سی اے اے-این آر سی تنازعے کے بعد حکومت کی نئی قانون سازی نے قانونی شناخت اور شہری دستاویزات پر ایک بار پھر چھیڑ دی بحث

/آر۔ سوریہ مورتی
نئی دہلی
ترمیمی) قانون (سی اے اے) اور مجوزہ قومی رجسٹر برائے شہری ( این آر سی) کے گرد اٹھنے والے ملک گیر تنازعے کے تقریباً سات برس بعد مرکزی حکومت ایک بار پھر ایسا قانون لے کر آئی ہے جس نے پیدائش کے سرٹیفکیٹ، قانونی شناخت اور شہری دستاویزات سے متعلق خدشات کو تازہ کر دیا ہے۔ لوک سبھا میں پیش کیے گئے رجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس (ترمیمی) بل، 2026 میں پیدائش اور اموات کے تاخیر سے اندراج کے لیے زیادہ سخت تصدیقی نظام تجویز کیا گیا ہے۔ حکومت اسے شہری ریکارڈ کو محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانے کی کوشش قرار دے رہی ہے، جبکہ قانونی ماہرین اور شہری حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات محض انتظامی اصلاحات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ قانونی شناخت، سرکاری سہولتوں تک رسائی اور دستاویزی شمولیت کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے سکتے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے لوک سبھا میں پیش کیے گئے رجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس (ترمیمی) بل، 2026 کا مقصد پیدائش اور اموات کے تاخیر سے اندراج کے قواعد کو مزید سخت بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شہری رجسٹریشن کے نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور فرضی اندراجات روکنے کے لیے سخت جانچ ضروری ہے۔
اگرچہ حکومت اسے محض ایک انتظامی اصلاح قرار دے رہی ہے، لیکن قانونی ماہرین اور شہری حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے اثرات صرف بلدیاتی ریکارڈ تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کے مطابق پیدائش کا سرٹیفکیٹ اب صرف ایک شہری دستاویز نہیں بلکہ قانونی شناخت کا بنیادی ثبوت بنتا جا رہا ہے، اور ایسے میں اندراج کے عمل کو مزید سخت بنانے سے ملک کے غریب، محروم اور حاشیے پر رہنے والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
تاخیر سے اندراج کے لیے دو مرحلوں پر منظوری لازمی
مجوزہ ترمیم رجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس ایکٹ، 1969 کی دفعہ 13 میں تبدیلی کرتی ہے اور تاخیر سے ہونے والے اندراجات کے لیے مرحلہ وار منظوری کا نظام متعارف کراتی ہے۔
بل کے مطابق اگر پیدائش یا موت کا اندراج ایک سال بعد لیکن دو سال کے اندر کرایا جاتا ہے تو اس کے لیے ضلع مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا ضلع مجسٹریٹ کے مجاز ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی منظوری درکار ہوگی۔
اگر اندراج دو سال سے زیادہ تاخیر سے کرایا جائے تو اسی نوعیت کی جانچ کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے حکم کے بغیر رجسٹریشن ممکن نہیں ہوگی۔
موجودہ قانون میں ایک سال سے زیادہ تاخیر پر مجسٹریٹ کے حکم کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن دو سال اور کئی دہائیوں کی تاخیر کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی دو سطحی منظوری سے تاخیر سے ہونے والے اندراجات کی جانچ مزید مؤثر ہوگی اور بروقت رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
بل کے ساتھ پیش کیے گئے بیانِ اغراض و اسباب میں کہا گیا ہے کہ 2023 کی ترامیم کے بعد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے مشاورت کے نتیجے میں تاخیر سے اندراج کے ضوابط کو “مزید سخت” بنانے کی سفارش کی گئی۔
اس کے علاوہ بل میں منسوخ شدہ ضابطۂ فوجداری (CrPC) کی جگہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS)، 2023 کا حوالہ شامل کیا گیا ہے تاکہ قانون کو ملک کے نئے فوجداری قانونی ڈھانچے سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
پیدائش کا سرٹیفکیٹ اب شناخت کی بنیاد
حکومت کا استدلال ہے کہ آج پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ جدید حکمرانی کی بنیاد بن چکے ہیں۔
اس وقت پیدائش کا سرٹیفکیٹ اسکول میں داخلہ، پاسپورٹ، آدھار، سرکاری فلاحی اسکیموں، وراثت کے دعووں، ووٹر ریکارڈ اور متعدد دیگر سرکاری خدمات کے لیے بنیادی دستاویز کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
2023 کی ترامیم کے بعد پیدائش کے سرٹیفکیٹ کو تاریخ اور مقامِ پیدائش کے واحد سرکاری ثبوت کا درجہ بھی دیا جا چکا ہے۔ اسی لیے حکومت کا کہنا ہے کہ تاخیر سے ہونے والے اندراجات کی سخت جانچ فرضی شناخت، دوہری شناخت اور سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔
تاہم یہی بڑھتی ہوئی اہمیت اس بل کو سیاسی طور پر بھی حساس بنا دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جب پیدائش کا سرٹیفکیٹ تعلیم، صحت، مالی شمولیت اور فلاحی منصوبوں تک رسائی کی بنیادی شرط بنتا جا رہا ہے تو اضافی قانونی پیچیدگیاں شہریوں کے بنیادی حقوق پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔
CAA، NRC اور NPR کی بحث پھر موضوعِ گفتگو
یہ بل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک ابھی تک شہریت (ترمیمی) قانون (CAA)، قومی رجسٹر برائے شہری (NRC) اور قومی آبادی رجسٹر (NPR) سے متعلق تنازعے کو فراموش نہیں کر سکا۔
دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ سے CAA کی منظوری کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا تھا۔ مخالفین کا کہنا تھا کہ اگر اسے ملک گیر NRC اور NPR کے ساتھ نافذ کیا گیا تو لاکھوں افراد کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویزی ثبوت پیش کرنا پڑ سکتے ہیں۔
حکومت نے ان خدشات کو ہمیشہ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ CAA صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئے مذہبی اقلیتوں کے لیے شہریت کا تیز رفتار راستہ فراہم کرتا ہے، NPR مردم شماری کے عمل کا معمول کا حصہ ہے، جبکہ ملک گیر NRC نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اس کے باوجود احتجاج نے ایک بنیادی مسئلے کو اجاگر کیا کہ ہندوستان میں برسوں تک لاکھوں افراد کی پیدائش کا اندراج ہی نہیں ہو سکا تھا۔
مظاہرین کا مؤقف تھا کہ مہاجر مزدور، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد، بے گھر شہری، قبائلی برادریاں، بے دخل آبادی اور دیہی خاندان اکثر اپنی غفلت سے نہیں بلکہ انتظامی ناکامیوں کی وجہ سے ضروری دستاویزات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگوں کے لیے برسوں بعد پیدائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا آج بھی ایک پیچیدہ اور طویل سرکاری عمل ہے۔
اسی پس منظر میں اس نئے بل کو صرف انتظامی ترمیم کے بجائے ریاست کے دستاویزی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ بل میں CAA، NRC یا NPR کا براہِ راست کوئی ذکر نہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ جب پیدائش کا سرٹیفکیٹ بنیادی شناختی دستاویز بنتا جا رہا ہے تو تاخیر سے رجسٹریشن کے عمل کو مزید سخت بنانا لازماً زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
رسائی یا سخت ضابطے؟
پالیسی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ شہری ریکارڈ کی ساکھ بہتر بنانا ضروری ہے۔
ڈیجیٹل نظام، آن لائن رجسٹریشن اور ادارہ جاتی زچگی میں اضافے کے باعث گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں پیدائش کے اندراج کی شرح میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اس کے باوجود دور دراز دیہات، شورش زدہ علاقوں، قبائلی اضلاع اور مہاجر آبادی میں تاخیر سے رجسٹریشن آج بھی عام ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر معاملات میں تاخیر کی وجہ دھوکہ دہی نہیں بلکہ غربت، ناخواندگی، جغرافیائی دشواریاں، آگاہی کی کمی اور انتظامی خامیاں ہوتی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق دو سال کے بعد رجسٹریشن کے لیے عدالتی منظوری لازمی ہونے سے درخواست گزاروں پر اضافی اخراجات، وقت اور غیر یقینی صورتحال کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ اس سے پہلے ہی بوجھ تلے دبی عدالتی مشینری پر بھی مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، اگر اس کے ساتھ آسان ڈیجیٹل تصدیق اور مقررہ وقت میں فیصلے کا نظام نہ بنایا گیا۔
ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ بل میں ان افراد کے لیے کوئی خصوصی انتظام نہیں کیا گیا جن کی رجسٹریشن ان کے اختیار سے باہر وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہوئی ہو۔ نہ ہی دستاویزی تقاضوں کو آسان بنانے یا شکایات کے ازالے کا کوئی مؤثر طریقہ تجویز کیا گیا ہے۔
بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان ترامیم کے لیے ہندوستان کے کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے کسی اضافی مالی بوجھ کی ضرورت نہیں ہوگی، یعنی موجودہ انتظامی ڈھانچہ ہی نئی ذمہ داریاں سنبھالے گا۔
دیانت دار نظام اور سب کی شمولیت کے درمیان توازن
یہ بل حکومت کی وسیع تر ڈیجیٹل گورننس پالیسی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کے تحت مستند شہری رجسٹریشن کا ڈیٹا فلاحی اسکیموں، آبادی کی منصوبہ بندی اور مختلف سرکاری پلیٹ فارمز پر شناخت کی تصدیق کی بنیاد بنتا جا رہا ہے۔
فرضی رجسٹریشن روکنے اور سرکاری ریکارڈ کی ساکھ مضبوط بنانے کی ضرورت سے شاید ہی کوئی اختلاف کرتا ہو۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا سخت تصدیقی نظام اور ہر شہری کو قانونی شناخت تک آسان اور مساوی رسائی، دونوں مقاصد ایک ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں لاکھوں افراد کے لیے تاخیر سے پیدائش کا اندراج کسی دھوکہ دہی کا نتیجہ نہیں بلکہ غربت، نقل مکانی، جغرافیائی مشکلات اور انتظامی ناکامیوں کا عکس ہے۔ اگر ان زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو سخت ضابطے دستاویزی خلا کو کم کرنے کے بجائے مزید گہرا کر سکتے ہیں۔
پارلیمنٹ میں اس بل پر ہونے والی بحث اس لیے صرف پیدائش اور اموات کے اندراج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس بڑے سوال پر بھی مرکوز ہوگی جو CAA احتجاج کے بعد سے ہندوستان کی شناختی پالیسی کا اہم موضوع بنا ہوا ہے—ایک ایسا قابلِ اعتماد قومی دستاویزی نظام کیسے قائم کیا جائے جو مضبوط بھی ہو اور کسی شہری کو پیچیدہ سرکاری کارروائیوں کی وجہ سے قانونی شناخت سے محروم بھی نہ کرے۔
ایسے وقت میں جب پیدائش کا سرٹیفکیٹ شہریت سے متعلق دستاویزات، سرکاری خدمات اور فلاحی اسکیموں تک رسائی کا بنیادی ذریعہ بنتا جا رہا ہے، اصل چیلنج صرف بروقت پیدائش کا اندراج یقینی بنانا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ انتظامی سختی کی قیمت ان شہریوں کو خارج کرنے کی صورت میں ادا نہ کرنی پڑے جو تاریخی طور پر سرکاری ریکارڈ کا حصہ بننے کے لیے سب سے زیادہ جدوجہد کرتے رہے ہیں۔
