Last Updated on August 2, 2026 12:17 pm by INDIAN AWAAZ
1991 سے 2026 تک ہندوستان کی معاشی اصلاحات کا سفر

عندلیب اختر
ہندوستان کی جدید اقتصادی تاریخ میں 24 جولائی 1991 ایک ایسا دن ہے جس نے ملک کی معاشی سمت ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ اس روز اُس وقت کے وزیر خزانہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت میں وہ تاریخی بجٹ پیش کیا جس نے لائسنس راج، سخت سرکاری کنٹرول اور بند معیشت سے نکل کر ہندوستان کو آزاد، مسابقتی اور عالمی معیشت کا حصہ بنانے کی بنیاد رکھی۔ آج ان اصلاحات کو تقریباً 35 برس مکمل ہو چکے ہیں۔ اس دوران ہندوستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو گیا، لیکن بدلتے عالمی حالات میں اب ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک کو ایک مرتبہ پھر اصلاحات کی نئی اور وسیع لہر کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کئی دہائیوں کی ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے۔
جب ملک معاشی بحران کے دہانے پر پہنچ گیا
1990-91 میں ہندوستان کو آزادی کے بعد کے بدترین معاشی بحران کا سامنا تھا۔ خلیجی جنگ کے اثرات، تیل کی بڑھتی قیمتیں، بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ، درآمدات پر انحصار اور کمزور برآمدات نے معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا تھا۔ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اس حد تک گر چکے تھے کہ صرف تقریباً دو ہفتوں کی درآمدات کے لیے غیر ملکی کرنسی باقی رہ گئی تھی۔ حکومت کو سونا بینک آف انگلینڈ اور دیگر مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھنا پڑا جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے ہنگامی قرض لینا پڑا۔ اسی دوران مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تقریباً 7.6 فیصد تک پہنچ گیا تھا اور مہنگائی دوہرے ہندسے میں داخل ہو چکی تھی۔یہ صورتحال کسی بھی حکومت کے لیے سیاسی طور پر انتہائی مشکل تھی، لیکن وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ اور وزیر خزانہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایسے فیصلے کیے جنہوں نے ہندوستان کی اقتصادی سوچ ہی بدل دی۔
1991 لائسنس راج سے آزاد معیشت تک
24 جولائی 1991 کے بجٹ اور نئی صنعتی پالیسی نے ہندوستان میں معاشی اصلاحات کا باضابطہ آغاز کیا۔
اہم اقدامات میں شامل تھے:بیشتر صنعتوں کے لیے صنعتی لائسنسنگ کا خاتمہ؛ایم آر ٹی پی (MRTP) قانون کے تحت اثاثہ جاتی پابندیوں میں نرمی؛متعدد شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کی اجازت؛کئی صنعتوں میں 51 فیصد تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کی منظوری؛
درآمدی محصولات میں مرحلہ وار کمی؛روپے کی قدر میں ایڈجسٹمنٹ اور زر مبادلہ کے نظام میں اصلاحات؛برآمدات کے فروغ کے لیے نئی پالیسیاں؛
مالیاتی شعبے، بینکاری اور ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات؛سرکاری شعبے کے اداروں میں حکومتی حصص کی مرحلہ وار فروخت (Disinvestment)۔ان اصلاحات کا بنیادی مقصد حکومت کے کردار کو “کاروبار چلانے” سے “پالیسی سازی اور نگرانی” تک محدود کرنا تھا، تاکہ نجی شعبہ سرمایہ کاری، پیداوار اور روزگار میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے۔
اصلاحات کے ثمرات
1991 کے بعد ہندوستان کی معیشت نے نئی رفتار حاصل کی۔ اگلی تین دہائیوں میں ملک کی اوسط اقتصادی ترقی اصلاحات سے پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہی۔آئی ٹی اور سروس سیکٹر نے عالمی سطح پر ہندوستان کی نئی شناخت قائم کی۔ بنگلورو، حیدرآباد، پونے اور گڑگاؤں جیسے شہر عالمی ٹیکنالوجی مراکز میں تبدیل ہوئے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہوا جبکہ برآمدات اور زر مبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئی۔درمیانی طبقہ وسیع ہوا، لاکھوں افراد غربت سے باہر نکلے، بینکنگ خدمات میں اضافہ ہوا اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہوا۔مختلف حکومتوں نے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا۔ 1991 کے بعد آنے والی تقریباً تمام حکومتوں نے کسی نہ کسی شکل میں معاشی اصلاحات کو آگے بڑھایا۔
اٹل بہاری واجپائی کی حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، قومی شاہراہوں کے منصوبے، ٹیلی کام سیکٹر کی نجکاری، انشورنس میں نجی سرمایہ کاری اور ڈس انویسٹمنٹ جیسے اقدامات کیے۔ اسی دور میں سڑکوں اور ٹیلی کام کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وزارت عظمیٰ کے دوران اقتصادی ترقی کئی برسوں تک بلند سطح پر رہی۔ بینکاری اصلاحات، مالیاتی شمولیت، سرمایہ کاری، خدمات کے شعبے کی توسیع اور سماجی بہبود کے متعدد پروگرام متعارف کرائے گئے۔ اگرچہ عالمی مالی بحران (2008) کے باوجود ہندوستان نسبتاً بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہا، لیکن بعد کے برسوں میں پالیسی تعطل اور نجی سرمایہ کاری میں سست روی جیسے مسائل بھی سامنے آئے۔
مودی حکومت کا دور
2014 کے بعد حکومت نے کئی اہم اصلاحات نافذ کیں جن کا مقصد معیشت کو زیادہ باضابطہ، ڈیجیٹل اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار بنانا تھا۔اہم اقدامات میں:اشیا و خدمات ٹیکس (GST) کا نفاذ؛دیوالیہ پن اور قرض نجات قانون (IBC)؛ڈیجیٹل ادائیگیوں اور UPI کا فروغ؛جن دھن، آدھار اور موبائل پر مبنی DBT نظام؛کارپوریٹ ٹیکس میں کمی؛پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (PLI) اسکیم؛نیشنل انفراسٹرکچر پائپ لائن اور پی ایم گتی شکتی پروگرام؛مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹر، دفاعی پیداوار اور الیکٹرانکس میں سرمایہ کاری کو فروغ۔ان اقدامات نے ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت کو عالمی سطح پر منفرد مقام دلایا، جبکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی بڑی معیشتوں میں شامل رہا۔
موجودہ چیلنجز
اگرچہ معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی دکھائی دیتی ہے، لیکن کئی اہم چیلنج اب بھی موجود ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ روزگار کی معیاری مواقع پیدا کرنا ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، مگر رسمی شعبے میں مطلوبہ رفتار سے ملازمتیں پیدا نہیں ہو رہیں۔
اس کے علاوہ مینوفیکچرنگ کا جی ڈی پی میں حصہ اب بھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکا۔ زراعت میں اصلاحات، عدالتی نظام کی رفتار، زمین سے متعلق قوانین، شہری منصوبہ بندی، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، سپلائی چین کی تبدیلی، مصنوعی ذہانت (AI)، گرین انرجی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل بھی نئی حکمت عملی کا تقاضا کرتے ہیں۔
معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ 1991 کی اصلاحات نے معیشت کو آزاد کیا، لیکن اب اگلی منزل کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات زیادہ اہم ہیں۔ان میں سب سے اہم شعبے یہ ہیں:سرکاری اسکولوں اور اعلیٰ تعلیم کے معیار میں انقلابی بہتری؛صنعت کی ضرورت کے مطابق ہنرمندی اور تربیت؛زرعی منڈیوں، سپلائی چین اور ویلیو ایڈیشن میں اصلاحات؛عدالتی مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے عدالتی اصلاحات؛لیبر قوانین پر مؤثر عمل درآمد؛تحقیق، اختراع اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری؛خواتین کی افرادی قوت میں شرکت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات؛چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سستی مالی سہولتیں؛ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر مسابقتی وفاقیت (Competitive Federalism) کو مزید مضبوط بنانا۔
2047 کا ہدف اور آگے کا راستہ
ہندوستان نے 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک (Viksit Bharat) بننے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے صرف بلند شرح نمو کافی نہیں ہوگی بلکہ ایسی ترقی درکار ہوگی جو روزگار پیدا کرے، علاقائی عدم مساوات کم کرے، انسانی وسائل کو مضبوط بنائے اور عالمی مسابقت میں ہندوستان کو مزید آگے لے جائے۔1991 کی اصلاحات نے ہندوستان کو معاشی بحران سے نکال کر عالمی معیشت کی صفِ اول میں لا کھڑا کیا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی جرات، دور اندیشی اور سیاسی عزم کے ساتھ اصلاحات کی دوسری بڑی لہر شروع کی جائے، تاکہ آئندہ دو دہائیوں میں ہندوستان صرف تیز رفتار معیشت ہی نہیں بلکہ ایک جامع، اختراعی، منصفانہ اور پائیدار اقتصادی طاقت کے طور پر بھی اپنی شناخت مستحکم کر سکے۔
