Last Updated on February 12, 2026 5:51 pm by INDIAN AWAAZ

نئی دہلی، 12 فروری 2026:
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ( نے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری حالیہ نوٹیفکیشن پر شدید اعتراض کیا ہے، جس کے تحت سرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے “جن گن من” سے قبل وندے ماترم کے تمام اشعار کی تلاوت لازمی قرار دی گئی ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کو غیر آئینی، ناقابل قبول اور مذہبی آزادی کے منافی قرار دیا ہے۔

بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد فضل الرحمٰن مجددی نے اپنے ایک پریس بیان میں کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف آئین ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے بلکہ یہ سیکولر اقدار اور سپریم کورٹ کے فیصلوں سے بھی متصادم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے احکامات سے ملک میں مذہبی ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور مسلمان اس کو ہرگز قبول نہیں کر سکتے۔

مولانا نے وضاحت کی کہ رابندر ناتھ ٹیگور کے مشورے اور دستور ساز اسمبلی میں تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ طے پایا تھا کہ وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند ہی استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر حکومت کسی مخصوص مذہب کی تعلیمات یا عقائد کو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پر زبردستی نافذ نہیں کر سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وندے ماترم کے دیگر اشعار میں دُرگا اور دیگر دیوی دیوتاؤں کی عبادت اور عقیدت کے حوالے موجود ہیں، جو مسلمانوں کے عقیدۂ توحید کے خلاف ہیں۔ مولانا کے مطابق اسلام میں صرف ایک اللہ کی عبادت کی اجازت ہے اور کسی بھی صورت میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا جائز نہیں۔

بورڈ کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ بھارتی عدالتوں نے بھی بعض مواقع پر یہ قرار دیا ہے کہ وندے ماترم کے دیگر اشعار سیکولر اصولوں کے مطابق نہیں ہیں، اسی لیے ان کی تلاوت پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال کے انتخابات سے قبل اس فیصلے کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہو سکتے ہیں، تاہم مسلمان اپنی مذہبی شناخت اور عقائد کے خلاف کوئی قدم برداشت نہیں کریں گے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے، بصورت دیگر بورڈ اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گا۔