Last Updated on February 13, 2026 11:09 pm by INDIAN AWAAZ

ڈاکٹر شہلا شیخ اور ڈاکٹر سنجے کلرا

مقدس مہینہ رمضان اگلے ہفتے شروع ہونے والا ہے، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عبادت اور روزے کا بابرکت زمانہ ہے۔

اس وقت شعبان کا مہینہ جاری ہے، جو رمضان سے فوراً پہلے آتا ہے۔ یہ وہ دورانیہ ہے جب انسان رمضان کی تیاری کرتا ہے، کم از کم ایک یا دو روزے رکھ کر اپنے معمولات کو منظم کرتا ہے اور آئندہ مہینے کے امور کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ یہ معالجین کے لیے بھی ایک موزوں وقت ہوتا ہے کہ وہ رمضان کے دوران نافذ کیے جانے والے علاج کے طریقۂ کار کا ابتدائی جائزہ لے سکیں۔ رمضان کے بعد شوال کا مہینہ آتا ہے، جس کا آغاز عیدالفطر کی خوشی سے ہوتا ہے اور ایک ماہ کے روزوں کے اختتام کی علامت بنتا ہے۔

ذیابیطس میں نہ زیادہ بھوکا رہنا مناسب ہے اور نہ ہی زیادہ کھانا۔ یہ ایک نازک توازن ہے جسے خطرات کم سے کم رکھتے ہوئے برقرار رکھنا ضروری ہے۔

اگرچہ شریعت میں ذیابیطس کے مریضوں کو روزے سے رخصت دی گئی ہے، تاہم بہت سے مریض رمضان میں روزہ رکھنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ اندازاً چودہ کروڑ اسی لاکھ مسلمان ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں اور ان میں سے گیارہ کروڑ ساٹھ لاکھ کے قریب افراد رخصت کے باوجود روزہ رکھتے ہیں۔ تیرہ مسلم ممالک میں تقریباً تیرہ ہزار شرکا پر کی گئی ایک وبائیاتی تحقیق کے مطابق پہلی قسم کی ذیابیطس کے تینتالیس فیصد اور دوسری قسم کے اناسی فیصد مریضوں نے رمضان کے دوران روزے رکھے۔

خطرات اور چیلنجز

رمضان کے دوران ذیابیطس کے مریضوں اور طبی ماہرین دونوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ روزہ رکھنے سے روزمرہ زندگی میں اچانک تبدیلی آ جاتی ہے۔

روزے کے دوران دو کھانے کی اجازت ہوتی ہے: سحری جو طلوعِ آفتاب سے پہلے کھائی جاتی ہے، اور افطار جو غروبِ آفتاب کے بعد کیا جاتا ہے۔ یوں کھانے کے اوقات رات میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ اس تبدیلی سے خون میں شکر کی سطح کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ مزید برآں افطار کے وقت زیادہ مقدار میں نشاستہ دار، چکنائی والی اور میٹھی اشیا کا استعمال خون میں شکر کی سطح کو بگاڑ سکتا ہے، جس سے دن میں شکر کی کمی اور افطار کے بعد زیادتی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

نیند کا معمول بھی بدل جاتا ہے، جسمانی سرگرمی کم ہو سکتی ہے اور ادویات باقاعدگی سے لینے میں کوتاہی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

طویل اوقات کے روزے، جو مسلسل تیس دن تک چودہ سے اٹھارہ گھنٹے جاری رہ سکتے ہیں، شکر کی شدید کمی کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شکر کی زیادتی، کیٹواسڈوسس، خون جمنے کی کیفیت اور دل کے اچانک عوارض جیسے پیچیدگیوں کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ گرم اور مرطوب موسم یا جسمانی مشقت والے کام کرنے والوں میں پانی کی کمی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اور بعض اوقات ہنگامی طبی امداد کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

اسی لیے روحانی طور پر بامعنی اور طبی اعتبار سے محفوظ روزے کے لیے مناسب تیاری نہایت ضروری ہے۔

ابلاغ اور مشاورت

تیاری کا آغاز مریض اور معالج کے درمیان واضح گفتگو سے ہوتا ہے۔ اس سے ثقافتی رکاوٹیں کم ہوتی ہیں، اعتماد پیدا ہوتا ہے اور مشترکہ فیصلے مؤثر انداز میں کیے جا سکتے ہیں۔ اگر مریض خود بات نہ کرے تو معالج کو چاہیے کہ رمضان سے ایک یا دو ماہ پہلے روزے کے موضوع پر گفتگو شروع کرے۔ مقصد روزے سے روکنا نہیں بلکہ محفوظ طریقے سے روزہ رکھنے کی رہنمائی فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ لہجہ نرم اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔

طبی جانچ اور خطرے کی درجہ بندی

رمضان سے کم از کم چھ سے آٹھ ہفتے پہلے مریض کا مکمل طبی معائنہ کیا جانا چاہیے تاکہ خطرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اس جائزے میں ذیابیطس کی نوعیت اور مدت، رمضان سے پہلے خون میں شکر کا کنٹرول، شکر کی کمی کی سابقہ تاریخ، خون میں شکر کی خود نگرانی کی عادت، استعمال ہونے والی ادویات، شدید پیچیدگیاں، گردوں یا دل کی بیماریاں، حمل، کمزوری، ذہنی حالت، جسمانی مشقت، روزے کے اوقات اور سابقہ تجربہ شامل کیے جاتے ہیں۔

گزشتہ سال کامیابی سے روزہ رکھ لینا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آئندہ بھی صورتحال یکساں رہے گی۔ مریض کا میٹابولک طور پر مستحکم ہونا ضروری ہے۔ جن مریضوں کی ذیابیطس بے قابو ہو یا جنہیں بار بار شکر کی کمی یا زیادتی کا سامنا ہو، انہیں روزہ رکھنے سے منع کیا جانا چاہیے۔ خون میں شکر کی اضافی نگرانی پر زور دینا ضروری ہے۔

رمضان سے متعلق طبی تعلیم

مریضوں کی تعلیم کا مقصد خطرات سے آگاہی اور ان سے بچاؤ کی عملی تدابیر سکھانا ہے۔ مریض کو شکر کی کمی اور زیادتی کی علامات سے واقف ہونا چاہیے اور خون میں شکر کی باقاعدہ جانچ کی اہمیت سمجھنی چاہیے۔ بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ انگلی سے خون لے کر شکر چیک کرنا روزہ توڑ دیتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ایسی غلط فہمیوں کو دور کرنا بھی تعلیم کا حصہ ہے۔

غذا اور ورزش

مریضوں کو متوازن غذا لینے کا مشورہ دیا جائے۔ سحری میں دیر سے ہضم ہونے والے نشاستہ دار اجزا مفید ہیں جبکہ افطار میں سادہ نشاستہ مناسب مقدار میں لیا جا سکتا ہے۔ کم گلائسیمک اشاریہ اور زیادہ ریشہ والی غذا بہتر ہے، جبکہ چکنائی اور میٹھی اشیا سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مٹھائی، سیویاں یا کھجور محدود مقدار میں لی جا سکتی ہیں، مگر خون میں شکر کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہے۔

روزے کے دوران سخت جسمانی مشقت سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ شکر کی کمی نہ ہو۔ معتدل ورزش کی اجازت ہے۔ غروبِ آفتاب سے طلوعِ آفتاب تک پانی یا بغیر شکر والے مشروبات زیادہ مقدار میں لے کر جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا ضروری ہے۔

ادویات میں ردوبدل

رمضان سے پہلے تمام ادویات کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ خوراک اور اوقات میں ضروری تبدیلی کی جا سکے۔ بعض ادویات کو دیرپا اثر رکھنے والی شکل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا دن میں ایک یا دو بار لینے کے شیڈول پر منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ شکر کی کمی کا خطرہ کم ہو۔ نئی دوا شروع کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

روزہ کب توڑنا ضروری ہے؟

اگر خون میں شکر کی سطح بہت کم یا بہت زیادہ ہو جائے، یا شکر کی کمی، زیادتی، شدید بیماری یا پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً روزہ توڑ دینا چاہیے۔

نتیجہ

رمضان المبارک صرف روحانی ترقی کا مہینہ نہیں بلکہ یہ جامع طبی معائنے اور صحت کے جائزے کا بھی بہترین موقع ہے۔ بعض مریض پیشگی معائنہ کرا لیتے ہیں جبکہ بعض، خصوصاً نئے تشخیص شدہ مریض، تاخیر سے رجوع کرتے ہیں۔ اس عرصے میں بروقت اور فعال طبی رہنمائی ہر فرد کو محفوظ اور بامعنی انداز میں روزہ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

This is only medical advice and nothing to infringe in religious belief.