے تیار ہیں۔ مسلمانوں کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے، یہ مودی اور امت شاہ سے ہر قسم کا فائدہ لے کر مسلم ووٹرس کا اتحاد ختم کرنے اور ان میں آپسی اختلاف پیدا کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔


بہار، دہلی، مہاراشٹر، کرناٹک اور مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بہانے لاکھوں مسلمانوں کے ووٹ ووٹرس لسٹ سے کٹوا دیئے حد یہ ہے کہ خود اسد الدین اویسی کے پارلیمانی حلقہ میں آنےو الے دو اسمبلی حلقوں گوشا محل اور چار مینار میں بھی آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگوں نے فرضی طریقہ سے فارم-۷ بھر کر مسلمانوں کے نام ووٹرس لسٹ سے ہٹوانے کی حرکت کی۔ گوشا محل حلقہ سے ایک انتہائی ز ہریلا شخص ٹی راجہ سنگھ بار بار الیکشن جیت لیتا ہے۔ اویسی اسے ہرا نہیں پاتے ہیں۔ گوشا محل کے بی ایل او نے اے آئی ایم آئی ایم کے کچھ مقامی لوگوں کو اس طرح فارم-۷ بھرے جانے کی اطلاع دے دی تو وہاں ایف آئی آر بھی ہوگئی لیکن چار مینار حلقہ کے مسلم ووٹرس کے نام کٹ گئے کسی بھی ریاست میں مسلم ووٹ کاٹے جانے کے معاملے میں اسدالدین اویسی کی زبان تک نہیں کھلی کیونکہ مسلم ووٹ کاٹنے کا معاملہ اویسی کی نظر میں بے گانی شادی ہے۔ مسلمان تو ان کے اپنے تبھی ہوتے ہیں جب ان کے کچھ ووٹ کٹوا کر یہ اپنے آقا مودی اور امت شاہ کو فائدہ پہونچانے کا کام کرتے ہیں۔ دو اکتوبر سے دہلی میں جتنی تنظیمیں اور جتنے لوگ مسلم ووٹوں کو بچوانے میں نکلے مسلمانوں کو ان کا شکر گزار ہونا چاہئیے اور اویسی کو اپنے علاقوں میں گھسنے نہیں دینا چاہئیے۔


اویسی نے بہار کے سیمانچل علاقہ کی پانچ سیٹیں جیت لیں کیونکہ ان سبھی سیٹوں پر مسلمانوں کی اکثریت ہے اور وہاں کے مسلمان جذبات میں بہہ گئے۔ مسلمانوں کو بے وقوف بنا کر اویسی نے بہار میں جیتیں تو صرف پانچ سیٹیں لیکن ان کی وجہ سے ستائیس سیٹیں آر جے ڈی اور کانگریس ہار گئیں نتیجہ یہ ہواکہ بہار اسمبلی میں بی جے پی، جنتا دل یونائیٹڈ اور انڈیا گٹھ بندھن کی سیٹوں کا نمبر ایسا بگڑا کہ اگر نتیش کمار اب الگ بھی ہونا چاہیں تو متبادل سرکار نہیں بن سکتی۔ اس طرح اویسی کی حرکت سے بہار میں پہلی بار بی جے پی کی سرکار بن گئی۔ سرکار بنتے ہی بہار میں بھی اترپردیش، ایم پی اور راجستھان اور اتراکھنڈ کی طرح مسلمانوں پر مظالم شروع ہوگئے اب اویسی انہیں بچانے کے لئے دور دور تک نظر نہیں آرہے ہیں۔
اترپردیش میں دس سال کے یوگی راج کے دوران ایسا کوئی بھی ظلم نہیں ہے جو مسلمانوں کے خلاف نہ ہو چکا ہو۔ انکاؤنٹر، جھوٹے معاملات میں این ایس اے اور گھروں پر بلڈوزر چلنا عام بات ہوگئی ہے۔ ریاست میں ڈھائی درجن مساجد بلڈوزر کے ذریعہ گرائی جاچکی ہیں۔ درجنوں مساجد پر سرکار کی نظر ہے۔ اگر تیسری بار بی جے پی سرکا ر آگئی تو یوپی میں مسلمانوں کا رہ پانا مشکل ہو جائے گا۔یوپی میں یوگی نے مساجد گروائی ہوں یا مسلمانوں کو جھوٹے معاملات میں این ایس اے میں پھنسایا گیا ہو اویسی کبھی کہیںنظر نہیں آئے۔ وہ خود بیرسٹر ہیں، کروڑوں روپئے کا چندہ اکٹھا کرچکے ہیں لیکن کسی ایک بھی معاملے میں انہوں نے سپریم کورٹ میں دستک نہیں دی سیکڑوں سال پرانی مسجد سہارن پور میں گرادی گئی اویسی وہاں بھی نہیں پہونچے۔


اویسی کہتے ہیں کہ وہ بی جے پی کو ہرانے کے لئے اترپردیش میں گھوم رہے ہیں اگر ریاست کے سبھی بیس فیصد مسلمان ان کی پارٹی کوووٹ دے دیں تب بھی وہ ایک بھی سیٹ نہ تو جیت سکتے ہیں اورنہ ہی بی جے پی کو ہرا سکتے ہیں، ہاں انڈیا گٹھ بندھن کی کچھ سیٹیں ہروا کر اپنےآقاؤں یعنی نریندر مودی اور امت شاہ کی خواہش ضرور پوری کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں لیکن ان کے قول و فعل میں کوئی رشتہ نہیں ہے صرف اور صرف جھوٹ بولتے ہیں کہتے ہیں کہ بی جے پی کو ہرانا ہے کس کے ووٹ سے ہرائیں گے ابھی تک انہوں نے مراد آباد، میرٹھ، بہرائچ، شراوستی، اعظم گڑھ وغیرہ کے انہیں حلقوں میں میٹنگیں کرنے کا کام کیا ہے جہاں سماج وادی پارٹی کے ممبران اسمبلی ہیں ایک بھی بی جے پی ممبر اسمبلی کے حلقہ میں نہیں گئے ہیں ان کے نشانے پر لوک سبھا ممبر اقراء حسن، ان کے ایم ایل اے بھائی ناہید حسن، میرٹھ کے مسلم ممبر اسمبلی بھی ہیں۔ ہر جگہ ان کے دورے کے پروگرام ہیں۔ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان کا حق دلانا ہے، بی جے پی سرکار بنوا کر وہ مسلمانوں کو ان کا حق کیسے دلائیں گے اس کا جواب ان کے پاس نہیں ہے۔ وہ پوری طرح منافقت پر اترے ہوئے ہیں۔ سرعام جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسلمان دری نہیں بچھائے گا وہ بتائیں کہ کہاں کے مسلمان دری بچھانے کا کام کررہے ہیں۔ وہ یہ بھی واضح نہیں کرتے کہ مسلمانوں کو ان کا کون سا حق دلائیں گے؟