Last Updated on October 22, 2026 12:27 am by INDIAN AWAAZ

پائیدار شہری ترقی: جنیوا میں عالمی عہد، ہندوستانی شہروں کے لیے ایک بڑا امتحان

عندلیب اختر
شہر صرف بلند و بالا عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید تجارتی مراکز کا نام نہیں، بلکہ ان لوگوں کی زندگیوں کا مجموعہ ہیں جو وہاں رہتے، کام کرتے اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ کسی شہر کی حقیقی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ وہاں عام شہری کو صاف پانی، معیاری رہائش، محفوظ سڑکیں، صحت مند ماحول اور روزگار کے کتنے بہتر مواقع میسر ہیں۔ دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی شہری آبادی کے درمیان یہی سوال اب شہری منصوبہ بندی کے عالمی مباحث کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں 12 اور 13 اکتوبر 2026 کو منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کے میئرز فورم کے چھٹے اجلاس نے اسی بحث کو نئی اہمیت دی۔ ’’پائیدار مستقبل کے لیے عملی اقدامات کرنے والے شہر‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اس اجلاس میں 50 سے زائد ممالک کے تقریباً 90 شہروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ہندوستان کی جانب سے ناسک کی میئر ہِم گوری آہیر کی شرکت بھی اہم رہی۔ اجلاس میں دنیا کے مختلف شہروں کے تجربات، شہری سہولتوں کی بہتری اور پائیدار ترقی کے اہداف کو مقامی سطح پر نافذ کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شہری ترقی کا نیا تصور
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام قائم یہ فورم 2020 سے شہری منتظمین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے، جہاں وہ اپنے مسائل اور کامیاب تجربات ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں۔ اس مرتبہ اجلاس میں ماحول دوست آمدورفت، سبزہ زاروں میں اضافے، موسمیاتی تبدیلیوں سے تحفظ، سستی رہائش، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور شہری خدمات میں جدت جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ان مباحث کا بنیادی پیغام واضح ہے: شہروں کی ترقی صرف تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل نہیں، بلکہ ایسی منصوبہ بندی کا نام ہے جس میں انسانی ضروریات، ماحولیاتی تحفظ اور معاشی امکانات کو یکساں اہمیت حاصل ہو۔مثال کے طور پر، اگر کسی شہر میں نئی سڑکیں تو تعمیر کی جائیں، لیکن عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر نہ ہو، تو ٹریفک کا دباؤ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح بلند عمارتوں اور رہائشی کالونیوں کی تعمیر اس وقت تک مکمل شہری ترقی نہیں کہلا سکتی جب تک وہاں پانی، نکاسی آب، اسکول، اسپتال اور عوامی مقامات کی مناسب سہولتیں موجود نہ ہوں۔
ہندوستانی شہروں کے لیے اہم سبق
ہندوستان میں شہری ترقی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ درمیانے درجے کے شہر بھی آبادی، تجارت اور تعمیراتی سرگرمیوں کے تیز رفتار پھیلاؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں میں ٹریفک، فضائی آلودگی، رہائش کی بڑھتی لاگت اور پانی کی قلت سنگین مسائل ہیں۔ دوسری طرف ناسک، اندور، جے پور، پٹنہ اور دوسرے تیزی سے پھیلتے شہر بھی بنیادی سہولتوں کو بڑھتی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے چیلنج سے دوچار ہیں۔
ہندوستان کے لیے سب سے اہم سبق یہ ہے کہ شہری منصوبہ بندی کو مستقبل کی آبادی اور موسمیاتی خطرات کو سامنے رکھ کر تیار کیا جائے۔ صرف موجودہ ضروریات پوری کرنے والے منصوبے چند برسوں میں ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، ندیوں اور تالابوں کو آلودگی سے بچانے، گندے پانی کو صاف کرکے دوبارہ استعمال کرنے اور عوامی ٹرانسپورٹ کو مؤثر بنانے جیسے اقدامات کو ترقیاتی پالیسی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔شہروں میں سبزہ زاروں کا تحفظ بھی محض خوب صورتی کا معاملہ نہیں۔ درخت اور کھلی جگہیں گرمی کی شدت کم کرنے، بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے کا موقع دینے اور شہریوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ اسی طرح پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے محفوظ راستے بنانا ایک ایسے شہری نظام کی تشکیل میں معاون ہے جو گاڑیوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہ کرے۔


ناسک: عالمی تجربات سے مقامی مسائل کے حل تک
ناسک کی میئر ہِم گوری آہیر کی جنیوا اجلاس میں شرکت اس تناظر میں اہم ہے کہ شہر کو اپنی بڑھتی شہری ضروریات کے ساتھ آبی وسائل اور ماحولیاتی تحفظ پر بھی توجہ دینی ہے۔ گوداوری ندی ناسک کی مذہبی، ثقافتی اور شہری زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی صفائی، آلودگی پر قابو پانا اور پانی کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانا شہر کے مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ناسک کو 2027 کے سنگھستھ کمبھ میلے کی میزبانی بھی کرنی ہے۔ اس بڑے مذہبی اجتماع کے دوران لاکھوں عقیدت مندوں کی آمد سے ٹرانسپورٹ، صفائی، پینے کے پانی، نکاسی? آب اور فضلے کے انتظام پر اضافی دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔ اس لیے عارضی انتظامات کے ساتھ ایسے بنیادی ڈھانچے کی تیاری ضروری ہے جو میلے کے بعد بھی شہریوں کے کام آئے۔


سستی رہائش اور شہری مساوات
پائیدار شہر وہ نہیں جہاں صرف خوش حال طبقے کو معیاری رہائش اور جدید سہولتیں میسر ہوں۔ مزدوروں، کم آمدنی والے خاندانوں، خواتین، بزرگوں اور معذور افراد کی ضروریات کو بھی منصوبہ بندی میں مرکزی مقام ملنا چاہیے۔اگر روزگار کے مراکز سے دور سستی رہائش فراہم کی جائے اور وہاں سے آمدورفت مہنگی یا دشوار ہو، تو شہریوں کو وقت اور آمدنی دونوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی لیے رہائش، روزگار اور عوامی ٹرانسپورٹ کی منصوبہ بندی ایک دوسرے سے مربوط ہونی چاہیے۔ شہریوں کی مشاورت بھی ضروری ہے تاکہ ترقیاتی منصوبے ان کی حقیقی ضروریات کے مطابق بنائے جا سکیں۔
بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا ضروری
جنیوا اجلاس میں مالی وسائل کی کمی، مختلف سرکاری اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور مقامی انتظامیہ کی محدود صلاحیتوں کو پائیدار شہری ترقی کی بڑی رکاوٹوں میں شمار کیا گیا۔ شرکا نے حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ مقامی حکومتوں کے لیے قانونی، ادارہ جاتی اور مالیاتی نظام مضبوط بنائے جائیں۔ ہندوستان میں بھی بلدیاتی اداروں کو صرف صفائی، سڑکوں کی مرمت اور روزمرہ شہری خدمات تک محدود رکھنے کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی، مالی وسائل اور فیصلہ سازی میں زیادہ مؤثر کردار دینا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پانی کے استعمال، ٹریفک، کچرے کے انتظام اور شہری شکایات کی نگرانی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، بشرطیکہ ان کا استعمال شفاف، ذمہ دارانہ اور عوامی مفاد کے مطابق ہو۔آخرکار، جنیوا فورم کا پیغام یہ ہے کہ پائیدار شہری ترقی کے لیے عالمی عہد کافی نہیں؛ اس کے لیے مقامی سطح پر مسلسل عمل درآمد، مناسب مالی وسائل اور جواب دہ انتظامیہ ضروری ہیں۔
۔۔۔۔
چھ اہم شعبوں میں موثر کام کرنے کی ضرورت
۔ماحول دوست اور قابل رسائی ذرائع نقل و حمل کو فروغ دیا جائے ۔
۔سبزہ زاروں میں اضافہ کیا جائے گا۔ حیاتیاتی تنوع کو تحفظ ملےگا اور آلودگی و گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جائے گی۔
۔تمام شہریوں کی شمولیت اور مشاورت سے منصوبہ بندی کی جائے گی اور شہروں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔
۔کمزور اور محروم طبقات کو ایسی رہائش فراہم کی جائے گی جو محفوظ، قابل استطاعت اور موسمیاتی خطرات کے مقابل میں پائیدار ہو۔
۔ذمہ دارانہ سیاحت کے فروغ کے لیے ثقافتی اور قدرتی ورثے کی حفاظت کے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
۔شہری خدمات کو بہتر بنانے اور عوامی سطح پر شہریوں کی شرکت بڑھانے کے لیے ثقافت، تخلیقی صلاحیت، جدت اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اخلاقی اصولوں کے مطابق استعمال میں لایا جائے گا۔