Last Updated on September 24, 2025 12:57 am by INDIAN AWAAZ

جدہ | منگل

سعودی عرب کے سرکاری میڈیا الاخباریہ کے مطابق منگل کو شیخ عبدالعزیز آل الشیخ، سعودی عرب کے مفتیٔ اعظم اور ہیئت کبار العلماء (کونسل آف سینیئر اسکالرز) کے سربراہ، انتقال کر گئے۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ آج ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی جائے گی۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہدایت دی ہے کہ نمازِ عصر کے بعد ان کے لیے غائبانہ نماز جنازہ مکہ مکرمہ کی مسجدالحرام، مدینہ منورہ کی مسجد نبوی اور مملکت کی تمام مساجد میں ادا کی جائے۔

شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ 30 نومبر 1943 کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ وہ سعودی عرب کے مفتیٔ اعظم اور ہیئت کبار علماء (کونسل آف سینیئر اسکالرز) کے سربراہ تھے۔ ان کا تعلق سعودی عرب کے ایک اہم مذہبی خاندان آل الشیخ سے تھا، جو محمد بن عبدالوهاب کے نسل سے ہیں۔

شیخ آل الشیخ کو 1999 میں مفتیٔ اعظم مقرر کیا گیا تھا۔ وہ مملکت کے سب سے بڑے دینی منصب پر فائز رہے، جہاں وہ شریعت کی تشریح کرتے اور فتویٰ جات جاری کرتے تھے جو قانونی، سماجی اور مذہبی معاملات پر نہایت اثرانداز سمجھے جاتے تھے۔

تقریباً تین دہائیوں پر محیط ان کی قیادت کے دوران سعودی عرب میں مذہب، معاشرے اور جدیدیت سے متعلق اہم مباحث ہوئے۔ ان کے انتقال کو مملکت کی دینی قیادت کے ایک دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

شاہی دیوان نے سعودی عوام اور امتِ مسلمہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

شیخ آل الشیخ کا تعلق سعودی عرب کے معروف دینی خاندان آل الشیخ سے تھا، جو محمد بن عبدالوهاب کے علمی ورثے سے جڑا ہوا ہے۔ بچپن میں ہی ان کی بینائی متاثر ہوئی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے دینی علوم میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے قرآن حفظ کیا، امام الدعوہ کے ادارے میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی میں تدریس کی، جہاں وہ کئی دہائیوں تک طلبہ کو شریعت اور فقہ کی تعلیم دیتے رہے۔

شیخ عبدالعزیز کو 1999 میں سعودی عرب کا مفتیٔ اعظم مقرر کیا گیا، اور وہ اس منصب پر شیخ عبدالعزیز بن باز کے بعد فائز ہوئے۔ اس عہدے میں انہوں نے نہ صرف قانونی اور مذہبی معاملات میں فتویٰ جات جاری کیے بلکہ معاشرتی اور سماجی امور پر بھی رہنمائی فراہم کی۔ ان کے فتویٰ جات بعض اوقات متنازعہ بھی رہے، مگر سعودی معاشرہ اور دیگر مسلم ممالک میں ان کا اثر گہرا تھا۔

ان کی نمازِ جنازہ ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی گئی۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہدایت دی کہ عصر کی نماز کے بعد مرحوم کے لیے غائبانہ نمازِ جنازہ مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام، مدینہ منورہ کی مسجد نبوی اور ملک کی دیگر مساجد میں ادا کی جائے۔

شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کی زندگی سعودی عرب میں دینی قیادت کا ایک نمایاں باب رہی، اور ان کے انتقال کے ساتھ سعودی مذہبی رہنمائی کا ایک دور ختم ہو گیا۔ ان کی علمی خدمات اور شریعت کی تشریحات آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا باعث رہیں گی۔