Last Updated on January 7, 2026 8:56 pm by INDIAN AWAAZ

AMN / BIZ DESK
سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس کے بڑھتے استعمال کے ساتھ آن لائن تعلقات کے نام پر دھوکہ دہی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ عام گفتگو اور جذباتی وابستگی سے شروع ہونے والے کئی آن لائن رابطے بالآخر مالی اور ذہنی استحصال پر منتج ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دھوکہ باز ابتدا میں تعریف اور اپنائیت کے ذریعے اعتماد حاصل کرتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ جذباتی رشتہ قائم کر کے متاثرین کو رقم یا حساس معلومات فراہم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہوشیاری ہی سب سے مؤثر تحفظ ہے۔
سائبر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی اجنبی بہت کم وقت میں گہرے جذبات کا اظہار کرے، قسمت یا “سول میٹ” جیسے الفاظ استعمال کرے، تو فوراً محتاط ہو جانا چاہیے۔ اسی طرح ویڈیو کال سے انکار کرنا یا ملاقات کو بار بار مؤخر کرنا بھی دھوکہ دہی کی علامت ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ کسی نامعلوم شخص کو کبھی بھی رقم، کرپٹو کرنسی یا گفٹ کارڈ نہیں بھیجنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ سنگین بیماری، سفر میں پھنس جانے، کسٹمز کے مسائل یا “یقینی منافع” والی سرمایہ کاری جیسی کہانیاں بھی عموماً جذباتی دباؤ ڈالنے کے حربے ہوتے ہیں۔
آن لائن تحفظ کے لیے عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ مشکوک پروفائلز کی تصاویر کو ریورس امیج سرچ کے ذریعے جانچیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ تصاویر کہیں اور سے چرا تو نہیں لی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ذاتی معلومات، نجی تصاویر یا بینکنگ تفصیلات کسی کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کیا جائے۔
سائبر ماہرین نے غیر مصدقہ لنکس پر کلک کرنے یا مشکوک ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے سے بھی خبردار کیا ہے، خاص طور پر ان ایپس سے جو ٹریڈنگ، کرپٹو یا سرمایہ کاری کے نام پر تشہیر کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق معمولی سی غفلت بھی بڑے مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
Report
Any online connection that asks for money, creates urgency or requests secrecy is a red flag.
• Report online fraud on the National Cyber Crime portal at cybercrime.gov.in, call on the helpline number 1930 or call ICICI Bank’s helpline on 1800 2662.
• If you have received any malicious/phishing/suspicious e-mails or calls, please report these to Sanchar Saathi at sancharsaathi.gov.in
