
نمائندہ خصوصی|نئی دہلی
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر بھارتی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو اپنی تاریخی خارجہ پالیسی، اخلاقی اقدار اور عالمی انصاف کے اصولوں کی طرف واپس لوٹنا چاہیے۔
انڈین ایکسپریس میں شائع اپنے مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ بھارت ماضی میں نوآبادیاتی نظام کے خلاف یکجہتی، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی امن کے لیے دنیا بھر میں ایک نمایاں آواز رہا ہے، لیکن آج وہ غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی المیے پر خاموش نظر آتا ہے۔
انہوں نے لکھا، “بھارت تاریخی طور پر نوآبادیاتی یکجہتی، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی امن کے لیے اپنے عزم کی وجہ سے دنیا کے ممالک میں منفرد مقام رکھتا تھا، لیکن آج ہم غزہ اور مغربی کنارے میں عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی، گلوبل ساؤتھ کے عوام کی تکالیف اور انسانی وقار کی پامالی کے معاملے میں اپنی مسلسل بے حسی کی وجہ سے منفرد بن گئے ہیں۔”
سونیا گاندھی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ایک بار پھر اپنی “اخلاقی آواز” بلند کرنی چاہیے اور غزہ میں پیش آنے والے انسانی المیے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
انہوں نے اپنے مضمون میں کہا، “بھارت کو دوبارہ اپنی اخلاقی آواز تلاش کرنی ہوگی۔ ہم فلسطینی عوام کی تکالیف سے لاتعلق نہیں رہ سکتے اور نہ ہی غزہ میں جاری انسانی بحران کے سامنے خاموش رہ سکتے ہیں۔”
کانگریس رہنما نے یہ بھی کہا کہ موجودہ بھارتی مؤقف ملک کی دیرینہ خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر انصاف و امن کی حمایت کرنے والی روایت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق، بھارت کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور انسانی امداد کے اصولوں کی حمایت کرتے ہوئے امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
سونیا گاندھی کا یہ مضمون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی انسانی صورتِ حال پر عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے، اور اس سے اسرائیل-فلسطین تنازع پر بھارت کی پالیسی کے حوالے سے سیاسی بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔
