نئی دہلی

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کا ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس میں ملک و ملت کی موجودہ صورتحال، اقلیتوں کے حقوق کی پامالی، اور آئینی اقدار کے تحفظ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کے بعد منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس کو بورڈ کے قومی ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے خطاب کیا اور مجلس عاملہ میں لیے گئے دور رس فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کیا ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس نے بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد⁦(⁩لنچنگ⁦)⁩، مساجد و مدارس کے خلاف یکطرفہ انہدامی کارروائیوں، اور مسلم آبادیوں پر بلڈوزر کے بے جا استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نفرت، تعصب اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی فضا کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت پروان چڑھایا جا رہا ہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس ماحول کو ہوا دینے میں خود حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اور ذمہ داران پیش پیش دکھائی دیتے ہیں، جبکہ اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کوئی مؤثر قانونی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ انہوں نے سیکولر سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ مسلمان محض ایک ووٹ بینک بن کر رہ گئے ہیں ۔

ڈاکٹر الیاس نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے کمال مولی مسجد⁦(⁩بھوج شالہ⁦)⁩سے متعلق حالیہ فیصلے کو تاریخی شواہد، ریونیو ریکارڈ اور صدیوں پر محیط مسلم عبادتی روایت کے سراسر منافی قرار دیا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ⁦1991⁩کے عبادتی مقامات کے تحفظ کے قانون (Places of Worship Act) کی روح سے بھی متصادم ہے ۔ بورڈ نے کمال مولی مسجد کمیٹی کی جانب سے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا خیر مقدم کیا اور اعلان کیا کہ بورڈ اس قانونی جدوجہد میں مسجد کمیٹی کی ہر ممکن مدد کرے گا ۔

وندے ماترم کو اسکولوں اور مدارس میں لازمی قرار دینے کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے قومی ترجمان نے اسے دستور ہند کی دفعہ 25 (مذہبی آزادی⁦)⁩کے منافی قرار دیا ۔ انہوں نے مغربی بنگال حکومت کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی جس کے تحت مدارس میں وندے ماترم لازمی کیا گیا تھا، اور اسے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے ’بیجوئے ایمینوئل بنام ریاست کیرالا (1986)‘ کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ۔ بورڈ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے اس عبوری فیصلے کا خیر مقدم کیا جس میں مدارس میں اس لازمی حکم پر روک لگا دی گئی ہے ۔ ڈاکٹر الیاس نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وندے ماترم کے بعض مضامین مسلمانوں کے عقیدہ توحید سے متصادم ہیں، اس لیے مسلمانوں کے لیے اسے پڑھنا شرعاً درست نہیں ۔ بورڈ نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ رواداری یا حب الوطنی کے نام پر اپنے ایمان و عقیدے پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں ۔

یونیفارم سول کوڈ⁦(UCC)⁩کے نفاذ کے حوالے سے ڈاکٹر الیاس نے خبردار کیا کہ اتراکھنڈ اور گجرات کے بعد اب آسام، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں بھی اس کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ یو سی سی دستور کے Directive Principles میں شامل ایک غیر لازمی رہنما اصول ہے، کوئی ایسا حکم نہیں جسے عدالتیں نافذ کرنے کی پابند ہوں ۔ اس کا جبری نفاذ مذہبی آزادی اور ملک کے کثرت پسند و متنوع سماجی ڈھانچے کے خلاف ہے ۔ بورڈ نے جس طرح اتراکھنڈ کے قانون کو نینی تال ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، اسی طرح دیگر ریاستوں میں بھی قانونی چارہ جوئی کی جائے گی ۔

آخر میں ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس نے ایک بڑے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو سماجی و سیاسی طور پر حاشیے پر دھکیلنے، نفرت کے فروغ اور مساجد و مدارس کے انہدام کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ملک کے تمام انصاف پسند، جمہوریت پسند اور امن پسند عناصر کو ساتھ لے کر ایک ملک گیر تحریک شروع کرے گا ۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ’مجلس عمل‘ (Action Committee) تشکیل دی جا رہی ہے ۔ واضح رہے کہ اس اہم اجلاس کی صدارت صدر بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی تھی ۔