Last Updated on July 9, 2026 8:02 pm by INDIAN AWAAZ

تہران،

: ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے امریکہ کو ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم آبی گذرگاہ میں امریکی فوجی کارروائی کو ایران کی جانب سے “فیصلہ کن اور سخت جواب” دیا جائے گا۔ یہ بیان ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا () نے جاری کیا۔

آئی آر جی سی بحریہ کے مطابق آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس کو بحیرۂ عمان سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے، اس وقت ایرانی نگرانی میں جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 50 فیصد بحری ٹریفک کے ساتھ بحال ہو چکی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ تمام جہاز جو ایرانی حکام سے پیشگی اجازت حاصل کرتے ہیں اور طے شدہ سکیورٹی ضوابط پر عمل کرتے ہیں، انہیں مرحلہ وار گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

ارنا کے مطابق آئی آر جی سی نے امریکہ پر آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے راستوں میں مداخلت اور “مہم جوئی” کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ “غیر ملکی طاقتوں کا آبنائے ہرمز پر کوئی حق یا حصہ نہیں ہے۔” ایران نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ اس اہم آبی گذرگاہ کی سلامتی اور نگرانی اس کی ذمہ داری ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر امریکہ نے آبنائے ہرمز یا اس کے اطراف میں کسی قسم کی فوجی کارروائی کی تو اس سے نہ صرف ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آئے گا بلکہ اس اہم بحری راستے کی تدریجی بحالی کا عمل بھی متاثر ہوگا، جس کے نتیجے میں ان ممالک کے اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو اس سمندری راستے پر انحصار کرتے ہیں۔

آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں حالیہ عوامی اجتماعات اور رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے حق میں ہونے والی بڑی ریلیوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایرانی عوام بیرونی دباؤ اور بالادست طاقتوں کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔

قبل ازیں جمعرات کو ایرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ آئی آر جی سی نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مشہد جانے والے پلوں کو نشانہ بنانے کے بعد کی گئی۔ تاہم، امریکی حکام کی جانب سے ان ایرانی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گذرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی پر عالمی توانائی منڈیاں اور بین الاقوامی شپنگ صنعت گہری نظر رکھتی ہیں۔