مردم شماری مکمل ہونے تک کمیٹی کا کام مؤخر کیا جائے⁦:⁩آلیفا

نئی دہلیAMN

نیشنل الائنس آف پیپلز موومنٹس⁦(NAPM)⁩سے وابستہ آل انڈیا فیمینسٹ الائنس⁦(ALIFA)⁩نے مرکزی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی ہائی لیول کمیٹی برائے آبادیاتی تبدیلی (High-Level Committee on Demographic Change) پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شرائطِ کار (Terms of Reference) پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ آبادی سے متعلق کسی بھی مطالعے کو آئینی انصاف، سائنسی شواہد اور انسانی حقوق کی بنیاد پر انجام دیا جانا چاہیے، نہ کہ کسی مخصوص طبقے یا برادری کے بارے میں تعصبات کی بنیاد پر۔

بدھ کو جاری ایک بیان میں آلیفا نے کہا کہ کمیٹی کی شرائطِ کار آبادیاتی تبدیلی جیسے وسیع اور پیچیدہ موضوع کو تقریباً مکمل طور پر ’’غیر قانونی ہجرت‘‘ اور ’’غیر قانونی تارکینِ وطن‘‘ کے مسئلے تک محدود کرتی نظر آتی ہیں، جبکہ ملک کو درپیش دیگر اہم آبادیاتی چیلنجز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے⁦26⁩مئی⁦2026⁩کو اس کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ ریٹائرڈ جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی میں سابق آئی اے ایس افسر درگا شنکر مشرا، سابق آئی پی ایس افسر بالاجی سریواستو، ماہرِ معاشیات ڈاکٹر شامیکا روی اور مردم شماری کمشنر کو بطور رکن شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی وزیر اعظم کی جانب سے⁦15⁩اگست⁦2025⁩کو اعلان کردہ ’’ہائی پاورڈ ڈیموگرافی مشن‘‘ کے تحت تشکیل دی گئی ہے۔

آلیفا کے مطابق کمیٹی کی آٹھ شرائطِ کار میں سے سات میں ’’غیر قانونی ہجرت‘‘ یا ’’غیر قانونی تارکینِ وطن‘‘ کا بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ تنظیم نے نشاندہی کی کہ آبادیات⁦(Demography)⁩ایک وسیع علمی شعبہ ہے جس میں شرحِ پیدائش، شرحِ اموات، شرحِ افزائشِ نسل، عمر رسیدہ آبادی، داخلی و خارجی نقل مکانی، شہری کاری، صنفی تناسب، خاندانی ڈھانچے اور علاقائی آبادیاتی تفاوت جیسے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک آزاد اور غیر جانبدار کمیٹی کو ان تمام عوامل اور ان کے سماجی، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی اثرات کا جائزہ لینا چاہیے تھا، لیکن موجودہ شرائطِ کار آبادیاتی تبدیلی کے سوال کو سرحدی انتظام، شناختی نظام، حراست اور ملک بدری جیسے موضوعات تک محدود کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

تنظیم نے خاص طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ کمیٹی کو مذہبی اور سماجی برادریوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کا تجزیہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی ’’آبادیاتی عدم توازن‘‘ اور ’’غیر قانونی ہجرت‘‘ جیسے تصورات کو بھی بار بار جوڑا جا رہا ہے۔ آلیفا کا کہنا ہے کہ اس طرزِ فکر سے اقلیتی برادریوں کے خلاف شکوک و شبہات کو فروغ مل سکتا ہے اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تنظیم نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ آبادی کی ساخت سے متعلق خدشات اکثر خواتین کے تولیدی حقوق اور جسمانی خودمختاری پر قدغنوں، نیز اقلیتوں اور حاشیے پر موجود طبقات کے خلاف امتیازی رویوں کا سبب بنتے رہے ہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حالیہ خصوصی نظرثانی⁦(SIR)⁩مشق میں ’’غیر قانونی ہجرت‘‘ کے تناظر میں خواتین اور مسلم ووٹروں کے نام ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ تعداد میں حذف کیے گئے۔

آلیفا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کمیٹی کے مقاصد اور شرائطِ کار کا جامع جائزہ لیا جائے اور کم از کم جاری مردم شماری مکمل ہونے تک کمیٹی کے کام کو مؤخر رکھا جائے۔ تنظیم کے مطابق ایک شفاف، جامع اور قابلِ اعتماد مردم شماری ہی ملک میں رونما ہونے والی پیچیدہ آبادیاتی تبدیلیوں کی درست تصویر پیش کر سکتی ہے۔

تنظیم نے کہا کہ مردم شماری کے مستند اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی جانے والی پالیسیاں حکومت کو آبادیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دیں گی، جبکہ مناسب اعداد و شمار کے بغیر کیے گئے مطالعے سے غلط نتائج اور پالیسی سازی میں خامیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

آلیفا نے حکومت پر زور دیا کہ وہ آبادیاتی مستقبل کو خوف اور شکوک کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اسے انصاف، مساوات اور انسانی ترقی کے تناظر میں سمجھے، اور عوامی پالیسیوں کو آئینی اقدار، مضبوط شواہد اور انسانی حقوق کے احترام کی بنیاد پر تشکیل دے۔