Last Updated on May 26, 2026 1:54 pm by INDIAN AWAAZ

ویویک شکلا
26 مئی 1964۔ دہلی کی گرم ہوائیں تین مورتی بھون کے باغات میں سرسراتی پھر رہی تھیں، مگر اُس دن کی خاموش فضا میں ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔ پنڈت جواہر لال نہرو چند گھنٹے قبل ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے دہرادون سے واپس لوٹے تھے۔ یہ دہلی سے باہر اُن کا آخری سفر ثابت ہوا۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر وہ صحت یابی کے لیے دہرادون گئے تھے۔ اُن کی عمر چوہتر برس ہو چکی تھی اور جنوری 1964 میں بھونیشور میں کانگریس اجلاس کے دوران شدید فالج کے حملے کے بعد اُن کی صحت مسلسل کمزور رہنے لگی تھی۔ جسم تھک چکا تھا، لیکن ارادہ، حوصلہ اور وطن سے وابستگی بدستور قائم تھی۔
نہرو جی 23 مئی کو آرام و صحت یابی کی غرض سے دہرادون پہنچے تھے۔ وہ سرکٹ ہاؤس، جو اب راج بھون کہلاتا ہے، میں مقیم رہے۔ یہ مقام اُن کے لیے اجنبی نہ تھا؛ وہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ یہاں سکون کے لمحات گزار چکے تھے۔ وہ باغوں میں ٹہلتے، کسی پسندیدہ درخت کے سائے تلے دیر تک خاموش بیٹھے رہتے، پرندوں کی چہچہاہٹ سنتے اور کبھی کچھ پڑھتے یا لکھتے رہتے۔
25 مئی کو اُنہوں نے اپنے دیرینہ دوست اور سابق گورنر شری پرکاش سے ملاقات کی اور اُن کے ساتھ دوپہر کا کھانا تناول کیا۔ شری پرکاش نے نہرو کی گرتی ہوئی صحت دیکھ کر مشورہ دیا کہ اب انہیں آرام کرنا چاہیے، مگر نہرو نے مسکرا کر بات ٹال دی۔
26 مئی کو واپسی کے وقت دہرادون کے کینٹونمنٹ پولو گراؤنڈ میں چند مقامی سول اور فوجی افسران، کانگریس کارکنان اور صحافی موجود تھے۔ اُس وقت کے ضلع مجسٹریٹ اے۔ پی۔ دکشت نے بعد میں اپنی کتاب “آخری چرن” میں اس سفر کی نہایت درد انگیز تصویر کشی کی۔ دکشت نے نہرو کو مزید کچھ دن دہرادون میں قیام کا مشورہ دیا تھا، لیکن نہرو دہلی واپس لوٹنے پر مُصر تھے۔
تین مورتی بھون پہنچنے کے بعد نہرو نے حسبِ معمول سرکاری کاموں میں خود کو مصروف کر لیا۔ دوپہر اور شام کے دوران بعض سیاسی رفقا اور سرکاری افسران اُن سے ملنے آئے۔ ملاقاتیں مختصر رہیں، جن میں ملکی صورتحال اور چند اہم فائلوں پر گفتگو ہوئی۔ شام کے وقت انہوں نے بدھ پورنیما کے موقع پر جاپان کے ایک بودھ راہب کو خط لکھا، جس میں امن، ایشیائی اتحاد اور انسانیت کے اعلیٰ اقدار کا ذکر کیا گیا تھا۔ اسے اُن کا آخری تحریری پیغام تصور کیا جاتا ہے۔ رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے وہ آرام کے لیے اپنے کمرے میں چلے گئے۔
سروپلی گوپال کی معروف تصنیف “Jawaharlal Nehru: A Biography, Volume 3 (1956–1964)” میں نہرو کے ان آخری ایام کا نہایت گہرا اور اثر انگیز بیان ملتا ہے۔ گوپال، جنہیں نہرو کی زندگی کا مستند ترین سوانح نگار مانا جاتا ہے، لکھتے ہیں کہ شدید جسمانی کمزوری کے باوجود نہرو مسلسل کام کر رہے تھے۔ اُن کے مطابق 26 مئی دراصل نہرو کی پوری زندگی کی علامت تھا — ایک ایسا دن جس میں وہ آخری لمحے تک ذمہ داری، حساسیت اور انتھک محنت کے ساتھ ملک کی خدمت میں مصروف رہے۔
رات کے وقت کمر درد کے باعث نہرو کئی بار بیدار ہوئے۔ 27 مئی کی صبح تقریباً 6 بج کر 25 منٹ پر، جب وہ اپنے کمرے سے ملحق غسل خانے سے واپس لوٹ رہے تھے، اُنہیں ایک اور شدید فالج کا حملہ ہوا اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ گھریلو ملازمین نے انہیں خون کے نشانات کے ساتھ پایا۔ اندرا گاندھی فوراً اُن کے پاس پہنچیں۔ ولنگڈن اسپتال، جو آج رام منوہر لوہیا اسپتال کہلاتا ہے، کے ڈاکٹروں کو طلب کیا گیا، جن میں ڈاکٹر آر۔ کے۔ کرولی بھی شامل تھے۔ مگر نہرو کو دوبارہ ہوش میں لانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔ دوپہر 1 بج کر 44 منٹ پر اُن کا انتقال ہو گیا۔ موت کی وجہ دل کا دورہ، اندرونی خون ریزی اور فالج بتائی گئی۔
یہ لمحہ پورے ملک کے لیے ناقابلِ بیان صدمے کا تھا۔ اُس وقت کے صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن نے کہا تھا:
“ہماری زندگی کی روشنی بجھ گئی ہے۔”
لاکھوں لوگ تین مورتی بھون پہنچے، جہاں سے نہرو کا آخری سفر شانتی ون تک نکالا گیا۔
26 مئی اس لیے بھی ایک غیرمعمولی اور دردناک دن مانا جاتا ہے کہ یہ نہرو کی عملی زندگی کا آخری دن تھا۔ دہرادون کی پُرسکون فضا سے واپس آنے کے باوجود وہ آرام نہ کر سکے، کیونکہ ملک کی فکر اُن کے دل و دماغ پر مسلسل چھائی ہوئی تھی۔ سرکٹ ہاؤس کی ٹھنڈی ہوائیں، شری پرکاش کے ساتھ آخری ظہرانہ، کپور کے درخت کا سایہ اور پھر تین مورتی بھون کی خاموش دیواریں — سب اُس آخری دن کی گواہ ہیں۔
پنڈت جواہر لال نہرو کی زندگی 1889 میں شروع ہوئی تھی۔ آزادی کی جدوجہد، جیل کی صعوبتیں، ڈسکوری آف انڈیا جیسی شاہکار تصنیف اور سترہ برس پر محیط وزارتِ عظمیٰ — یہ سب اُن کی سیاسی و فکری زندگی کے اہم ابواب تھے۔ 1962 کی چین جنگ نے انہیں اندر سے توڑ دیا تھا۔ سروپلی گوپال کی سوانح کے تیسرے حصے میں نہرو کے ان آخری برسوں کو جس گہرائی سے بیان کیا گیا ہے، اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر تنہا، تھکے ہوئے، مگر اپنے فرض سے آخری سانس تک وابستہ تھے۔
ادھر کل، 27 مئی کو پنڈت جواہر لال نہرو کی برسی کے موقع پر دہلی کے شانتی ون میں عقیدت مندوں کا ہجوم امڈ آئے گا۔ شانتی ون کی فضا اتنی پُرسکون اور روح پرور ہے کہ انسان بے اختیار سکون محسوس کرنے لگتا ہے۔
صبح کے وقت شانتی ون کا منظر نہایت دلکش دکھائی دیتا ہے۔ پرندوں کی شیریں آوازیں، نرم و ملائم صبح کی ہوا اور یمنا کے بہتے پانی کی مدھم سرگوشیاں اس مقام کو ایک منفرد روحانی کیفیت عطا کرتی ہیں۔
اسی شانتی ون میں نہرو کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔ “شانتی ون” کا نام اُن کی امن پسند طبیعت، ہمہ گیر سوچ اور عدم تشدد کے فلسفے کی علامت ہے۔ تقریباً 52.6 ایکڑ پر پھیلا یہ سرسبز و شاداب باغ دہلی کے قلب میں واقع ہے۔ یہاں سیکڑوں درختوں پر ہزاروں پرندے بسیرا کرتے ہیں، جو طلوعِ سحر کے ساتھ ہی نغمہ سرا ہو جاتے ہیں، جبکہ گلہریاں دن بھر ایک درخت سے دوسرے درخت تک دوڑتی پھرتی دکھائی دیتی ہیں۔
ہر سال 14 نومبر اور 27 مئی کو یہاں کُل مذاہب دعائیہ اجتماع منعقد ہوتا ہے، جہاں برادر سولومن جارج بائبل کے مقدس اقتباسات پڑھتے ہیں۔ وہ اکثر شانتی ون کی ہریالی میں چند لمحے خاموشی اور سکون کے ساتھ گزارنے بھی آتے ہیں۔
یہ یادگار اپنی سادگی، فطری حسن اور علامتی اہمیت کے باعث منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہاں نہ کوئی شاندار عمارت ہے اور نہ ہی کوئی ظاہری شان و شوکت، مگر اس کے باوجود یہ مقام ہندوستان کی سیاسی تاریخ اور اجتماعی یادداشت کا ایک خاموش مگر پُراثر استعارہ بن چکا ہے۔
