عندلیب اختر
دنیا میں آم پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک بھارت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنی زرعی برآمدات کی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی لاتے ہوئے صرف پیداوار بڑھانے پر نہیں بلکہ اعلیٰ معیار، برانڈنگ، جغرافیائی شناخت (GI)، کولڈ چین، عالمی معیار کے پیک ہاؤسز اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس حکمت عملی کا محور ایگری کلچر اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے ہے، جو وزارت تجارت و صنعت کے تحت کام کرنے والا ادارہ ہے۔


جون 2026 کے دوران سامنے آنے والی تین اہم پیش رفتیں واضح کرتی ہیں کہ بھارت صرف آم برآمد کرنے والا ملک نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ میں اپنی مخصوص اقسام کو برانڈ بنانے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کو مدھیہ پردیش کے ریوا سندرجا آم کی پہلی تجارتی برآمد، سنگاپور کو بنگناپلے آم کی پہلی سمندری کھیپ اور آئس لینڈ میں بھارتی آموں کی پہلی باقاعدہ تشہیری مہم اسی جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔


اے پی ای ڈی اے کا بدلتا کردار**
اے پی ای ڈی اے اب صرف ایک برآمدی ادارہ نہیں بلکہ کسان، ایف پی او، برآمد کنندگان، ریاستی حکومتوں، پیک ہاؤس آپریٹروں، تحقیقی اداروں اور بیرون ملک خریداروں کے درمیان ایک مربوط پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ادارہ برآمدات کے لیے ضروری انفراسٹرکچر، عالمی معیار کی پیکنگ، فائٹو سینیٹری سرٹیفکیشن، کولڈ چین، لاجسٹکس، مارکیٹ انٹیلی جنس اور بیرون ملک بھارتی زرعی مصنوعات کی تشہیر جیسے شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کا مقصد صرف برآمدات میں اضافہ نہیں بلکہ کسانوں کو عالمی ویلیو چین سے جوڑ کر بہتر قیمت دلانا بھی ہے۔


ریوا سندرجا: جی آئی ٹیگ سے عالمی شناخت تک**
مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع کا سندرجا آم اپنی غیر معمولی مٹھاس، خوشبو، ریشے سے پاک گودے اور منفرد ذائقے کی وجہ سے پہلے ہی مقامی سطح پر مشہور تھا، لیکن جغرافیائی شناخت (GI) حاصل کرنے کے بعد اس کی عالمی مارکیٹ تک رسائی آسان ہوئی۔26 جون 2026 کو پہلی مرتبہ ایک میٹرک ٹن ریوا سندرجا آم متحدہ عرب امارات روانہ کیا گیا۔ اس کامیابی کے پیچھے اے پی ای ڈی اے، حکومت مدھیہ پردیش، کسان پیداوار تنظیموں، برآمد کنندگان اور پیک ہاؤسز کی مشترکہ کوششیں شامل تھیں۔
اس برآمد کا سب سے بڑا فائدہ کسانوں کو ہوا۔ مقامی منڈی میں یہی آم تقریباً 100 سے 110 روپے فی کلو فروخت ہو رہا تھا، جبکہ برآمدی خریدار نے 150 روپے فی کلو قیمت ادا کی۔ اس طرح کسانوں کو فی کلو 40 سے 50 روپے اضافی آمدنی حاصل ہوئی۔یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ اگر بھارتی کسان عالمی معیار کے مطابق پیداوار کریں تو انہیں صرف مقامی منڈی پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا بلکہ برآمدی منڈی بہتر منافع فراہم کر سکتی ہے۔


سمندری راستے سے برآمدات: لاگت میں کمی، منافع میں اضافہ
بھارتی آموں کی برآمدات زیادہ تر فضائی راستے سے ہوتی رہی ہیں، جس کے باعث نقل و حمل کی لاگت کافی زیادہ تھی۔اب اے پی ای ڈی اے نے پہلی مرتبہ آندھرا پردیش کے مشہور بنگناپلے آم کی پانچ میٹرک ٹن تجارتی کھیپ سمندری راستے سے سنگاپور بھیج کر ایک نئی مثال قائم کی ہے۔یہ تجربہ کئی حوالوں سے اہم ہے۔سمندری راستہ فضائی نقل و حمل کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستا ہے، بڑے پیمانے پر برآمدات ممکن بناتا ہے اور کاربن اخراج بھی کم کرتا ہے۔ جدید کولڈ چین، معیاری پیکنگ اور سائنسی پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ کی بدولت آم مکمل معیار کے ساتھ سنگاپور پہنچے، جہاں درآمد کنندگان نے ان کی مٹھاس، یکساں پختگی اور شیلف لائف کو بہترین قرار دیا۔اس برآمد سے کسانوں کو بھی براہ راست فائدہ ہوا۔ مقامی منڈی میں آم کی قیمت 25 سے 26 روپے فی کلو تھی جبکہ برآمدی قیمت تقریباً 50 روپے فی کلو رہی، یعنی کسانوں کی آمدنی تقریباً دوگنی ہوگئی۔


نئی منڈیوں کی تلاش: آئس لینڈ میں بھارتی آموں کی انٹری
بھارت اب صرف خلیجی ممالک یا روایتی ایشیائی منڈیوں تک محدود نہیں رہنا چاہتا۔ریکیاوک اور اکیورےری میں بھارتی سفارت خانے اور اے پی ای ڈی اے کی جانب سے پہلی مرتبہ بھارتی آموں کی خصوصی تشہیری تقریبات منعقد کی گئیں، جہاں دسہری، چوسہ، لنگڑا اور کیسر جیسی معروف اقسام پیش کی گئیں۔یہ اقدام اس لیے اہم ہے کیونکہ آئس لینڈ اپنی زیادہ تر آم درآمدات تھائی لینڈ، برازیل، پیرو، کمبوڈیا اور گھانا سے کرتا ہے۔2025 میں آئس لینڈ نے تقریباً 3.3 ملین امریکی ڈالر مالیت کے آم درآمد کیے تھے۔اگر بھارت اس مارکیٹ میں مستقل جگہ بنا لیتا ہے تو یہ شمالی یورپ میں مزید مواقع پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً بھارت اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (EFTA) کے درمیان تجارتی تعاون کے تناظر میں۔بھارت میں سینکڑوں زرعی مصنوعات کو جغرافیائی شناخت (GI) حاصل ہے۔ریوا سندرجا آم کی کامیاب برآمد یہ ثابت کرتی ہے کہ جی آئی ٹیگ صرف قانونی تحفظ نہیں بلکہ ایک طاقتور برانڈنگ ٹول بھی ہے۔عالمی صارفین مخصوص خطوں کی منفرد مصنوعات کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اب جی آئی مصنوعات کی برآمدات پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
کسانوں کی آمدنی بڑھانے کی حکمت عملی


مرکزی حکومت کا مقصد صرف برآمدات میں اضافہ نہیں بلکہ کسانوں کو عالمی سپلائی چین کا حصہ بنانا بھی ہے۔اے پی ای ڈی اے کی حکمت عملی کے تحت کسانوں کو اچھی زرعی مشقوں (GAP)، فصل کے بعد دیکھ بھال، معیار کی جانچ، پیکنگ، کولڈ چین اور برآمدی ضوابط کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ ان کی پیداوار عالمی معیار پر پورا اتر سکے۔اس ماڈل سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی بڑھتی ہے بلکہ دیہی معیشت، خوراک کی ویلیو چین اور زرعی سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملتا ہے۔عالمی سطح پر صحت بخش اور اعلیٰ معیار کے تازہ پھلوں کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر بھارت معیار، لاجسٹکس، برانڈنگ اور مارکیٹ رسائی پر اسی رفتار سے کام جاری رکھتا ہے تو وہ صرف دنیا کا سب سے بڑا آم پیدا کرنے والا ملک ہی نہیں بلکہ اعلیٰ معیار کے آم برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بھی بن سکتا ہے۔ریوا سے دبئی، آندھرا پردیش سے سنگاپور اور نئی دہلی سے آئس لینڈ تک ہونے والی حالیہ پیش رفتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ بھارتی آم کی عالمی کہانی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تبدیلی کے مرکز میں اے پی ای ڈی اے موجود ہے، جو کسانوں کو بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑ کر زرعی برآمدات، دیہی آمدنی اور بھارت کی زرعی معیشت کو نئی سمت دے رہا ہے۔AMN