Last Updated on May 26, 2026 4:06 pm by INDIAN AWAAZ
عرفات / مکہ مکرمہ
حج 2026 کے روح پرور مناظر کے درمیان میدانِ عرفات میں واقع مسجد نمرہ میں آج خطبۂ عرفہ ادا کیا گیا، جہاں لاکھوں فرزندانِ توحید نے انتہائی عقیدت و خشوع کے ساتھ خطبہ سنا اور نمازِ ظہر و عصر ادا کی۔ مسجد نمرہ میں ہونے والے اس عظیم اجتماع میں متعدد اعلیٰ سعودی شخصیات بھی شریک ہوئیں، جن میں مکہ مکرمہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز، مملکت کے مفتیِ اعظم شیخ صالح الفوزان، وزیرِ اسلامی امور و دعوت و ارشاد شیخ عبداللطیف آل الشیخ، اور امورِ حرمین کے سربراہ شیخ عبدالرحمن السدیس شامل تھے۔
روضۂ رسولؐ کے امام، شیخ علی الحذیفی نے خطبۂ عرفہ دیتے ہوئے کہا کہ حج اسلام کا ایک عظیم اور بنیادی رکن ہے، جس کی بنیاد خالص توحید، اطاعتِ الٰہی اور بندگی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج صرف عبادت ہی نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے درمیان اخوت، باہمی تعارف، ہم آہنگی اور اتحاد کا ایک عالمی مظہر بھی ہے، جہاں رنگ، نسل، زبان اور قومیت کی تمام تفریقیں مٹ جاتی ہیں۔
شیخ الحذیفی نے زور دے کر کہا کہ حج کی قبولیت کے لیے بہترین اخلاق، سچی گفتگو اور ہر قسم کے گناہ، جھگڑے، اختلاف اور سیاسی یا جماعتی نعروں سے اجتناب ضروری ہے۔ انہوں نے حجاج کرام کو تلقین کی کہ وہ اپنے قول و عمل میں تقویٰ، صبر اور تحمل کو اختیار کریں تاکہ حج کی حقیقی روح برقرار رہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے اسلام کے بنیادی ارکان، خوفِ خدا کی اہمیت اور اہلِ ایمان کے لیے نصرتِ الٰہی کے اصولوں پر بھی روشنی ڈالی۔ شیخ الحذیفی نے مناسکِ حج کے مختلف مراحل کا تذکرہ کرتے ہوئے حجاج کو ہدایت دی کہ وہ عبادات کی ادائیگی کے دوران سکون و وقار کو ملحوظ رکھیں، رش اور دھکم پیل سے گریز کریں اور سعودی حکام کی جانب سے جاری ہجوم کے نظم و نسق سے متعلق ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ تمام زائرین کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
خطبے کے اختتام پر شیخ علی الحذیفی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حجاج کرام کے حج اور عبادات کو قبول فرمائے، عالمِ اسلام کو اتحاد و یکجہتی کی نعمت عطا کرے اور خادمِ حرمین شریفین کی قیادت کو حرمین شریفین کی خدمت پر بہترین جزا عطا فرمائے۔
خطبے کے بعد لاکھوں حجاج نے سنتِ نبویؐ کی پیروی کرتے ہوئے نمازِ ظہر اور عصر کو جمع اور قصر کرکے ادا کیا، جس سے میدانِ عرفات میں ایک روحانی اور ایمان افروز منظر دیکھنے میں آیا۔

ایامِ حج کے دوران مکہ اور مشاعرِ مقدسہ میں 64 لاکھ مکعب میٹر سے زائد پانی فراہم
مکہ مکرمہ
سعودی واٹر اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ یکم ذی الحجہ سے آٹھ ذی الحجہ 1447 ہجری تک مکہ مکرمہ اور مشاعرِ مقدسہ میں 64 لاکھ مکعب میٹر سے زائد پانی تقسیم کیا گیا، جو حج سیزن کے دوران حجاج کرام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مرتب کیے گئے جامع آپریشنل منصوبے کا حصہ ہے۔
اتھارٹی کے مطابق یومِ ترویہ کے موقع پر، جب لاکھوں حجاج منیٰ اور دیگر مقدس مقامات کی جانب روانہ ہوئے، پانی کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس دوران 8 لاکھ 83 ہزار 640 مکعب میٹر سے زیادہ پانی فراہم کیا گیا، جو سعودی آبی نظام کی تیاری، مؤثر انتظام اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پانی کے معیار اور صحت سے متعلق معیارات کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی اور لیبارٹری ٹیموں نے یومِ ترویہ کے دوران مختلف آپریشنل مقامات پر 4 ہزار 625 لیبارٹری ٹیسٹ انجام دیے، تاکہ پانی کی فراہمی مکمل طور پر محفوظ اور عالمی صحت کے اصولوں کے مطابق رہے۔
سعودی واٹر اتھارٹی نے واضح کیا کہ متعلقہ اداروں کے تعاون سے حج آپریشنل منصوبے مسلسل جاری ہیں تاکہ مکہ مکرمہ اور مشاعرِ مقدسہ میں پانی کی بلاتعطل فراہمی برقرار رہے اور حجاج کرام مکمل اطمینان، سہولت اور سکون کے ساتھ اپنے مناسک ادا کر سکیں۔

