
AMN / NEW DELHI
نئی دہلی، ہمارے نمائندہ: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بدھ کے روز 11 جون سے ملک گیر احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ امتحانی بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے کے واقعات، تکنیکی خرابیوں اور انتظامی ناکامیوں کے باعث ملک بھر کے طلبہ متاثر ہوئے ہیں۔
نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ 6 جون کو جنتر منتر پر منعقدہ احتجاج میں بڑی تعداد میں طلبہ اور نوجوانوں کی شرکت نے تعلیمی نظام کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ناراضگی کو ظاہر کیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملک کے مختلف حصوں سے طلبہ وزارتِ تعلیم سے جواب دہی کا مطالبہ کرنے کے لیے احتجاج میں شریک ہوئے۔
پارٹی کے مطابق احتجاجی مہم کا آغاز پونے سے کیا جائے گا، جس کے بعد لکھنؤ، امرتسر، بنگلورو، جے پور اور حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔ پارٹی نے کہا کہ وزیرِ تعلیم کے استعفے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
سی جے پی نے الزام عائد کیا کہ امتحانات سے متعلق بار بار سامنے آنے والے تنازعات نے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ان مبینہ کوتاہیوں کی ذمہ داری وزارتِ تعلیم پر عائد ہوتی ہے، اسی لیے وزیر کے استعفے کا مطالبہ دہرایا جا رہا ہے۔
پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر کارروائی نہ کی تو 20 جون کو ملک بھر سے طلبہ اور نوجوان نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہو کر غیر معینہ مدت تک پُرامن دھرنا شروع کریں گے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ جواب دہی طے ہونے اور مطالبات منظور ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔
