حکومت کی وضاحت کے بعد شہریت اور شناختی دستاویزات پر ملک گیر بحث

عندلیب اختر
نئی دہلی: وزارتِ خارجہ کی ایک وضاحت نے ملک بھر میں شہریت، شناخت اور سرکاری دستاویزات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ برسوں سے عام تاثر یہ رہا ہے کہ ہندوستانی پاسپورٹ کسی فرد کی ہندوستانی شہریت کا سب سے مضبوط ثبوت ہے، لیکن حکومت نے واضح کیا ہے کہ قانونی طور پر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں بلکہ صرف ایک سفری دستاویز (Travel Document) ہے۔ اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں، قانونی ماہرین، سابق سفارت کاروں اور سوشل میڈیا صارفین کے درمیان شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں تو پھر ہندوستانی شہری اپنی شہریت کس دستاویز کے ذریعے ثابت کریں گے؟
حکومت کا مؤقف کیا ہے؟
وزارتِ خارجہ کے مطابق پاسپورٹ کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سفر کو ممکن بنانا اور بیرونِ ملک کسی فرد کی قومی شناخت(Nationality)کی تصدیق کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ پاسپورٹ ایکٹ 1967 کے تحت جاری کیا جاتا ہے، جبکہ شہریت کا تعین شہریت ایکٹ 1955 کے تحت ہوتا ہے۔ اسی لیے دونوں کی قانونی حیثیت الگ الگ ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے مکمل جانچ پڑتال، دستاویزات کی تصدیق اور پولیس ویری فکیشن کی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود پاسپورٹ کو شہریت کا حتمی اور فیصلہ کن ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
تنازع کیوں کھڑا ہوا؟
حکومت کے اس مؤقف کے بعد سوشل میڈیا پر سوالات کی بھرمار ہو گئی۔ صارفین نے پوچھا کہ اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں تو پھر حکومت اتنی سخت جانچ کے بعد اسے جاری کیوں کرتی ہے؟
معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے حکومت کے مؤقف کو”غیر منطقی”قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت ایسے افراد کو بھی پاسپورٹ جاری کرتی ہے جن کے ہندوستانی شہری ہونے پر اسے مکمل یقین نہ ہو؟
متعدد سیاسی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر سوالات اٹھائے۔ راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے پوچھا کہ جب آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور اب پاسپورٹ کو بھی شہریت کا قطعی ثبوت نہیں مانا جا رہا تو پھر شہریوں کے پاس آخر کون سی دستاویز باقی رہ جاتی ہے؟
قانونی حقیقت کیا ہے؟
قانونی ماہرین کے مطابق حکومت کا مؤقف تکنیکی اعتبار سے درست ہے۔ پاسپورٹ اور شہریت دو مختلف قانونی تصورات ہیں۔ پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے جبکہ شہریت کسی فرد کی آئینی اور قانونی حیثیت کو ظاہر کرتی ہے۔
حکومت نے اس سلسلے میں بمبئی ہائی کورٹ کے2013کے ایک فیصلے کا حوالہ بھی دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ صرف پاسپورٹ کا حامل ہونا کسی شخص کی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
سابق خارجہ سکریٹری نروپما راؤ نے بھی اس تنازع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی فہم اور قانونی تشریح میں فرق ہے۔ ان کے مطابق ایک قانون دستاویز کو منظم کرتا ہے جبکہ دوسرا شہریت کی قانونی حیثیت کا تعین کرتا ہے۔
پھر بھی پاسپورٹ سب سے معتبر دستاویز کیوں؟
اگرچہ قانونی اعتبار سے پاسپورٹ کو شہریت کا حتمی ثبوت نہیں مانا جاتا، لیکن عملی طور پر یہ سب سے معتبر سرکاری دستاویزات میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ویزا، امیگریشن، بینکنگ اور شناختی تصدیق کے لیے پاسپورٹ کو وسیع پیمانے پر قبول کیا جاتا ہے۔
قانونی ماہرین یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ پاسپورٹ ایکٹ کی دفعہ6(2)کے مطابق اگر کوئی شخص ہندوستانی شہری نہ ہو تو اس کی پاسپورٹ درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے حکومت کو درخواست گزار کی شہریت کے بارے میں مطمئن ہونا پڑتا ہے۔
اسی لیے بہت سے ماہرین پاسپورٹ کو شہریت کا مضبوط ثبوت قرار دیتے ہیں، اگرچہ کسی قانونی تنازع میں یہ آخری فیصلہ کن دستاویز نہ ہو۔
شناختی دستاویزات کا الجھا ہوا نظام
اس تنازع نے ہندوستان کے شناختی نظام کی پیچیدگیوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ آدھار کارڈ شناخت کا ثبوت ہے لیکن شہریت کا نہیں۔ ووٹر شناختی کارڈ ووٹ دینے کے حق کو ظاہر کرتا ہے لیکن اس کی حیثیت پر بھی وقتاً فوقتاً سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے کی اجازت دیتا ہے مگر شہریت ثابت نہیں کرتا۔
ایسے میں عام شہریوں کے سامنے یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ آخر کون سی دستاویز ان کی ہندوستانی شہریت کو غیر مبہم طور پر ثابت کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہندوستان میں ایک”سرکلر ویری فکیشن سسٹم”وجود میں آ گیا ہے، جہاں ایک دستاویز حاصل کرنے کے لیے دوسری دستاویز درکار ہوتی ہے، جس سے مزید الجھن پیدا ہوتی ہے۔
شہریت کا اصل ثبوت کیا ہے؟
قانونی اعتبار سے پیدائش کا سرٹیفکیٹ (Birth Certificate) شہریت سے متعلق سب سے بنیادی دستاویز سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ بھی ہر صورت میں کافی نہیں۔
یکم جولائی1987کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو یہ بھی ثابت کرنا پڑ سکتا ہے کہ ان کی پیدائش کے وقت والدین میں سے کم از کم ایک ہندوستانی شہری تھا۔ جبکہ3دسمبر2004کے بعد پیدا ہونے والوں کے لیے بعض صورتوں میں دونوں والدین کی شہریت سے متعلق دستاویزات ضروری ہو سکتی ہیں۔
جن افراد نے رجسٹریشن یا نیچرلائزیشن کے ذریعے شہریت حاصل کی ہو، ان کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کردہ شہریت سرٹیفکیٹ سب سے اہم دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔
ای پاسپورٹ کی جانب تیزی سے بڑھتا ہندوستان
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ہندوستان جدید ای پاسپورٹ نظام کی طرف تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً 1.47 کروڑ ای پاسپورٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔
ان پاسپورٹس میں آر ایف آئی ڈی(RFID)چپ اور اینٹینا نصب ہوتا ہے، جس میں حاملِ پاسپورٹ کی ذاتی اور بائیومیٹرک معلومات محفوظ رہتی ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے جعلسازی کے امکانات کم ہوتے ہیں، سکیورٹی میں اضافہ ہوتا ہے اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر امیگریشن کا عمل تیز تر ہو جاتا ہے۔
فی الحال جاری کیے جانے والے تمام نئے پاسپورٹ چپ پر مبنی ای پاسپورٹ ہیں۔
بحث صرف پاسپورٹ تک محدود نہیں
پاسپورٹ سے متعلق اس تنازع نے دراصل ہندوستان کے شہریت اور شناختی نظام کے وسیع تر مسائل کو اجاگر کر دیا ہے۔ قانون چاہے پاسپورٹ کو صرف ایک سفری دستاویز قرار دے، لیکن عام ہندوستانی کے ذہن میں یہ اب بھی قومی شناخت اور شہریت کی سب سے مضبوط علامت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحث نے حکومت کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے:ملک کے کروڑوں شہریوں کو یہ واضح اور سادہ جواب کون دے گا کہ ہندوستانی شہریت کا حتمی اور عالمی طور پر قابلِ قبول ثبوت آخر کیا ہے؟
جب تک اس سوال کا واضح جواب سامنے نہیں آتا، پاسپورٹ پر چھڑی یہ بحث صرف قانونی موشگافیوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ شہریت، شناخت اور شہری حقوق سے متعلق بڑے سوالات کو بھی جنم دیتی رہے گی۔
