Last Updated on October 21, 2026 1:30 am by INDIAN AWAAZ

AMN
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے تہواروں کے پیش نظر احتجاجی سرگرمیاں کچھ دنوں کے لیے محدود رکھنے کا اشارہ دیتے ہوئے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزاریں۔ انہوں نے جیل میں بند پارٹی کے ترجمانوں آشوتوش رنکا اور سورَو داس کی رہائی کے لیے دعا کرنے اور نفرت سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ امن، ہمدردی اور باہمی محبت ہی تحریک کی اصل طاقت ہیں۔
دسہرہ کے موقع پر جاری تقریباً 16 منٹ کے ویڈیو پیغام میں دپکے اپنے دونوں ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے رنکا اور داس کو تحریک کے ’اصل رہنما‘ قرار دیا اور کہا کہ تحریک کو سمت دینے اور اہم فیصلے کرنے میں دونوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ دپکے نے سی جے پی کے احتجاج کا موازنہ نیپال، بنگلہ دیش اور فرانس میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں سے کیے جانے پر بھی سخت اعتراض کیا اور کہا کہ ان کی تحریک نے تمام تر مشکلات کے باوجود پُرامن راستہ اختیار کیا ہے۔
اپنے پیغام کے آغاز میں دپکے نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تحریک اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج میں حصہ لیا۔ مظاہرین نے الیکشن کمیشن کے مبینہ یک طرفہ طرزِ عمل اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
10 اکتوبر کو مجوزہ بڑے احتجاج کے موقع پر دہلی کے جنتر منتر پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور بڑی تعداد میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ اس دوران دپکے، داس اور رنکا سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
رنکا اور داس کو مبینہ طور پر امن برقرار رکھنے کے لیے دیے گئے مچلکے کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزام میں 13 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ 14 اکتوبر کو دونوں کو پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ پیر کے روز ان کی عدالتی تحویل میں مزید دو دن کی توسیع کر دی گئی۔
دپکے نے بتایا کہ انہوں نے دونوں ترجمانوں کے اہل خانہ سے بات کی ہے اور ان کے گھر والوں نے سی جے پی کے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی فکر میں پریشان نہ ہوں۔
انہوں نے کہا، ’’میں جانتا ہوں کہ آپ سب کے لیے بھی حالات اتنے ہی مشکل ہیں جتنے سورَو اور آشو (آشوتوش رنکا) کے لیے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے کتنے رضاکاروں کو سڑکوں پر مارا پیٹا گیا اور حراست میں لیا گیا۔ لیکن ہم سے زیادہ مشکل حالات ہمارے اہل خانہ کے لیے ہیں۔‘
https://x.com/GameonNewbie/status/2112459880925954453?s=20‘
حامیوں سے چند دن اپنے خاندان کے ساتھ گزارنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اس لیے میں اپنے تمام کاکروچوں سے درخواست کرتا ہوں کہ چند دن اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزاریں۔ تہوار قریب ہیں۔‘‘
دپکے نے کہا کہ ان کی تحریک نفرت کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس کے کارکنوں کے دلوں میں بھی نفرت پیدا نہ ہو۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نفرت کے خلاف لڑ رہے ہیں، ہم ان لوگوں کے خلاف لڑ رہے ہیں جن کے ذہنوں میں نفرت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ وہی نفرت ہمارے اندر جگہ نہ بنا لے۔‘‘
ان کے مطابق، ایک دوسرے کے لیے ہمدردی، محبت اور حسنِ سلوک ہی تحریک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔
’آشوتوش رنکا اور سورَو داس ہی تحریک کے اصل رہنما ہیں‘
جیل میں بند دونوں ترجمانوں کا ذکر کرتے ہوئے دپکے نے کہا کہ رنکا کو بہت سے لوگ نرم مزاج سمجھتے تھے، لیکن جیل میں رہنے اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرنے کے باوجود وہ مسکراتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ان کے اندر کوئی خوف نہیں ہے۔ مجھے ہمیشہ لگتا ہے کہ اگر کسی نے واقعی اس تحریک کو تشکیل دیا ہے تو وہ آشو اور سورَو ہیں۔ ان کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ میں تو بس ان کی ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔‘‘
دپکے نے کہا کہ باہر کے لوگوں کو شاید وہ تحریک کے سربراہ نظر آتے ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ رنکا اور داس ہی تحریک کی حکمت عملی اور سمت طے کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’وہ مجھے بتاتے تھے کہ مجھے کہاں جانا ہے اور کیا کرنا ہے، اور میں خاموشی سے ان کی بات مان لیتا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ ان کی صلاحیتیں اور فیصلہ کرنے کی اہلیت مجھ سے بہتر ہے۔‘‘
دونوں کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے دپکے جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے لیے ان کے جذبات خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ محبت اور فکر کے باعث ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’جذبات ہماری طاقت ہیں۔‘‘
بیرونِ ملک پرتشدد مظاہروں سے موازنے پر اعتراض
دپکے نے سی جے پی کے احتجاج کا موازنہ فرانس، نیپال اور بنگلہ دیش میں ہونے والے پرتشدد واقعات سے کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ رنکا اور داس نے جیل جانے کے باوجود پُرامن رویہ برقرار رکھا، جو تحریک کے عدم تشدد کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جو لوگ گزشتہ چند دنوں سے فرانس میں ہونے والے واقعات کا ذکر کر رہے ہیں اور ان کا موازنہ ہندوستان کے احتجاج سے کر رہے ہیں، انہیں شرم آنی چاہیے۔ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھیں۔ سورَو داس اور آشوتوش مسکراتے ہوئے جیل گئے۔‘‘
دپکے نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے پُرامن راستہ اختیار کیا، حالانکہ ان کے بقول انہیں یقین ہے کہ ان کے رہنماؤں کو ناحق جیل بھیجا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمارے لوگوں کو اشتعال دلانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں اور وہ اب بھی مہاتما گاندھی کے اصولوں پر عمل کر رہے ہیں۔ وہ جیل سے بھی مسکراتے ہوئے باہر آئیں گے۔‘‘
دپکے کا یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تحریک کے دو اہم ترجمان جیل میں ہیں اور سی جے پی کے حامی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تہواروں کے دوران احتجاجی سرگرمیاں محدود رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے دپکے نے تحریک کے پُرامن طریقۂ کار اور عدم تشدد کے اصولوں پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
