Last Updated on February 10, 2026 6:01 pm by INDIAN AWAAZ

تحریر: دیو ساگر سنگھ
امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے آخر میں جاری کردہ تازہ ترین نقشے میں پاک مقبوضہ کشمیر اور اکسائی چن کو بھارتی علاقوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ امریکہ کی یہ “غیر معمولی ہم آہنگی” صدر ٹرمپ کے جغرافیائی سیاسی موقف میں ممکنہ تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو جنم دے رہی ہے۔
اگرچہ یہ گرافک یونائیٹڈ اسٹیٹس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو نے نئے تجارتی معاہدے کے اعلان کے دوران ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر شیئر کیا تھا، لیکن اسے انتظامیہ کی توثیق حاصل ہے، اس لیے اسے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اب تک امریکہ سرکاری طور پر ان دونوں خطوں کو متنازعہ علاقے قرار دیتا آیا ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے چھپے اسباب
آخر اس اچانک تبدیلی کی بنیادی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟ امریکہ اس وقت چوکنا ہوا جب بھارتی برآمدات پر پچاس فیصد ٹیرف لگنے کے بعد، بھارت نے خاموشی سے چین کے ساتھ اپنی تجارت کھولنا شروع کر دی اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات مزید گہرے کر لیے۔ چند ہی ہفتوں میں وزیر اعظم مودی نے برطانیہ اور یورپی یونین کے ساتھ بھی تجارتی سودوں پر دستخط کر دیے۔
امریکی مفادات اس بات میں ہیں کہ بھارت کو چین کے ساتھ مستقل کشمکش میں رکھا جائے۔ امریکہ اپنے چین مخالف ایجنڈے کو صرف بھارت اور انڈو پیسیفک خطے کے ذریعے ہی آگے بڑھا سکتا ہے۔ محکمہ تجارت کے نقشے میں کی گئی یہ تبدیلی بظاہر بھارت کو اکسائی چن کا مسئلہ اٹھانے کے لیے اکسانے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے۔ لیکن پی-او-کے کے معاملے کو ساتھ شامل کیے بغیر اس کا کوئی خاص مطلب نہیں بنتا تھا۔ بھارت کے لیے یہ دونوں خطے ہمیشہ سے جذباتی مسائل رہے ہیں اور اس کا موقف رہا ہے کہ یہ اس کے اپنے علاقے ہیں۔
بھارت کی محتاط خاموشی
تاہم، ایسا لگتا ہے کہ بھارت امریکی “چارے” میں نہیں آئے گا۔ اب تک کی حکومتی خاموشی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نئی دہلی اس نازک موڑ پر ان مسائل کو دوبارہ کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ صدر ٹرمپ اپنے نئے دورِ اقتدار میں بھارت کے ساتھ معاملات میں غیر مستقل اور پرخطر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ فطری بات ہے کہ بھارت چین سے جڑے حساس معاملات پر کوئی بھی ردعمل دینے میں حد درجہ احتیاط برتے گا۔
نئی دہلی نے بہت پہلے پارلیمانی قرارداد کے ذریعے پی-او-کے اور اکسائی چن پر اپنے سرکاری موقف کا اعادہ کیا تھا، جس کے تحت یہ دونوں خطے بھارتی علاقے تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی بھی حکومت نے اب تک ان کا فوجی حل نکالنے کی سمت قدم نہیں بڑھایا۔
امریکی انتظامیہ کے ایک ثانوی شعبے (محکمہ تجارت) کے ذریعے ان علاقوں کو بھارت کا حصہ دکھا کر، امریکہ نے اپنے لیے پیچھے ہٹنے کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ اگر وہ واقعی سنجیدہ ہوتا، تو اس کا باقاعدہ اعلان اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ (وزارتِ خارجہ) کی طرف سے کیا جاتا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اس معاملے پر مکمل سنجیدہ نہیں ہے۔ لہٰذا، بھارت کا اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنا درست حکمت عملی معلوم ہوتی ہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ نقشے میں یہ تبدیلی بھارت کو ایک طرح کی رعایت دینے کی کوشش ہے—جس کا مقصد بھارت کو روسی تیل کی خریداری بند کرنے پر راضی کرنا ہے۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ بھارت بالواسطہ طور پر یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں مالی مدد کر رہا ہے، اور ان کے امن منصوبے کی کامیابی کے لیے بھارت کا یہ قدم روکنا ضروری ہے۔
