Last Updated on July 13, 2026 1:28 am by INDIAN AWAAZ


عالمی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی نسل نے خاندان سے منہ نہیں موڑا؛ غیر یقینی روزگار، مہنگی رہائش اور بڑھتے اخراجات ان کے خوابوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں

عندلیب اختر
دنیا بھر میں شرحِ پیدائش میں کمی کو اکثر اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے نئی نسل نے شادی، خاندان اور بچوں سے دلچسپی کھو دی ہو۔ نوجوانوں پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ وہ آزادی، کیریئر اور ذاتی آسائش کو خاندانی زندگی پر ترجیح دے رہے ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی .یو این ایف پی اے، کا تازہ جائزہ اس عام تصور سے کہیں مختلف اور زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر نوجوان آج بھی شادی کرنا، اپنا شریکِ حیات تلاش کرنا اور بچوں کی پرورش کرنا چاہتے ہیں۔ مسئلہ خواہش کی کمی نہیں بلکہ ایسے معاشی اور سماجی حالات کی عدم موجودگی ہے جن میں ان خواہشات کو حقیقت میں بدلا جا سکے۔


73 ممالک اور خطوں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زیادہ نوجوانوں سے حاصل ہونے والی آرا پر مبنی جائزے کے مطابق، 88 فیصد نوجوان شادی اور بچے پیدا کرنے کے لیے مالی تحفظ کو بنیادی شرط سمجھتے ہیں۔ 87 فیصد کے نزدیک مستقل روزگار ضروری ہے، جبکہ 85 فیصد کا کہنا ہے کہ شادی اور والدین بننے سے پہلے ذہنی اور جذباتی طور پر تیار ہونا بھی اہم ہے۔یہ اعداد محض نوجوانوں کی ترجیحات نہیں بتاتے بلکہ اس معاشی بے یقینی کی نشاندہی بھی کرتے ہیں جس میں آج کی نئی نسل اپنی زندگی کے بڑے فیصلے کر رہی ہے۔
رپورٹ، جس کا عنوان **’’زندگیاں، انتخاب اور مستقبل: نوجوان کیا چاہتے ہیں، تعلقات اور والدین بننے سے متعلق ان کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے والے عوامل‘‘ ہے، ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: اگر نوجوان خاندان چاہتے ہیں تو پھر دنیا کے متعدد ممالک میں شادیاں دیر سے کیوں ہو رہی ہیں اور شرحِ پیدائش کیوں گر رہی ہے؟


اس کا جواب بڑی حد تک نوجوانوں کے معاشی حالات میں پوشیدہ ہے۔
آج مستقل ملازمت حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل محسوس ہوتا ہے۔ بڑے شہروں میں مکان خریدنا تو دور، کرایہ ادا کرنا بھی نوجوانوں کی آمدنی کا بڑا حصہ لے جاتا ہے۔ تعلیم مہنگی ہے، بچوں کی پرورش کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور غیر مستقل روزگار نے مستقبل کی منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے میں شادی اور والدین بننے کا فیصلہ محض جذباتی خواہش نہیں رہتا بلکہ ایک بڑا معاشی فیصلہ بن جاتا ہے۔


بھارت میں یہ صورت حال خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ یہاں خاندان اور شادی کو اب بھی سماجی زندگی کا مرکزی ستون سمجھا جاتا ہے، لیکن
شہری نوجوانوں کے سامنے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد، پونے اور دیگر بڑے شہروں میں رہائش کے بڑھتے اخراجات، ملازمت کا غیر یقینی ماحول، طویل اوقاتِ کار اور بچوں کی تعلیم و نگہداشت کے اخراجات نوجوان جوڑوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
بھارت میں ایک اور تضاد بھی نمایاں ہے۔ ایک طرف نوجوانوں پر شادی کے لیے خاندانی اور سماجی دباؤ موجود رہتا ہے، دوسری طرف شادی کے بعد ایک مخصوص معیارِ زندگی برقرار رکھنے کی توقع بھی انہی سے کی جاتی ہے۔ گھر، گاڑی، بچوں کی اچھی تعلیم اور مالی تحفظ کو کامیاب خاندانی زندگی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ نتیجتاً بہت سے نوجوان شادی کرنا چاہتے ہوئے بھی اس فیصلے کو مؤخر کرتے ہیں۔خواتین کے لیے یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ تعلیم اور روزگار میں ان کی بڑھتی شرکت نے انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں زیادہ اختیار دیا ہے، لیکن گھریلو ذمہ داریوں کی تقسیم ہمیشہ اسی رفتار سے تبدیل نہیں ہوئی۔ بہت سی خواتین کے لیے ماں بننے کا فیصلہ صرف بچے کی خواہش کا سوال نہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ کیا شریکِ حیات بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو ذمہ داریوں میں حقیقی حصہ لے گا؟ کیا کام کی جگہ پر مناسب سہولتیں میسر ہوں گی؟ اور کیا زچگی کے بعد ان کا کیریئر متاثر ہوگا؟


یہی وجہ ہے کہ شرحِ پیدائش میں کمی کو محض ’’نوجوان بچے نہیں چاہتے‘‘ کہہ کر سمجھنا حقیقت کو حد سے زیادہ سادہ بنا دینا ہے۔یو این ایف پی اے کے جائزے میں تقریباً دو تہائی شرکا نے شادی کو اپنی مثالی زندگی کا حصہ قرار دیا، جبکہ بہت کم لوگوں نے کہا کہ وہ بالکل اولاد نہیں چاہتے۔ ہر دس میں سے آٹھ افراد کے مطابق بچوں سے ملنے والی خوشی والدین بننے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس کے مقابلے میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی ترغیبات یا مستقبل کی افرادی قوت میں اضافے جیسے قومی مقاصد نوجوانوں کے لیے بہت کم اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ نکتہ حکومتوں کے لیے ایک اہم سبق رکھتا ہے۔ لوگ بچے اس لیے پیدا نہیں کرتے کہ کسی ملک کو مستقبل میں زیادہ کارکنوں، ٹیکس دہندگان یا فوجیوں کی ضرورت ہوگی۔ خاندان بنانے کا فیصلہ بنیادی طور پر ذاتی، جذباتی اور انسانی خواہشات سے جڑا ہوتا ہے۔ حکومت کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے جن میں لوگ اپنی خواہش کے مطابق فیصلے کر سکیں۔یو این ایف پی اے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈائین کیتا کے مطابق، نوجوان اپنے خاندان اور مستقبل کے بارے میں امید اور واضح تصورات رکھتے ہیں۔ جب مالی رکاوٹیں کم کی جاتی ہیں اور انہیں اپنے فیصلے خود کرنے کے مواقع ملتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کے لیے بہتر انتخاب کر سکتے ہیں۔
یہ پیغام بھارت سمیت ان تمام ممالک کے لیے اہم ہے جہاں آبادی، شرحِ پیدائش اور مستقبل کی افرادی قوت پر بحث جاری ہے۔ محض لوگوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی تلقین یا مالی ترغیبات دینا کافی نہیں ہوگا۔ مستقل اور باوقار روزگار، قابلِ برداشت رہائش، بچوں کی معیاری اور سستی نگہداشت، بہتر سرکاری تعلیم، صحت کی سہولتیں، زچگی اور پدری رخصت اور کام اور خاندانی زندگی کے درمیان بہتر توازن کہیں زیادہ اہم عوامل ہیں۔


نوجوانوں کے فیصلے خلا میں نہیں ہوتے۔ مناسب شریکِ حیات کا ملنا، محفوظ رہائش، مستقل آمدنی، بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم اور اپنی زندگی کے فیصلے آزادی سے کرنے کا حق—یہ سب اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کوئی شخص کب شادی کرے گا اور کب والدین بننے کا فیصلہ کرے گا۔


نئی نسل خاندان کے تصور کو مسترد نہیں کر رہی؛ وہ صرف یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا وہ اس خاندان کو محفوظ اور باوقار زندگی دے سکے گی؟


یہی آج کی آبادیاتی بحث کا اصل مرکز ہونا چاہیے۔ حکومتوں کو نوجوانوں کو یہ بتانے کے بجائے کہ انہیں کب شادی کرنی چاہیے یا کتنے بچے پیدا کرنے چاہئیں، ایسے معاشی اور سماجی حالات پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے جن میں شادی اور والدین بننا ناقابلِ برداشت مالی خطرہ نہ بن جائے۔AMN