Last Updated on August 1, 2026 3:46 pm by INDIAN AWAAZ

UN NEWS
اقوام متحدہ نے سوڈان کے شہر العبیدمیں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف بڑھتے تشدد کے نہایت تشویشناک رجحان پر سخت تشویش ظاہر کی ہے جہاں دن کے وقت ڈرون حملوں اور رات کے اندھیرے میں جنسی تشدد کے باعث ان کے لیے پانی کا حصول دشوار ہو گیا ہے۔
العبید کی خواتین اور لڑکیوں نے صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے ‘یو این ویمن’ کو بتایا ہے کہ دن کے وقت ڈرون حملوں میں پانی کے ذخائر اور تقسیم کے مراکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے باعث وہ پانی لینے کے لیے رات ہونے کا انتظار کرتی ہیں کہ اندھیرا فضائی حملوں سے کسی حد تک تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لیکن رات کے وقت انہیں ہراسانی، زیادتی اور جنسی تشدد کی دیگر سنگین صورتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سوڈان میں تین برس سے جاری جنگ کے دوران جنسی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ اس تنازع کی نمایاں ترین خصوصیت بن چکا ہے۔ ادارے کے مطابق، جنگ کے آغاز کے بعد سے سوڈان میں صنفی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کو درکار خدمات کی ضرورت چار گنا بڑھ چکی ہے اور رواں سال یہ تعداد ایک کروڑ 27 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
مہلک بیماریوں کا خطرہ
ریاست جنوبی کردفان کے شہر العبید میں بے گھر لوگوں کی بستیوں سمیت متعدد علاقوں میں خوراک، صحت کی سہولیات اور دیگر بنیادی خدمات تک رسائی انتہائی محدود ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال گزشتہ سال شمالی دارفور کے شہر الفاشر میں سامنے آنے والے ان ہولناک واقعات سے مماثلت رکھتی ہے جن کی تفصیلات منظر عام پر آ چکی ہیں۔
آئندہ ماہ بارشوں کے موسم میں شدت آنے کی توقع ہے اور مہلک آبی بیماریوں کے خطرے کو روکنے کے لیے صاف پانی کی دستیابی نہایت ضروری ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، جولائی کے آغاز میں سوڈان میں ہیضے کے 1,330 مریض سامنے آ چکے ہیں۔
غذائی قلت بھی خواتین اور لڑکیوں کے لیے تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے جو جسمانی مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے جبکہ صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی انہیں شدید بیماری اور موت کے بڑھتے خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔
خواتین کی تنظیمیں مشکلات کا شکار
‘یو این ویمن’ کی معاونت سے کام کرنے والی خواتین کی تنظیموں کا سوڈان میں امدادی کارروائیوں میں اہم کردار ہے۔ یہ تنظیمیں عموماً ان علاقوں تک بھی پہنچتی ہیں جہاں دوسرے امدادی ادارے نہیں پہنچ پاتے۔ تاہم امدادی وسائل میں کمی کے باعث ان کی خدمات شدت سے متاثر ہوئی ہیں۔
ادارے کے مطابق، خواتین کی دو تہائی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقوں میں خواتین کے محفوظ مراکز اور صنفی بنیاد پر تشدد سے متعلق خدمات یا تو بند ہو چکی ہیں یا ان میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔ نصف تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو وہ آئندہ ایک سال کے اندر اپنی سرگرمیاں معطل یا بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔
یو این ویمن نے سوڈان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ دہراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کہ انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور محفوظ رسائی یقینی بنائی جائے، بین الاقوامی قوانین کا مکمل احترام کیا جائے، اور خواتین و لڑکیوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے۔
ادارے نے کہا ہے کہ خواتین کو امن مذاکرات، انسانی امداد سے متعلق فیصلہ سازی اور جنگ کے بعد بحالی کے تمام مراحل میں شامل کرنا ضروری ہے۔ خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی تنظیموں کو مالی وسائل فراہم کرنا ہوں گے کیونکہ سوڈان بھر میں یہی تنظیمیں لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کی آخری امید اور سہارا ہیں۔
