یورینیئم ہمیں اپنی سرزمین جتنا مقدس ہے، کہیں منتقل نہیں ہوگا؛ ایران کا ٹرمپ کو جواب

WEB DESK

ایران کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو سکیورٹی صورتحال سے مشروط ہے، اور اس اہم تجارتی گزرگاہ تک رسائی کا انحصار موجودہ جنگ بندی اور حملوں کے نہ ہونے پر ہوگا۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے۔ بیان میں اشارہ دیا گیا کہ محفوظ ماحول کی عدم موجودگی میں اس اسٹریٹجک راستے پر معمول کی نقل و حرکت برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کیلئے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ ہے جس کا مقصد ممکنہ طور پر جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مخالف فریقوں پر دباؤ ڈالنا ہو سکتا ہے۔

ایران کے ساتھ ڈیل کا عمل اچھی طرح سے جاری

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا عمل اچھی طرح سے جاری ہے اور  مذاکرات ویک اینڈ کے دوران بھی جاری رہیں گے۔

ایریزونا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ایران سے ایٹمی مواد واپس لایا جائے گا اور امریکا ایرانی نیوکلیئر ڈسٹ حاصل کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ مجوزہ معاہدے کے تحت کسی قسم کا مالی تبادلہ بھی نہیں ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو زبردست شخصیات قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں پاکستانی رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔

امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے  دیگر ممالک سعودی عرب، قطر کویت، یو اے ای اور بحرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے بھرپور تعاون کیا اور غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔

یورینیئم ہمیں اپنی سرزمین جتنا مقدس ہے، کہیں منتقل نہیں ہوگا؛ ایران کا ٹرمپ کو جواب

ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افروزدہ یورینیئم کی امریکا منتقلی پر آمادہ ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنی پوسٹ میں واضح الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی بات چیت جاری ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین جتنا مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے کیے گئے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور ایران اپنے جوہری اثاثوں پر مکمل خودمختاری رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران ہمارے ساتھ مل کر اپنے افزودہ یورینیئم یعنی nuclear dust کو نکال کر امریکا منتقل کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ممالک اس معاملے پر تعاون کریں گے اور یہ عمل جلد شروع ہو سکتا ہے۔

تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر ان بیانات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی صدر کے دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران کسی بھی موقع پر نہ تو امریکا کو یورینیئم دینے کا کوئی معاہدہ ہوا اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر بحث لائی گئی ہے۔

ایرانی حکام نے بھی آبنائے ہرمز کو لبنان اور اسرائیل جنگ بندی کے تناظر میں کھولنے کو محدود پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا ہے۔