Last Updated on May 25, 2026 5:51 pm by INDIAN AWAAZ

سخت گرمی کے باوجود عازمینِ حج کے جوش و جذبے میں کمی نہیں

اے ایم این / نیوز ڈیسک

مکہ مکرمہ: اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل سالانہ فریضۂ حج کا باقاعدہ آغاز پیر کے روز ہو گیا، جب دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان شدید گرمی اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ماحول کے درمیان حجاز مقدس پہنچے۔

سعودی حکام کے مطابق بیرونِ ملک سے آنے والے عازمینِ حج کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس سال حج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں ایران جنگ بندی کے بعد بھی بے یقینی اور سیاسی تناؤ کی کیفیت برقرار ہے۔ اس کے باوجود روحانی جوش و جذبہ عازمین کے چہروں پر نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔

مصر سے تعلق رکھنے والی خاتون عازمِ حج سامیہ عبد المنعم نے مکہ پہنچنے پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو بے حد خوش نصیب محسوس کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق، “یہ کیفیت الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے یہ سعادت عطا کی۔”

شدید گرمی کے باوجود عبادت اور عقیدت کا منظر

حج کے ابتدائی مرحلے میں لاکھوں عازمین مکہ کے قریب واقع خیموں کے شہر منیٰ کی جانب روانہ ہوئے، جبکہ ہزاروں افراد نے مسجد الحرام میں خانۂ کعبہ کا طواف کیا۔ سخت دھوپ اور بلند درجہ حرارت کے باوجود عقیدت مندوں کا جذبہ دیدنی رہا۔

گرمی سے بچاؤ کے لیے عازمین چھتریوں اور ہاتھ سے چلنے والے پنکھوں کا استعمال کرتے دکھائی دیے، جبکہ رضاکاروں کی جانب سے مسلسل پانی کی بوتلیں تقسیم کی جا رہی تھیں۔ مختلف مقامات پر نصب بڑے پنکھے اور پانی کی باریک پھوار چھوڑنے والے اسپرے بھی عازمین کو راحت پہنچانے میں مصروف رہے۔

حج مسلمانوں کے لیے ایک عظیم روحانی سفر مانا جاتا ہے، جہاں وہ اللہ سے مغفرت، رحمت اور نئی روحانی زندگی کی امید کے ساتھ عبادات انجام دیتے ہیں۔ بہت سے عازمین اس مقدس سفر کے لیے برسوں تک دعائیں کرتے اور رقم جمع کرتے رہتے ہیں۔

I

وزارتِ صحت کی ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کی ہدایت

شدید گرمی کے پیش نظر سعودی وزارتِ صحت نے عازمینِ حج کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ دھوپ میں طویل پیدل سفر سے گریز کیا جائے، چھتریوں کا استعمال کیا جائے اور مناسب مقدار میں پانی و دیگر مشروبات پیتے رہیں۔

وزارت نے خبردار کیا کہ چکر آنا، تھکن محسوس ہونا یا زیادہ پسینہ آنا ہیٹ اسٹروک کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں عازمین کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز یا میڈیکل ٹیم سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق صحت سے متعلق ہدایات پر عمل کرنا تمام عازمین کی حفاظت اور کامیاب حج کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

یومِ عرفات سے قبل مسجدِ نمرہ میں خصوصی انتظامات

دوسری جانب سعودی وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد نے یومِ عرفات سے قبل مسجدِ نمرہ میں وسیع پیمانے پر انتظامات مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزارت کے مطابق مسجد میں ایک لاکھ پچیس ہزار مربع میٹر اعلیٰ معیار کے قالین بچھائے گئے ہیں، جبکہ ائر کنڈیشننگ، وینٹیلیشن، پانی کی فراہمی اور ساؤنڈ سسٹم کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا گیا ہے تاکہ لاکھوں عازمین کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

عازمین کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے 72 داخلی و خارجی راستوں کو منظم کیا گیا ہے، جبکہ نگرانی کے لیے جدید کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ مزید برآں 150 ڈیجیٹل اسکرینز اور مختلف زبانوں میں رہنمائی فراہم کرنے والے 10 معلوماتی پلیٹ فارمز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد عازمینِ حج کو محفوظ، آرام دہ اور منظم ماحول میں عبادات کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا ہے۔