Last Updated on July 23, 2026 5:10 pm by INDIAN AWAAZ

خصوصی نامہ نگار، نئی دہلی

ملک بھر میں مسابقتی امتحانات میں مبینہ پرچہ لیک اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف حالیہ پولیس کارروائی کے معاملے پر سیاسی کشیدگی جمعرات کو مزید شدت اختیار کر گئی۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

یہ سخت بیان بازی اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے مسابقتی امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک کے معاملے پر پہلی مرتبہ ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مفادات حکومت کی اولین ترجیح ہیں، اور ان کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والوں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ وزیر اعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ پرچہ لیک کے مقدمات کی فوری سماعت اور مجرموں کو جلد سزا دلانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

وزیر اعظم کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت ملک کے تعلیمی نظام کی شفافیت اور وقار کو برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، بلکہ اس نے حالات کو مزید خراب ہونے دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی نے تعلیمی نظام کو کمزور ہونے دیا اور اس کے ذمہ دار افراد کو تحفظ فراہم کرکے نوجوانوں کے مستقبل کو “سب سے زیادہ نقصان” پہنچایا۔

راہل گاندھی نے لکھا، “ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان آپ نے پہنچایا ہے۔” انہوں نے کہا کہ حکومت نے پورے تعلیمی نظام پر قبضہ کر لیا، اسے زوال کی طرف دھکیل دیا اور اس کی ناکامی کے ذمہ دار افراد کی سرپرستی کی۔

انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین اہم مطالبات بھی دہرائے:

  • مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے برطرف کیا جائے۔
  • طلبہ سے سرِعام معافی مانگی جائے۔
  • طلبہ پر مبینہ تشدد کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

کانگریس کا دعویٰ: وزیر اعظم دباؤ میں ہیں

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم کی سوشل میڈیا پوسٹ اس مسئلے پر بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کی عکاس ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث سے گریز کیا اور اس کے بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے تنازع کو سنبھالنے کی کوشش کی۔

جے رام رمیش نے کہا، “یہ پوسٹ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیر اعظم دباؤ میں ہیں اور پوری طرح بے چین ہو چکے ہیں۔” انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ طلبہ اور اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔

کھرگے نے جوابدہی کا مطالبہ کیا

کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھرگے نے حکومت کی جانب سے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے اعلان کو ناکافی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں تعلیمی نظام مزید ابتر ہوا ہے اور ملک کو کھوکھلے وعدوں اور جزوی اعلانات کے بجائے حقیقی اور مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

کھرگے نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ امتحانی تنازعات سے متاثرہ طلبہ سے براہِ راست بات کریں اور ان کے خدشات کا ازالہ کریں۔

کے سی وینوگوپال نے وزیرِ تعلیم کو ہٹانے کا مطالبہ کیا

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے حکومتی یقین دہانیوں کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کا اعتماد حکومت پر ختم ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلا قدم مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو برطرف کرنا ہونا چاہیے، اس کے بعد امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے براہِ راست بات چیت کی جائے۔

پرمود تیواری نے سیاسی جوابدہی پر سوال اٹھایا

کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پرمود تیواری نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے پرچہ لیک کے ملزمان کو سزا دلانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کا اعلان کیا ہے، لیکن وہ سیاسی جوابدہی طے کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ جس وزیر کے دورِ اقتدار میں بار بار پرچہ لیک کے واقعات سامنے آئے ہوں، کیا اس کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا مناسب ہے؟

سماجوادی پارٹی نے بھی حکومت کو نشانہ بنایا

سماجوادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے بھی اس معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے سوال کیا کہ اب تک پرچہ لیک کے کتنے ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی ہوئی اور کتنے افراد کو سزا ملی؟ حالیہ طلبہ احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کرائے کے لوگ نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھانے والے حقیقی طلبہ ہیں۔ انہوں نے پولیس کارروائی کے دوران مبینہ حد سے زیادہ طاقت کے استعمال اور سادہ لباس میں موجود افراد کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔

امتحانی شفافیت پر سیاسی کشمکش برقرار

مبینہ پرچہ لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کا معاملہ ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کا سبب بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مسابقتی امتحانات کی شفافیت برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے اور طلبہ کے پُرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ طلبہ کے مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا اور امتحانی دھاندلی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں پرچہ لیک کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کا قیام بھی شامل ہے۔