Last Updated on August 29, 2026 2:27 pm by INDIAN AWAAZ

دلتوں سے امتیازی سلوک پر راہل گاندھی کا حملہ، اتراکھنڈ واقعے میں ایف آئی آر کا مطالبہ

AMN

نئی دہلی

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آئین میں مساوات اور سماجی انصاف کی ضمانت کے باوجود ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، توہین اور تشدد کے واقعات جاری ہیں۔

ایک خصوصی پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ ایک طرف آئین کا نظریہ ہے جبکہ دوسری طرف بی جے پی اور آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے وقار، مساوات اور بنیادی حقوق سے متعلق معاملہ ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ دلتوں پر ظلم اور امتیاز کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور آئین کے نفاذ کے بعد بھی کئی مقامات پر یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض علاقوں میں دلتوں کو کنوؤں سے پانی لینے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

انہوں نے چائے کی دکانوں پر مبینہ امتیازی سلوک اور شادی کی تقریبات میں گھوڑے پر سوار ہونے کے معاملے پر دلتوں کو دھمکانے اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا بھی ذکر کیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ جب کوئی دلت شخص سماجی، سیاسی یا معاشی طور پر کامیاب ہوتا ہے تو اس کے خلاف مخالفت اور حملے مزید شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ انہوں نے راجستھان کانگریس قانون ساز پارٹی کے رہنما ٹیکارام جولی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے مذہبی مقامات پر جانے کے بعد مبینہ طور پر “تطہیر” کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات دلتوں کے وقار کی توہین ہیں اور درج فہرست ذاتوں و قبائل کے خلاف مظالم کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت قابل سزا جرم ہیں۔

راہل گاندھی نے خاص طور پر اتراکھنڈ میں پیش آنے والے مبینہ “تطہیر” کے واقعے کا مسئلہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 20 دن گزرنے کے باوجود اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی اور نہ ہی مؤثر کارروائی ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور متعلقہ قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔

انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ وہ ہر ذات کے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اتراکھنڈ میں بی جے پی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے مبینہ “تطہیر” کو درست قرار دیا جانا اس دعوے کے برعکس ہے۔

قائد حزب اختلاف نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت دیں۔

راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ اس طرح کے واقعات بی جے پی اور آر ایس ایس کی مبینہ ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اصل لڑائی آئین میں درج مساوات، وقار اور انصاف کے اصولوں اور اس کے برعکس نظریے کے درمیان ہے۔