عالمی ادارہ⁦ ⁩صحت⁦(⁩ڈبلیو ایچ او⁦)⁩نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ پیدائشی جسمانی نقائص⁦ ⁩کی جلد تشخیص کے لیے نوزائیدہ بچوں کے طبی معائنوں کو وسعت دیں کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج سے لاکھوں بچوں کی زندگی کو تحفظ مل سکتا ہے اور عمر بھر کی معذوری سے بچاؤ ممکن ہے۔

پیدائشی نقائص کی جانچ، تشخیص اور علاج کی صلاحیت میں بہتری لانے سے متعلق⁦’⁩ڈبلیو ایچ او⁦’⁩کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد بیماریاں اور طبی مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا پیدائش کے فوراً بعد پتہ چل جائے تو ان کا کامیاب علاج ممکن ہے۔ ان میں پیدائشی ہائپوتھائیرائیڈزم، سِکل سیل، سماعت کی خرابی اور بعض میٹابولک امراض شامل ہیں۔ تاہم دنیا بھر میں لاکھوں بچوں میں ان کی بہت تاخیر سے تشخیص ہوتی ہے یا انہیں کبھی مناسب علاج میسر ہی نہیں آتا۔

ہر سال⁦80⁩لاکھ بچے پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جبکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی مجموعی اموات میں تقریباً⁦8⁩فیصد کی وجہ یہی نقائص بنتے ہیں۔ سنگین پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہونے والے تقریباً⁦90⁩فیصد بچوں کا تعلق کم اور متوسط آمدنی والے ممالک سے ہے جہاں طبی معائنے، تشخیص اور علاج کی سہولیات اب بھی محدود ہیں۔

پیدائشی نقائص سے بڑھتی اموات

رپورٹ کے مطابق دنیا کے کئی خطوں میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں پیدائشی نقائص کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔⁦2000⁩سے⁦2023⁩کے درمیان ذیلی صحارا افریقہ کے ممالک میں بچوں کی اموات میں پیدائشی نقائص کا تناسب ایک فیصد سے بڑھ کر⁦4⁩فیصد ہو گیا تھا جبکہ جنوبی ایشیا میں یہ شرح⁦3⁩فیصد سے بڑھ کر⁦11⁩فیصد تک پہنچ گئی۔

ڈبلیو ایچ او کی یہ رپورٹ بالخصوص کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کی وزارت ہائے صحت کی مدد کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ وہ اپنے قومی حالات اور ضروریات کے مطابق ان بیماریوں کا انتخاب کر سکیں جن کی نوزائیدہ بچوں میں جانچ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بعض ممالک میں تمام نوزائیدہ بچوں کی⁦50⁩سے زیادہ بیماریوں کے لیے طبی معائنے کیے جاتے ہیں جبکہ بعض ممالک میں ایک بھی بیماری کی جانچ سے متعلق سہولت دستیاب نہیں ہے۔

کامیاب اقدامات کی مثالیں

رپورٹ میں افریقہ، ایشیا اور امریکہ کے کئی ممالک کی مثالیں پیش کی گئی ہیں جہاں نوزائیدہ بچوں کی طبی جانچ کے پروگرام قومی صحت کے نظام کا موثر حصہ بن چکے ہیں۔

  • ارجنٹائن میں نوزائیدہ بچوں کی طبی جانچ کی شرح تقریباً⁦100⁩فیصد تک پہنچا دی گئی ہے۔
  • برازیل میں متعدد جان لیوا بیماریوں کے لیے جانچ کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔
  • مصر میں نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے لائحہ عمل کے تحت سماعت کی خرابی اور پیدائشی ہائپوتھائیرائیڈزم کی جانچ کو بنیادی صحت کی خدمات کا حصہ بنایا گیا ہے۔
  • انڈیا مین قومی طبی پروگرام کے تحت گزشتہ تین برس میں دو کروڑ⁦80⁩لاکھ سے زیادہ بچوں کے طبی معائنے کیے گئے۔
  • فلپائن کے⁦24⁩ہسپتالوں میں آزمائشی بنیاد پر شروع ہونے والا پروگرام اب ملک بھر کے⁦7,000⁩سے زیادہ طبی مراکز تک پھیل چکا ہے۔
  • سری لنکا میں نوزائیدہ بچوں کی جانچ معمول کی طبی خدمات کا حصہ ہے۔ تقریباً⁦80⁩فیصد بچوں کی پیدائشی ہائپوتھائیرائیڈزم کے لیے جانچ کی جاتی ہے۔
  • یوگنڈا میں سِکل سیل بیماری سے بری طرح متاثرہ علاقوں میں سرکاری پروگرام کے ذریعے متاثرہ بچوں کی فوری تشخیص کا اہتمام کیا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی سفارشات

‘ڈبلیو ایچ او⁦’⁩نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نوزائیدہ بچوں کی طبی جانچ، تشخیص اور علاج کو معمول کی طبی خدمات اور علاج معالجے تک مساوی رسائی کے پروگراموں کا حصہ بنائیں۔

ادارے کے مطابق، اس ضمن میں ایسی بیماریوں سے آغاز کیا جانا چاہیے جو متعلقہ ملک⁦ ⁩میں عام ہوں اور جن کی تشخیص و علاج مقامی طبی نظام میں موثر اور عملی طور پر ممکن ہو۔

ادارے نے تمام ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کم از کم ایک ایسی بیماری کی جانچ سے اس کام کا آغاز کریں جو ان کے لیے ترجیحی اہمیت رکھتی ہو اور پھر اپنی استعداد میں اضافے کے ساتھ اس پروگرام کو بتدریج وسعت دیں۔

‘ڈبلیو ایچ او⁦’⁩کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ کسی بھی بچے کو صرف اس وجہ سے صحت مند مستقبل کے موقع سے محروم نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی پیدائشی بیماری کا بروقت اندازہ نہ لگایا جا سکا ہو۔

UN NEWS