— عندلیب اختر / للت گَرگ
بھارتی معاشرہ اس وقت جس عبوری دور سے گزر رہا ہے، اس میں صرف معاشی، سیاسی یا تکنیکی تبدیلیاں ہی رونما نہیں ہو رہیں بلکہ انسانی رشتوں کی بنیاد بھی ایک گہرے بحران سے دوچار ہے۔ اعتماد، جو خاندان، سماج اور تہذیب کی سب سے مضبوط بنیاد سمجھا جاتا ہے، آہستہ آہستہ کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے چند واقعات نے اس تشویش کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ پونے کے قریب لوہ گڑھ قلعے سے اپنے منگیتر کیتن اگروال کو مبینہ طور پر دھکا دے کر ہلاک کرنے کے الزام میں سیا گوئل کی گرفتاری اور اس سے قبل میگھالیہ میں سہاگ رات کے سفر کے دوران اندور کے رہائشی راجا رگھوونشی کے مبینہ قتل، جس میں ان کی اہلیہ سونم رگھوونشی اور اس کے مبینہ عاشق کے ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے، محض مجرمانہ واقعات نہیں ہیں۔ یہ واقعات بھارتی معاشرے میں اعتماد، اخلاقیات اور باہمی رشتوں کی بدلتی ہوئی نوعیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
بھارتی ثقافت میں شادی صرف دو افراد کا ملاپ نہیں بلکہ دو خاندانوں، دو تہذیبوں اور دو طرزِ فکر کا مقدس بندھن سمجھی جاتی ہے۔ اسے سات جنموں کا رشتہ قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر شوہر، بیوی، منگیتر یا محبوب ایک دوسرے کو شریکِ حیات کے بجائے بوجھ یا رکاوٹ سمجھنے لگیں اور مسئلے کا حل قتل جیسے بھیانک جرم میں تلاش کریں تو یہ صرف ایک ذاتی سانحہ نہیں بلکہ سماجی شعور کے زوال کی علامت ہے۔
ان واقعات کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ قتل کے الزامات انہی افراد پر لگے جن پر مقتولین نے سب سے زیادہ اعتماد کیا تھا۔ کسی بھی تہذیب کی اصل طاقت اس کی عسکری یا معاشی قوت میں نہیں بلکہ اس کے رشتوں میں موجود اعتماد میں ہوتی ہے۔ جب یہی اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔ فطری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی نوجوان کو کوئی رشتہ قبول نہیں تھا تو کیا شادی سے انکار، منگنی ختم کرنا یا باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کرنا ممکن نہیں تھا؟ جدید معاشرہ فرد کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی آزادی دیتا ہے، پھر قتل
جیسی غیر انسانی سوچ کیوں پروان چڑھ رہی ہے؟

اس سوال کا جواب صرف پولیس یا عدالتیں نہیں دے سکتیں۔ اس پر سماجیات کے ماہرین، ماہرینِ نفسیات، ماہرینِ تعلیم، مذہبی رہنما اور خاندانی اداروں کو مشترکہ طور پر غور کرنا ہوگا۔ آج کا نوجوان روایتی اقدار اور جدید طرزِ زندگی کے درمیان شدید کشمکش کا شکار ہے۔ ایک طرف خاندان کی توقعات ہیں اور دوسری جانب ذاتی خواہشات۔ جب مکالمے کا فقدان ہوتا ہے تو یہی کشمکش ذہنی دباؤ، بغاوت اور بالآخر تشدد کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ملک نے شردھا واکر، نکّی یادو اور دیگر کئی شہروں میں محبت اور ازدواجی تعلقات سے جڑے بے رحمانہ قتل کے واقعات دیکھے ہیں۔ یہ تمام واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ محبت، شادی اور باہمی رشتوں کے حوالے سے بے یقینی اور عدم اعتماد بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ بحران نہ صرف مردوں بلکہ خواتین میں بھی تشدد آمیز رجحانات کی صورت میں نمایاں ہو رہا ہے۔
ڈیجیٹل دور نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے جہاں رابطوں کو آسان بنایا، وہیں بعض معاملات میں یہ دھوکہ دہی، سازش اور جرائم کے ہتھیار بھی بن گئے ہیں۔ ورچوئل دنیا میں قائم ہونے والے تعلقات اکثر حقیقی زندگی کی ذمہ داریوں، اخلاقی حدود اور سماجی تقاضوں سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صبر، برداشت، ایثار، وفاداری اور عہد کی پاسداری جیسی خاندانی اقدار بتدریج کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔
اسی تناظر میں نام نہاد”لو جہاد”اور فرضی یا مخفی شناخت کے ذریعے قائم کیے جانے والے تعلقات پر بھی وقتاً فوقتاً بحث ہوتی رہی ہے۔ اگر محبت یا شادی کو کسی کی شناخت چھپانے، مذہبی تبدیلی، معاشی استحصال یا جذباتی دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے صرف دو افراد ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ مختلف برادریوں کے درمیان بھی بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر تعلق شفافیت، آزادانہ رضامندی، مساوات اور دیانت داری پر قائم ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے کہ چند افراد کے جرائم کی بنیاد پر کسی پورے مذہب یا برادری کو موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گوناگونی، تکثیریت اور سماجی ہم آہنگی میں مضمر ہے۔ صدیوں سے مختلف مذاہب، ذاتوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ باہمی احترام اور اعتماد کے ساتھ یہاں رہتے آئے ہیں۔ اس لیے ہر جرم کی ذمہ داری صرف مجرم فرد پر عائد ہونی چاہیے، نہ کہ پوری برادری پر۔ محبت کے نام پر دھوکہ دہی کی مخالفت جتنی ضروری ہے، اتنا ہی ضروری سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا تحفظ بھی ہے۔
آج سب سے بڑا چیلنج خاندانی نظام کو دوبارہ مضبوط بنانا ہے۔ مشترکہ خاندانوں کے بکھراؤ، شہری طرزِ زندگی، تنہائی اور مصروفیات نے خاندانوں کے اندر مکالمے کو محدود کر دیا ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان جذباتی فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ بچوں کو مادی آسائشیں تو میسر ہیں، لیکن اخلاقی تربیت، جذباتی تحفظ اور خاندانی اقدار سے آراستہ ماحول کم ہوتا جا رہا ہے۔
اسکولوں اور جامعات کی ذمہ داری صرف روزگار فراہم کرنے والی تعلیم تک محدود نہیں رہ سکتی۔ انہیں زندگی گزارنے کی مہارت، اخلاقی تعلیم، جذباتی توازن، تعلقات کے بہتر انتظام اور خاندانی اقدار کو بھی نصاب اور تربیت کا حصہ بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ محبت ملکیت نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، رشتہ استعمال نہیں بلکہ عہد ہے، اور اختلاف کا حل تشدد نہیں بلکہ مکالمہ ہے۔
مذہبی اور روحانی اداروں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ تمام مذاہب محبت، رحم، سچائی، عدم تشدد اور بقائے باہمی کا درس دیتے ہیں۔ اگر یہ ادارے نوجوانوں کو انسانی اقدار، خود احتسابی، ضبطِ نفس اور مکالمے کی ثقافت سے جوڑ سکیں تو معاشرتی بگاڑ کی بہت سی صورتوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ آچاریہ تلسی، آچاریہ مہاپرگیہ، مہاتما گاندھی اور سوامی وویکانند جیسے مفکرین نے ہمیشہ کردار، اخلاق اور خود نظم و ضبط کو ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔
اعتماد کا بحران صرف ازدواجی یا عاشقانہ تعلقات تک محدود نہیں رہا۔ اسپتالوں، اسکولوں اور عوامی مقامات پر انتظامی غفلت کے باعث پیش آنے والے آتش زدگی اور دیگر حادثات میں معصوم جانوں کا ضیاع بھی عوام کے سرکاری اداروں پر اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی، مذہبی انتہاپسندی، فرضی شناخت پر مبنی تعلقات، محبت کے نام پر استحصال اور سماجی تقسیم بھی سماجی ہم آہنگی کو کمزور کر رہے ہیں۔ دوسری طرف مادہ پرستی، صارفیت اور اندھی مسابقت نے سادگی، ضبط، ایثار اور خاندانی وقار جیسی اقدار کو پسِ پشت دھکیل دیا ہے۔ شراب اور منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان نوجوان نسل کو خاندان اور معاشرے سے دور لے جا رہا ہے اور انہیں تشدد، جرائم اور بے حسی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
جب انسان اپنی خواہش، مفاد اور فوری لذت کو سب سے بڑی ترجیح بنا لیتا ہے تو رشتے عبادت یا ذمہ داری کے بجائے محض لین دین کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاندان، تعلیمی ادارے، مذہبی تنظیمیں، ذرائع ابلاغ اور حکومت سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انسانی اقدار، شفافیت، اخلاق، مکالمے اور باہمی احترام پر مبنی سماجی ثقافت کو دوبارہ فروغ دیں۔
پونے اور میگھالیہ کے یہ واقعات صرف ایک تنبیہ نہیں بلکہ اجتماعی احتساب کا موقع بھی ہیں۔ اگر آج ہم نے اعتماد کو بحال کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو رشتوں کا یہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ خاندانوں میں مکالمہ بڑھانا، نوجوانوں کو آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا شعور دینا، ڈیجیٹل دنیا کے محتاط استعمال کی تربیت دینا اور سماجی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
کسی بھی تہذیب کی شناخت اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی ترقی سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ اس کے لوگ ایک دوسرے پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔ اگر اعتماد ہی ختم ہو جائے تو معاشرے کی روح زخمی ہو جاتی ہے۔ اس لیے آج ہمارا سب سے بڑا قومی فرض یہی ہے کہ انسانی رشتوں میں اعتماد کو دوبارہ زندہ کیا جائے، انسانی حساسیت کو فروغ دیا جائے اور محبت، اعتماد اور سماجی ہم آہنگی کی ان روایات کو مضبوط بنایا جائے جنہوں نے صدیوں تک ہندوستانی معاشرے کو متحد رکھا۔
