Last Updated on February 1, 2026 12:12 pm by INDIAN AWAAZ
بھارتی بجٹ محض ایک مالی دستاویز نہیں بلکہ ملک کی معاشی سمت، ترجیحات اور مستقبل کے وژن کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس کی تیاری ایک طویل، پیچیدہ اور نہایت منظم عمل ہے، جس میں رازداری، آئینی تقاضے اور عوامی مفاد—سب کا گہرا امتزاج نظر آتا ہے۔ بجٹ کو سمجھنا دراصل بھارت کی معیشت کو سمجھنے کے مترادف ہے۔

عندلیب اختر
ہر سال کی طرح اس سال بھی یکم فروری کو ملک بھر کی نظریں پارلیمنٹ پر مرکوز تھیں، جب وزیرِ خزانہ نرملا سیتارامن نے لوک سبھا میں مرکزی بجٹ پیش کیا۔ بجٹ پیش ہوتے ہی ٹی وی اسٹوڈیوز میں بحثیں، اخبارات میں تجزیے، بازار میں اتار چڑھاؤ اور عوام میں امیدوں اور خدشات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ کسان، نوجوان، تاجر، ملازمین اور صنعت کار—ہر طبقہ یہ جاننے کی کوشش کرتا نظر آیا کہ اس بار کے بجٹ میں اس کے لئے کیا خاص ہے۔ بجٹ پیش ہو جانے کے بعد اس کے مختلف پہلوؤں، فوائد، خامیوں اور طویل مدتی اثرات پر عوام سے لے کر ماہرینِ اقتصادیات تک اپنی اپنی رائیں دے رہے ہیں
لیکن بجٹ کی تقریر ختم ہونے اور فائلیں بند ہو جانے کے بعد ایک بنیادی سوال اکثر تشنہ رہ جاتا ہے؛یہ بجٹ آخر تیار کیسے ہوتا ہے؟ اسے بنانے میں کتنے مہینے لگتے ہیں؟ اور آخر کیوں اس پورے عمل کو اس قدر خفیہ رکھا جاتا ہے؟
عام فہم مثال میں اگر کہا جائے تو بجٹ وہ منصوبہ ہے جس کے ذریعے ایک گھر اپنی آمدنی اور خرچ کا حساب رکھتا ہے—روزمرہ ضروریات، بچت، بچوں کی تعلیم، صحت، شادی بیاہ اور تہواروں کے اخراجات۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ اگر ایک گھر کے بجٹ پر اتنی منصوبہ بندی اور سوچ بچار ہوتی ہے تو 140 کروڑ آبادی والے ملک کے بجٹ کی تیاری میں کتنی محنت، مہارت اور دماغی مشق درکار ہوتی ہوگی۔
بجٹ کی تیاری: کہاں سے آغاز ہوتا ہے؟
حکومتِ ہند کے تحت وزارتِ خزانہ (Ministry of Finance) میں محکمہ? اقتصادی امور (Department of Economic Affairs) کام کرتا ہے، جس کے اندر ایک اہم شعبہ بجٹ ڈویژن (Budget Division) کہلاتا ہے۔ یہی بجٹ ڈویژن ہر سال مرکزی بجٹ تیار کرنے کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔
بجٹ بنانے کا عمل ہر سال اگست–ستمبر میں شروع ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے بجٹ ڈویژن کی جانب سے ایک تفصیلی بجٹ سرکلر جاری کیا جاتا ہے، جو تمام مرکزی وزارتوں، محکموں، خود مختار اداروں اور ریاستی حکومتوں کو بھیجا جاتا ہے۔ اس سرکلر میں بتایا جاتا ہے کہ اگلے مالی سال کے لئے انہیں اپنے متوقع اخراجات، جاری اسکیموں، نئی تجاویز، سبسڈی کی ضروریات اور محصولات (Revenue) کے تخمینے کس فارمیٹ میں جمع کرانے ہیں۔
خفیہ عمل اور سخت حفاظتی انتظامات
بھارتی بجٹ دنیا کے چند سب سے خفیہ سرکاری عملوں میں شمار ہوتا ہے۔ بجٹ کی تیاری سے لے کر اس کی پرنٹنگ اور پارلیمنٹ میں پیشی تک سخت رازداری برقرار رکھی جاتی ہے۔ روایتی طور پر بجٹ کی پرنٹنگ نارتھ بلاک کے احاطے میں ہوتی رہی ہے، جہاں بجٹ سے وابستہ افسران ’ہلوا تقریب‘ کے بعد مکمل طور پر بیرونی رابطوں سے کٹ جاتے ہیں۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور ذاتی ملاقاتوں پر پابندی ہوتی ہے۔
سیکیورٹی کے نقط? نظر سے بجٹ کے مسودے، پرنٹنگ پیپر، ڈیجیٹل فائلوں اور ڈیٹا پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے تاکہ کسی بھی قسم کا بجٹ لیک نہ ہو۔ جدید دور میں ڈیجیٹل سیکیورٹی، انکرپشن اور محدود رسائی (Restricted Access) جیسے اقدامات نے اس خفیہ نظام کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
بجٹ کی مدت اور مالی سال
بھارت میں بجٹ ایک مالی سال کے لئے بنایا جاتا ہے، جو پہلے 1 اپریل سے 31 مارچ تک ہوتا تھا لیکن اب یہ یکم فروری سے ۱۳ جنوری تک کا ہوتا ہے۔ آئینِ ہند کے مطابق حکومت پر لازم ہے کہ وہ ہر مالی سال کے آغاز سے قبل پارلیمنٹ کے سامنے آمدنی اور اخراجات کے تخمینے پیش کرے۔ اسی دستاویز کو عام طور پر مرکزی بجٹ کہا جاتا ہے۔
بجٹ دراصل ہے کیا؟
سادہ الفاظ میں بجٹ آمد و خرچ کا سالانہ حساب کتاب ہے۔ اس میں حکومت بتاتی ہے کہ:
- آمدنی کہاں سے آئے گی (ٹیکس، نان ٹیکس ریونیو، قرض وغیرہ)
- یہ رقم کن شعبوں میں خرچ کی جائے گی (تعلیم، صحت، دفاع، بنیادی ڈھانچہ، سماجی بہبود)
حکومت بجٹ کی منصوبہ بندی کسی حد تک ایک خاتونِ خانہ کے بجٹ کی طرح کرتی ہے—کہ کہاں خرچ ضروری ہے، کہاں کفایت شعاری ممکن ہے اور کہاں سرمایہ کاری مستقبل میں فائدہ دے سکتی ہے۔
بجٹ کے تین بنیادی کھاتے
آئینی طور پر حکومت کو تین بڑے کھاتوں کے تحت حساب رکھنا ہوتا ہے:
- جمع شدہ فنڈ (Consolidated Fund of India)
یہ حکومت کا سب سے اہم کھاتہ ہے۔ اس میں:
- تمام ٹیکس آمدنیاں (انکم ٹیکس، جی ایس ٹی، کسٹم ڈیوٹی)
- نان ٹیکس آمدنیاں
- حکومت کی جانب سے لئے گئے قرضے
- پہلے دیئے گئے قرضوں کی واپسی
اسی فنڈ سے حکومت اپنے زیادہ تر اخراجات پورے کرتی ہے، جیسے دفاع، تعلیم، صحت، سرکاری تنخواہیں اور ترقیاتی منصوبے۔ اس فنڈ سے ایک روپیہ بھی پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔
- ہنگامی فنڈ (Contingency Fund of India)
یہ ایک نسبتاً چھوٹا فنڈ ہوتا ہے (تقریباً 500 کروڑ روپے)، جو اچانک پیش آنے والی ہنگامی ضرورتوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، مثلاً قدرتی آفات یا فوری قومی ضرورتیں۔ بعد میں اس فنڈ سے نکالی گئی رقم پارلیمنٹ کی منظوری کے ساتھ دوبارہ Consolidated Fund میں ایڈجسٹ کی جاتی ہے۔ - پبلک اکاؤنٹ (Public Account)
یہ وہ کھاتہ ہے جس میں حکومت عوام یا اداروں کی امانتی رقوم رکھتی ہے، جیسے:
- پراویڈنٹ فنڈ
- چھوٹی بچت اسکیمیں
- ڈاک بچت
- دیگر ڈپازٹس
یہ رقم حکومت کی اپنی نہیں ہوتی، بلکہ وقت آنے پر متعلقہ افراد یا اداروں کو واپس کی جاتی ہے۔ اس لئے اس کھاتے سے رقم واپس کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری درکار نہیں ہوتی۔ حکومت یہاں ایک بینکر کے طور پر کام کرتی ہے۔
جدید دور کے نئے پہلو
حالیہ برسوں میں بھارتی بجٹ میں کئی نئے رجحانات دیکھنے کو ملے ہیں: - ڈیجیٹل بجٹ دستاویزات اور پیپر لیس بجٹ
- بجٹ کو اقتصادی سروے سے جوڑ کر پیش کرنا
- بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، گرین انرجی اور ڈیجیٹل معیشت پر خصوصی توجہ
- مالی خسارے (Fiscal Deficit) کو قابو میں رکھنے کی کوشش
- سماجی بہبود کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری پر مبنی ترقیاتی ماڈل
پارلیمنٹ میں منظوری کا عمل
بجٹ لوک سبھا میں پیش ہونے کے بعد اس پر عام بحث ہوتی ہے، پھر مختلف وزارتوں کے اخراجات پر تفصیلی غور کیا جاتا ہے۔ آخر میں فنانس بل اور اپروپریشن بل کی منظوری کے بعد بجٹ نافذ العمل ہو جاتا ہے۔AMN
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://biznama.com/india-budget-process
