
نئی دہلی: معروف اسلامی اسکالر، مصنف اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سابق سینئر استاد مولانا سلمان حسینی ندوی کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال سے علمی، دینی اور فکری حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مولانا سلمان حسینی ندوی جامعہ سید احمد شہید اور جمعیت شباب الاسلام کے بانی تھے۔ وہ حدیث، تفسیر، اسلامی فکر اور عربی ادب کے ممتاز عالم شمار کیے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی عشرے تدریس، دینی تعلیم اور ہزاروں طلبہ کی علمی تربیت کے لیے وقف کیے۔
مرحوم، عظیم اسلامی مفکر حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی (علی میاں) کے شاگرد تھے اور ملتِ اسلامیہ کی فکری و تعلیمی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ وہ عالمِ اسلام کے مختلف مسائل، خصوصاً فلسطین کے مسئلے پر اپنی واضح اور بے باک آراء کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔
مولانا سلمان حسینی ندوی نے متعدد علمی و دینی کتابیں تصنیف کیں اور ملک و بیرونِ ملک بے شمار علمی و دینی خطابات کیے۔ اگرچہ ان کے بعض مؤقف آخری برسوں میں بحث و مباحثے کا موضوع بھی بنے، تاہم اسلامی تعلیم، تحقیق اور فکری خدمات کے میدان میں ان کی گراں قدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ان کے انتقال پر ملک بھر کے علماء، طلبہ اور مختلف سماجی و مذہبی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے علمی دنیا کا ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ ان کی نمازِ جنازہ میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں اور شاگردوں کی شرکت متوقع ہے۔
