Last Updated on July 23, 2026 10:34 pm by INDIAN AWAAZ
سادگی، دیانت داری اور عوامی خدمت کی علامت سمجھے جانے والے بزرگ سیاست دان کے انتقال سے ایک عہد کا خاتمہ

اسٹاف رپورٹر
لکھنؤ/اعظم گڑھ: اتر پردیش کی سیاست ایک نہایت باوقار، بااصول اور عوام دوست رہنما سے محروم ہو گئی۔ سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر، اعظم گڑھ ضلع کی نظام آباد اسمبلی نشست سے پانچ مرتبہ منتخب ہونے والے رکنِ اسمبلی اور اتر پردیش اسمبلی کے معمر ترین رکن عالم بدیع اعظمی بدھ کی شب طویل علالت کے بعد اعظم گڑھ شہر کے کرمی ٹولہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر انتقال کر گئے۔ وہ 92 برس کے تھے۔ ان کے انتقال سے ریاست کی سیاست کا ایک ایسا باب اختتام پذیر ہو گیا جس کی شناخت سادگی، دیانت داری اور بے لوث عوامی خدمت تھی۔
عالم بدیع اعظمی کا شمار ان چند سیاست دانوں میں ہوتا تھا جنہوں نے طویل سیاسی زندگی کے باوجود اقتدار کی چمک دمک کو کبھی اپنی شخصیت پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ پانچ مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب ہونے اور ریاست کے سینئر ترین عوامی نمائندوں میں شامل ہونے کے باوجود ان کی زندگی انتہائی سادہ رہی۔ وہ جدید اسمارٹ فون کے بجائے ایک عام کی پیڈ موبائل فون استعمال کرتے تھے، اکثر دو پہیہ گاڑی پر سفر کرتے دکھائی دیتے تھے اور اسمبلی اجلاس یا پارٹی پروگراموں میں شرکت کے لیے اعظم گڑھ سے لکھنؤ تک سرکاری یا عوامی بس کے ذریعے سفر کرنا معمول سمجھتے تھے۔ ضرورت پڑنے پر سائیکل رکشہ استعمال کرنے میں بھی انہیں کبھی کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی تھی۔
16 مارچ 1936 کو اعظم گڑھ ضلع کے گاؤں وندوال میں پیدا ہونے والے عالم بدیع اعظمی نے الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ بطور انجینئر خدمات انجام دیں، لیکن مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو اور نیتا جی سبھاش چندر بوس کے نظریات سے متاثر ہو کر انہوں نے عوامی خدمت اور سیاست کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔
ان کا انتخابی سفر 1996 میں شروع ہوا جب وہ سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی مرتبہ نظام آباد اسمبلی حلقے سے رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کے بعد عوام نے ان پر مسلسل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں 2002، 2012، 2017 اور 2022 کے اسمبلی انتخابات میں بھی کامیاب بنایا۔ اس طرح وہ اعظم گڑھ کے طویل ترین عرصے تک عوام کی نمائندگی کرنے والے رہنماؤں میں شامل ہو گئے۔
سماجوادی پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق عالم بدیع اعظمی انتخابی سیاست میں بھی سادگی کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ نہ تو بڑے بڑے جلسوں کی نمائش کے قائل تھے اور نہ ہی مہنگے پوسٹروں اور بینروں پر یقین رکھتے تھے۔ ان کا کہنا ہوتا تھا: “اگر میں نے عوام کے لیے کام کیا ہے تو لوگ خود مجھے ووٹ دیں گے۔” یہی طرزِ فکر ان کی پوری سیاسی زندگی کی پہچان بن گیا۔
پارٹی کارکن اور ساتھی رہنما انہیں محبت سے “چاچا” کہہ کر پکارتے تھے۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ نوے برس سے زائد عمر میں بھی وہ غیر معمولی طور پر متحرک تھے اور تقریباً دو ماہ قبل تک اپنے حلقۂ انتخاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا خود معائنہ کرتے رہے۔
سیاسی اختلافات کے باوجود مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے انہیں ایک نرم گفتار، باکردار، ایماندار اور عوام سے جڑا ہوا سیاست دان قرار دیا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پوری زندگی اپنے دروازے عام لوگوں کے لیے کھلے رکھے اور کبھی عوام سے فاصلہ پیدا نہیں ہونے دیا۔
سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ عالم بدیع اعظمی نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور سماجی بہبود کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ اتر پردیش اسمبلی کی سرکاری پروفائل کے مطابق انہوں نے اعظم گڑھ میں قومی یکجہتی منچ قائم کیا، مسلم ریلیف کمیٹی سے وابستہ رہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے موضوع پر ایک کتاب بھی تصنیف کی، جسے سماجی ہم آہنگی کے فروغ کی ایک اہم کاوش قرار دیا جاتا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے عالم بدیع اعظمی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ایک نہایت مخلص، باوقار اور عوامی رہنما کھو دیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا کی اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔
پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی کہا کہ عالم بدیع اعظمی کی پوری سیاسی زندگی نوجوان سیاست دانوں کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اقتدار کے بجائے خدمت کو ترجیح دی اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر عوام کے مسائل کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔
عالم بدیع اعظمی کچھ عرصے سے علیل تھے اور بدھ کی شب اپنے آبائی مکان پر انتقال کر گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ جمعیت الرشاد میں عصر کے بعد ادا کیے جانے کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد انہیں شہر کے نئے قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
عالم بدیع اعظمی کا انتقال صرف ایک سینئر سیاست دان کی رحلت نہیں بلکہ ایسی سیاسی روایت کے خاتمے کی علامت بھی ہے جس میں سادگی، دیانت داری، عوامی خدمت اور اخلاقی اقدار کو سیاست کی اصل روح سمجھا جاتا تھا۔ ان کی خدمات اور کردار کو اتر پردیش کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
