نمائندہ خصوصی
نئی دہلی

بھارت نے پیر کے روز پاکستان کی جانب سے افغانستان کی سرزمین پر کیے گئے مبینہ فضائی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ وزارت نے اس کارروائی کو پاکستان کی “بلااشتعال جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہیں۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا، “بھارت افغانستان کی سرزمین پر پاکستان کے فضائی حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے، جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ یہ پاکستان کی کھلی جارحیت ہے، جو افغانستان کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔”

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ واقعہ پاکستان کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے سرحد پار فوجی کارروائیوں کا سہارا لیتا ہے۔

وزارت نے کہا، “یہ پاکستان کے مسلسل لاپرواہ طرزِ عمل اور اپنی داخلی ناکامیوں کو بیرونی محاذ پر تشدد کے ذریعے چھپانے کی ایک بے سود کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔”

بھارت نے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔ ساتھ ہی نئی دہلی نے افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور افغان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی دیرینہ حمایت کا اعادہ کیا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کی سرحد پر سکیورٹی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کے خلاف کارروائیاں افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے کی جا رہی ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کو مستقل طور پر مسترد کرتا آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ فضائی حملوں سے اسلام آباد اور کابل کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان پہلے ہی سکیورٹی اور انسانی بحران سے دوچار ہے، اور اس نوعیت کی سرحد پار فوجی کارروائیاں خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

بھارت مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف تمام ممالک کی خودمختاری کے احترام، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ نئی دہلی افغانستان کو انسانی امداد بھی فراہم کرتا رہا ہے اور ایک پرامن، مستحکم اور جامع افغان ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔

سفارتی ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ سخت ردعمل خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر اس کی گہری تشویش کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق اگر سرحد پار اس نوعیت کی کارروائیاں جاری رہیں تو نہ صرف انسانی بحران مزید سنگین ہوگا بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔