Last Updated on July 21, 2026 1:31 am by INDIAN AWAAZ

تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر دارالحکومت میں کشیدگی

ہمارے خصوصی نمائندے سے

نئی دہلی، 20 جولائی: قومی دارالحکومت میں پیر کے روز حالیہ برسوں کے سب سے بڑے سیاسی احتجاجوں میں سے ایک اس وقت دیکھنے میں آیا جب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) سے وابستہ ہزاروں مظاہرین مبینہ نیٹ (NEET) پرچہ لیک اور ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کو لے کر سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا تھا۔

اگرچہ پہلے سے اعلان کردہ “سنسد چلو مارچ” پارلیمنٹ تک نہیں پہنچ سکا، تاہم مظاہرین کی بڑی تعداد نے وسطی دہلی کے وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان متعدد مقامات پر شدید جھڑپیں ہوئیں۔ لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ، متعدد زخمیوں اور درجنوں افراد کی حراست نے پورے دن کو ہنگامہ خیز بنا دیا۔

موقع پر موجود نمائندوں کے مطابق تقریباً 50 ہزار مظاہرین جنتر منتر، پارلیمنٹ اسٹریٹ اور ملحقہ علاقوں میں جمع ہوئے، جسے رواں برس دارالحکومت کے سب سے بڑے عوامی احتجاجوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس احتجاج میں ہریانہ، اتر پردیش، راجستھان، پنجاب، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں سے طلبہ، والدین، اساتذہ اور سماجی کارکن شریک ہوئے۔ پیر کے روز اس تحریک کو ایک ماہ مکمل ہوگیا۔

یہ احتجاج مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں، خصوصاً نیٹ پرچہ لیک، کے خلاف جوابدہی طے کرنے اور تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کے مطالبے پر مبنی ہے۔ اس تحریک کو سماجی کارکن سونم وانگچک کی طویل غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال نے مزید تقویت دی ہے۔

وسطی دہلی میں سخت ترین حفاظتی انتظامات

مجوزہ پارلیمنٹ مارچ کے پیش نظر دہلی پولیس نے نئی دہلی کے حساس علاقوں میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر دیے تھے۔

پارلیمنٹ اسٹریٹ، پٹیل چوک، ٹالسٹائے مارگ اور سرکاری عمارتوں کے اطراف کئی پرتوں پر بیریکیڈ نصب کیے گئے تھے۔ دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس (RAF) اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جبکہ ہنگامہ کنٹرول گاڑیاں بھی اہم مقامات پر موجود رہیں۔

دہلی پولیس نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ پارلیمنٹ مارچ کے لیے نہ تو کوئی اجازت طلب کی گئی اور نہ ہی کوئی اجازت دی گئی ہے، اور عوام سے امتناعی احکامات کی پابندی کی اپیل کی گئی تھی۔

اس کے باوجود پیر کی صبح ہزاروں افراد جنتر منتر پر جمع ہوئے اور بعد میں پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم

جب مظاہرین نے پارلیمنٹ اسٹریٹ اور پٹیل چوک کے قریب لگائے گئے بیریکیڈ عبور کرنے کی کوشش کی تو پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم شروع ہوگیا۔

پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے متعدد بار لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ عینی شاہدین کے مطابق مختلف راستے بند ہونے کے باعث مظاہرین کئی گروپوں میں تقسیم ہوگئے اور وسطی دہلی کے مختلف مقامات پر جمع ہوگئے۔

دن بھر جاری بارش بھی مظاہرین کے حوصلے پست نہ کر سکی اور وہ تعلیمی اصلاحات اور طلبہ کو انصاف دینے کے حق میں مسلسل نعرے لگاتے رہے۔

موقع سے سامنے آنے والی تصاویر میں پارلیمنٹ اسٹریٹ پر آنسو گیس کے دھوئیں کے درمیان سیکورٹی اہلکار مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکتے ہوئے دکھائی دیے۔

پولیس کا دعویٰ: مظاہرین نے تشدد کیا

دہلی پولیس نے بعد میں جاری ایک تفصیلی بیان میں الزام لگایا کہ مظاہرین کے ایک گروہ نے پرتشدد رویہ اختیار کیا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

پولیس کے مطابق متعدد انتباہات کے باوجود مظاہرین نے امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کی اور اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے بیریکیڈ توڑنے کی کوشش کی، سرکاری گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور عوامی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔

پولیس کے مطابق جھڑپوں میں 118 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں اسپیشل کمشنر، جوائنٹ کمشنر، ایڈیشنل کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسران بھی شامل ہیں۔ متعدد خواتین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئیں۔

پولیس نے یہ بھی بتایا کہ جھڑپوں میں تقریباً 60 مظاہرین زخمی ہوئے۔

حکام کے مطابق تشدد کے دوران 15 سے 20 سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

پولیس نے تقریباً 70 مظاہرین کو حراست میں لینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ نیائے سنہتا اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت فساد، سرکاری ملازمین پر حملہ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور دیگر الزامات میں مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

سی جے پی نے پولیس کے الزامات مسترد کر دیے

سی جے پی قیادت نے پولیس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن تھا اور پولیس نے بلااشتعال طاقت کا استعمال کیا۔

پارٹی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے حکومت پر جمہوری احتجاج کو دبانے کا الزام عائد کیا۔

رانکا کے مطابق مرکزی وزیر جے پی نڈا کے ساتھ ملاقات میں وفد نے حکومت کے سامنے تین اہم مطالبات رکھے:

  • سماجی کارکن سونم وانگچک کی فوری رہائی۔
  • مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ۔
  • مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ۔

تاہم ملاقات کے کئی گھنٹے بعد رانکا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ان مطالبات پر کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔

سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دپکے نے اعلان کیا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا اور پولیس کارروائی سے تحریک کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا

کشیدہ صورتحال کے دوران مرکزی وزیر اور بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے تصدیق کی کہ حکومت اور سی جے پی کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مظاہرین کی درخواست پر حکومت نے بات چیت شروع کی، جو دوپہر سے قبل شروع ہو کر کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔

اسی دوران پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سینئر وزراء کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس کیا، جس میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان، پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اور مرکزی وزیر پیوش گوئل سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے، جبکہ باہر سیکورٹی ایجنسیاں مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔

احتیاطی اقدام کے طور پر پارلیمنٹ کی متعدد داخلی راہیں عارضی طور پر بند کر دی گئیں۔

سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا

تین ہفتوں سے زائد عرصے سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک نے پیر کے واقعات کے بعد اپنی ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

صفدرجنگ اسپتال سے جاری بیان میں انہوں نے پرامن مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی۔

اس سے قبل وانگچک نے کہا تھا کہ اگر حکومت تعلیمی نظام کی ناکامیوں، خصوصاً پرچہ لیک کے واقعات، کی ذمہ داری قبول کرے یا مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ یقین دہانی کرائیں کہ وہ پارلیمنٹ کے جاری اجلاس میں اس معاملے کو اٹھائیں گے تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر صحت انہیں احتجاج میں شریک ہونے کی اجازت نہ دے تو ارکان پارلیمنٹ اسپتال آ کر انہیں یہ یقین دہانی کرا سکتے ہیں۔

پیر کے واقعات کے بعد انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بھوک ہڑتال بدستور جاری رہے گی۔

احتجاج میں مختلف طبقات کی بھرپور شرکت

پیر کا احتجاج صرف طلبہ تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں والدین، اساتذہ، پیشہ ور افراد، ریٹائرڈ شہریوں اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

کئی افراد ہمسایہ ریاستوں سے رات بھر سفر کرکے دہلی پہنچے تھے۔

ہریانہ کے جھجر سے آنے والی خواتین نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر اس تحریک کی حمایت کے لیے دہلی آئی ہیں۔

مظاہرین کے ہاتھوں میں تعلیمی شفافیت، نوجوانوں کے مستقبل اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف نعرے درج پلے کارڈ تھے۔

اگرچہ بعض گروہوں نے دیگر سیاسی مطالبات بھی اٹھائے، لیکن پورا احتجاج بنیادی طور پر تعلیمی اصلاحات اور نیٹ تنازع کے گرد ہی مرکوز رہا۔

پارلیمنٹ اجلاس کے پہلے دن سیاسی دباؤ میں اضافہ

یہ احتجاج پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ہوا، جس سے اس کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی۔

اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی اشارہ دے چکی ہیں کہ وہ امتحانی بے ضابطگیوں، نوجوانوں کے مسائل اور تعلیمی نظام کو پارلیمنٹ میں بھرپور طریقے سے اٹھائیں گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پیر کا یہ بڑا احتجاج آئندہ دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی بحث پر اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً اگر حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچے۔

صورتحال قابو میں، مگر تحریک جاری

رات گئے تک پولیس نے پارلیمنٹ اسٹریٹ اور ملحقہ علاقوں کو بڑی حد تک خالی کرا لیا، تاہم پورے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری بدستور تعینات رہی۔

پولیس تشدد اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو ریکارڈنگ کا جائزہ لے رہی ہے۔

دوسری جانب سی جے پی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے بنیادی مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا، جس سے امکان ہے کہ مانسون اجلاس کے دوران مزید مظاہرے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

پیر کے واقعات نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے، جہاں حکومت اور احتجاجی قیادت ایک دوسرے پر کشیدگی بڑھانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔