Last Updated on July 21, 2026 4:26 pm by INDIAN AWAAZ
، نریندر مودی اور امت شاہ سے استعفے کا مطالبہ

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے منگل کے روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اپوزیشن اراکین کے ہمراہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ 7، لوک کلیان مارگ کے قریب دھرنا دیا اور ایک روز قبل طلبہ کے احتجاج کے دوران دہلی پولیس کی مبینہ سخت کارروائی پر وزیر اعظم سے جواب طلب کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، “ہم وزیر اعظم مودی کی رہائش گاہ تک اس لیے آئے ہیں تاکہ کل نوجوان طلبہ پر کیے گئے مبینہ مظالم کا جواب مانگ سکیں۔ حکومت نہ تو اس معاملے کی ذمہ داری قبول کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس پر بحث کرانے کے لیے تیار ہے۔”
مرکزی حکومت پر اپنے حملے کو مزید تیز کرتے ہوئے کانگریس رہنما نے الزام عائد کیا کہ حکومت ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ دونوں سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، “وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے ہندوستان کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر دیا ہے، اس لیے انہیں اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔”
وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب اپوزیشن کے اس اچانک احتجاج کے بعد قومی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا اور مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے پر پارلیمنٹ میں فوری بحث کرائی جائے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی تفصیلی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ اپوزیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر طلبہ سے متعلق معاملات میں جوابدہی طے نہ کی گئی تو اس کا احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔
دریں اثنا، آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) نے اپنی قانونی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ جاری احتجاج کے دوران گرفتار، حراست میں لیے گئے یا مبینہ طور پر پولیس کارروائی کا سامنا کرنے والے تمام نوجوانوں کو ہر ممکن قانونی مدد فراہم کی جائے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ متاثرہ نوجوان اور ان کے اہلِ خانہ قانونی معاونت کے لیے اے آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ رابطہ نمبروں پر رجوع کر سکتے ہیں، جن کی تفصیلات پارٹی نے عوامی طور پر جاری کر دی ہیں۔
