Last Updated on September 27, 2020 12:40 pm by INDIAN AWAAZ

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کل شام اقوام متحدہ کی 75 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ بھارت کو اِس بات پر فخر ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے بانی ممبران میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے عوام ایک عرصے سے اقوام متحدہ میں اصلاحی عمل کی تکمیل کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے بھارتی عوام کی اِس تشویش کا اظہار کیا کہ کیا اصلاحی عمل کبھی اپنے منطقی انجام تک پہنچ پائے گا یا نہیں۔
جناب مودی نے سوال کیا کہ کورونا وائرس کی وباءکے خلاف مشترکہ لڑائی میں اقوام متحدہ کہاں ہے، انہوں نے یہ بات جاننے کی خواہش ظاہر کی کہ اُس کا موثر ردّ عمل کہاں تھا۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے 75 برس میں اقوام متحدہ کی کئی قابل قدر حصولیابیاں رہی ہیں لیکن ایسی بھی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں جو اقوام متحدہ کے کام کے سلسلے میں سنجیدہ محاسبے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔
جناب مودی نے کہا کہ امن کے قیام کے عمل میں سب سے زیادہ فوجی بھارت نے ہی کھوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر بھارتی، اقوام متحدہ میں بھارت کے وسیع تر رول کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت نے ہمیشہ انسانیت کے مفاد کیلئے کام کیا ہے اور اُس کے کام اپنے مفاد کو پیش نظر رکھ کر طے نہیں پاتے ہیں۔
اگلے برس جنوری کے آغاز سے بھارت، سلامتی کونسل میں ایک غیر مستقل ممبر کے طور پر اپنی ذمہ داری پوری کرے گا۔
جناب مودی نے کہا کہ بھارت، امن، سلامتی اور خوشحالی کی حمایت میں ہمیشہ بات کرے گا۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ بھارت، دہشت گردی جیسے انسانیت کے دشمنوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے سے کبھی نہیں ہچکچائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت آتم نربھر کے تصور کی تعبیر کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود کفیل بھارت، عالمی معیشت کیلئے قوت و استحکام میں اضافے کا سبب بنے گا۔
