عندلیب اختر و للت گارگ
ایک ایسا وقت جب انسان چاند تک پہنچ چکا ہے مگر اپنے ہی گھر کے کمروں میں اجنبی بنتا جا رہا ہے، جب دنیا ڈیجیٹل رابطوں سے بھر گئی ہے مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں، ایسے دور میں ’’خاندان‘‘ انسانیت کی آخری پناہ گاہ بن کر ابھرتا ہے۔ جنگوں، مہنگائی، بے روزگاری، ذہنی دباؤ، تنہائی اور ٹوٹتے ہوئے رشتوں کے اس عہد میں اگر کوئی ادارہ انسان کو محبت، تحفظ، اعتماد اور سکون فراہم کر سکتا ہے تو وہ خاندان ہی ہے۔
ہر سال 15 مئی کو منایا جانے والا ’’عالمی یومِ خاندان‘‘ صرف ایک رسمی دن نہیں بلکہ انسان کو اپنی اصل شناخت یاد دلانے کا لمحہ ہے۔ یہ دن ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ترقی، دولت اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں کہیں ہم اپنے وہ رشتے تو نہیں کھو بیٹھے جو زندگی کو معنی دیتے ہیں۔ آج جب پوری دنیا عدم تحفظ، تشدد اور بے یقینی کے اندھیروں میں گھری ہوئی ہے، خاندان ہی امید کی وہ شمع ہے جو انسان کے اندر انسانیت کو زندہ رکھتی ہے۔
آج دنیا کا سب سے بڑا بحران صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور جذباتی بھی ہے۔ بازار کی چکاچوند تہذیب نے انسان کو صارف تو بنا دیا، مگر اسے زیادہ حساس اور مہربان انسان بنانے میں ناکام رہی۔ رشتوں میں خود غرضی داخل ہو چکی ہے اور اعتماد کی جگہ شکوک نے لے لی ہے۔ انسان مشینوں سے قریب اور اپنے عزیزوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ جنگیں اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ گھروں کے اندر بھی دکھائی دینے لگی ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان، نسلوں کے درمیان، حتیٰ کہ بہن بھائیوں کے درمیان بھی فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مکالمہ ختم ہو رہا ہے، برداشت کم ہوتی جا رہی ہے اور ’’میں‘‘ کی انا ’’ہم‘‘ کے جذبے کو نگلتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں خاندان کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
خاندان محض خون کے رشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کی اقدار کا پہلا مدرسہ ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں انسان محبت، قربانی، تعاون، نظم و ضبط، صبر اور بقائے باہمی کا سبق سیکھتا ہے۔ اگر خاندان صحت مند ہوں گے تو معاشرہ بھی صحت مند ہوگا، اور جب معاشرہ متوازن ہوگا تو قومیں اور دنیا بھی توازن کا شکار نہیں ہوں گی۔ اس لیے آج ضرورت صرف خاندانوں کو بچانے کی نہیں بلکہ انہیں اقدار اور اخلاقیات سے مضبوط بنانے کی ہے۔
مہنگائی کے اس دور میں جب بنیادی ضروریات مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں اور بے روزگاری نوجوانوں کے خواب توڑ رہی ہے، مشترکہ خاندان کا تصور ایک بار پھر نہایت اہم دکھائی دیتا ہے۔ مشترکہ خاندان صرف معاشی بندوبست نہیں بلکہ جذباتی تحفظ کا ذریعہ بھی ہے۔ وسائل بانٹے جاتے ہیں، ذمہ داریاں تقسیم ہوتی ہیں اور مشکلات کسی ایک فرد پر نہیں آتیں۔ تنہائی اور ذہنی دباؤ کے مسائل بھی ایسے خاندانوں میں نسبتاً کم نظر آتے ہیں کیونکہ وہاں گفتگو اور اپنائیت زندہ رہتی ہے۔
جدید تہذیب نے انسان کو آزادی تو دی، مگر یہی آزادی اکثر رشتوں سے دوری کا سبب بن گئی۔ بڑے شہروں کے چھوٹے فلیٹوں میں رہنے والے ہزاروں لوگ بظاہر خوشحال دکھائی دیتے ہیں لیکن اندر سے شدید تنہائی کا شکار ہوتے ہیں۔ بوڑھے والدین نظر انداز کیے جا رہے ہیں، بچے اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور ازدواجی رشتوں میں گرم جوشی کم ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذہنی بیماریوں، اضطراب، عدم تحفظ اور خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ محض ذاتی ناکامیاں نہیں بلکہ خاندانی ادارے کے کمزور ہونے کی نشانیاں ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ خاندان کو صرف سہولت اور صارفیت کا مرکز بنانے کے بجائے اسے ’’عدم تشدد کی تجربہ گاہ‘‘ بنایا جائے۔ عدم تشدد صرف جسمانی نقصان نہ پہنچانے کا نام نہیں بلکہ تلخ زبان سے بچنا، ایک دوسرے کی توہین نہ کرنا، جذبات کا احترام کرنا، غصے پر قابو پانا، مکالمہ برقرار رکھنا اور معاف کرنا بھی عدم تشدد کی شکلیں ہیں۔ اگر خاندانوں کے اندر ہی نفرت، تلخی، تحقیر اور عدم برداشت کا ماحول ہوگا تو معاشرہ امن کا خواب کیسے دیکھ سکتا ہے؟
خاندان وہ پہلی جگہ ہونا چاہیے جہاں بچے برداشت، محبت اور ہمدردی سیکھیں۔ جہاں انہیں بتایا جائے کہ زندگی مقابلہ نہیں بلکہ بقائے باہمی کا نام ہے۔ جہاں بزرگ بوجھ نہیں بلکہ تجربے کا خزانہ سمجھے جائیں۔ جہاں عورت کو عزت، بچوں کو تربیت اور نوجوانوں کو اعتماد ملے۔ آج دنیا میں بڑھتے ہوئے تشدد کی ایک بڑی وجہ خاندانوں کے اندر مکالمے اور جذباتی وابستگی کا کمزور ہونا بھی ہے۔ بچے موبائل فون سے بات کر رہے ہیں مگر اپنے والدین سے نہیں۔ لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی جذباتی طور پر ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی، جنگیں اور معاشی عدم استحکام نے پوری دنیا کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ روس۔یوکرین جنگ ہو یا مغربی ایشیا کے تنازعات، ان سب کا سب سے بڑا اثر خاندانوں پر پڑتا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، بچے یتیم ہو جاتے ہیں اور عورتیں عدم تحفظ اور استحصال کا شکار بنتی ہیں۔ ان عالمی بحرانوں کے درمیان خاندان ہی وہ ادارہ ہے جو ٹوٹے ہوئے انسان کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اس سال خاندانی پالیسیوں پر خصوصی زور دے رہی ہے۔ پائیدار ترقی صرف معاشی ترقی سے نہیں بلکہ مضبوط اور اقدار پر مبنی خاندانوں سے ہی ممکن ہے۔
ہندوستانی تہذیب کی سب سے بڑی طاقت ہمیشہ اس کا خاندانی نظام رہا ہے۔ یہاں خاندان صرف سماجی بندوبست نہیں بلکہ ایک روحانی اور ثقافتی ادارہ بھی ہے۔ رامائن اور مہابھارت جیسے عظیم رزمیے محض جنگوں کی داستانیں نہیں بلکہ خاندانی اقدار، رشتوں، فرائض اور قربانیوں کی گہری تشریحات ہیں۔ ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ یعنی ’’پوری دنیا ایک خاندان ہے‘‘ کا ہندوستانی فلسفہ اگر حقیقی معنوں میں اپنایا جائے تو جنگ، دہشت گردی، نفرت اور تشدد کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی سے صارفیت کی تہذیب اب خاندانوں کے اندر بھی داخل ہو چکی ہے۔ رشتوں کو فائدہ اور نقصان کے ترازو میں تولا جا رہا ہے۔ برداشت کم ہو رہی ہے اور توقعات بڑھتی جا رہی ہیں۔ معمولی باتوں پر رشتوں کا ٹوٹ جانا اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے سہولتیں تو حاصل کر لیں مگر حساسیت کھو دی۔ خاندان کی اصل طاقت دولت نہیں بلکہ اعتماد ہے۔ جہاں اعتماد باقی ہو وہاں تنگی بھی خوشی میں بدل جاتی ہے، اور جہاں اعتماد ختم ہو جائے وہاں آسائش بھی بوجھ بن جاتی ہے۔
آج خاندانوں کو نئی سمت دینے کی ضرورت ہے۔ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی روایت کو زندہ کرنا ہوگا۔ بامعنی گفتگو کے لیے وقت نکالنا ہوگا۔ بزرگوں کے تجربات کی قدر کرنی ہوگی۔ بچوں کو صرف کیریئر کی تعلیم نہیں بلکہ کردار سازی کی تربیت بھی دینی ہوگی۔ خاندانوں کو غصے کے بجائے محبت، مقابلے کے بجائے تعاون اور حق جتانے کے بجائے ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا ہوگا۔ تبھی خاندان واقعی عدم تشدد کی تجربہ گاہ بن سکیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ مستقبل کی سب سے بڑی جنگ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اقدار سے لڑی جائے گی۔ جس معاشرے کے خاندان بکھر جائیں، وہ سماجی استحکام برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے عالمی یومِ خاندان صرف جشن کا دن نہیں بلکہ خود احتسابی کا موقع بھی ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیسی دنیا دینا چاہتے ہیں؟ نفرت اور تنہائی کی دنیا، یا محبت اور اعتماد کی دنیا؟
اگر خاندان محبت، مکالمے، برداشت، عدم تشدد اور باہمی تعاون کا ماحول پیدا کریں تو دنیا کے بڑے سے بڑے بحران پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ خاندان محض ایک سماجی ادارہ نہیں بلکہ انسانی روح کی پناہ گاہ ہے۔ یہ زندگی کی تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں، مشکلات میں سہارا اور ٹوٹتے ہوئے اعتماد کے درمیان امید کی آخری کرن ہے۔ اسی لیے آج سب سے بڑی ضرورت صرف خاندان کو بچانے کی نہیں بلکہ اس کے اندر موجود انسانی اقدار کو محفوظ رکھنے کی ہے۔ یہی انسانیت کے مستقبل کی ضمانت ہے اور یہی عالمی یومِ خاندان کا اصل پیغام بھی۔

