Last Updated on August 27, 2026 5:41 pm by INDIAN AWAAZ

In his interview with News24 on Instagram, Aditya stated that after an IPS officer detained him, a Superintendent of Police (SP) beat his

خالد احمد.

پٹنہ، / بہار میں سرکاری ملازمتوں اور بھرتی امتحانات کے طریقۂ کار کو لے کر جاری طلبہ تحریک کے دوران چھ سالہ آدتیہ کمار اچانک توجہ کا مرکز بن گیا۔ ۲۵ اگست کو پٹنہ میں ہونے والے احتجاج میں شریک آدتیہ نے بے روزگاری، پولیس کارروائی اور حکومت کی جواب دہی سے متعلق جس بے باکی سے اپنے خیالات کا اظہار کیا، اس کی ویڈیو سماجی ذرائع ابلاغ پر تیزی سے پھیل گئی۔

آدتیہ پہلی جماعت کا طالب علم ہے اور ایک کم آمدنی والے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ بچہ گیا کے اتری تھانہ کے ایک گاوں سے تعلق رکھتا ہے ۔

وہ بہار لوک سیوا کمیشن کے تحت ہونے والے بھرتی امتحانات سے متعلق مطالبات پر طلبہ اور ملازمت کے امیدواروں کی جانب سے منعقد کیے گئے احتجاج میں موجود تھا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد پولیس اہلکار آدتیہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ تاہم پولیس نے واضح کیا کہ بچے کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا بلکہ احتجاجی مقام پر اس کی حفاظت کے پیش نظر اسے وہاں سے ہٹایا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے اس کی والدہ کے حوالے کر دیا گیا۔

گرفتاری کی خبروں کی پولیس نے تردید کی

سماجی ذرائع ابلاغ پر بعض پیغامات میں دعویٰ کیا گیا کہ چھ سالہ آدتیہ کو احتجاج میں شرکت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے ان دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بچے کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے کسی جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق احتجاجی مقام پر حالات کشیدہ ہو گئے تھے اور پولیس کارروائی کے دوران بچے کی موجودگی اس کی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا باعث بن رہی تھی۔ اسی وجہ سے اسے احتجاجی مقام سے ہٹا کر تھانے لے جایا گیا اور بعد میں اس کی والدہ کے حوالے کر دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق آدتیہ کی والدہ گھریلو ملازمہ ہیں۔ پولیس نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچے کو ایسے مقامات سے دور رکھیں جہاں احتجاج کے دوران تشدد یا پولیس کارروائی کا خدشہ ہو۔

وزیر اعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ

آدتیہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوا جب اس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے استعفے کا مطالبہ کیا اور مظاہرین پر لاٹھی چارج کا حکم دینے والوں کے خلاف کارروائی کی بات کی۔

چھ سال کی عمر میں سیاسی اور سماجی مسائل پر اس کی بے باک گفتگو نے احتجاج میں موجود لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اس کے بعد اس کی ویڈیو سماجی ذرائع ابلاغ پر بڑے پیمانے پر شیئر ہونے لگی۔

آدتیہ کے بیان نے جہاں بہت سے لوگوں کو متاثر کیا، وہیں یہ سوال بھی اٹھا کہ چھ سال کا بچہ ایسے احتجاج میں کیوں موجود تھا جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کا خدشہ موجود تھا۔

گاندھی میدان سے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی جانب مارچ

آدتیہ کی موجودگی ایسے وقت میں ہوئی جب پٹنہ میں بہار لوک سیوا کمیشن کے امیدواروں اور مختلف طلبہ تنظیموں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے گاندھی میدان سے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ اور راج بھون کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔

مظاہرین کی جانب سے پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی بوچھار کی اور لاٹھی چارج بھی کیا۔ متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا جبکہ جھڑپ کے دوران بعض پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔

طلبہ تنظیموں اور ملازمت کے امیدواروں کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات کو صرف امن و امان کے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ بھرتی کے عمل سے متعلق ان کی شکایات کا بھی سنجیدگی سے ازالہ کیا جانا چاہیے۔

اساتذہ کی بھرتی کے امتحان کے طریقۂ کار پر اختلاف

احتجاج کا ایک اہم مطالبہ اساتذہ کی بھرتی کے مجوزہ امتحانی طریقۂ کار سے متعلق ہے۔ مظاہرین اساتذہ کی بھرتی کے چوتھے مرحلے کے امتحان میں دو مرحلوں پر مشتمل نظام کی مخالفت کر رہے ہیں اور ایک ہی مرحلے میں تحریری امتحان منعقد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امیدواروں کا ایک اور اہم مطالبہ گزشتہ بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات سے متعلق ہے۔ مظاہرین نے امتحانی عمل میں شفافیت یقینی بنانے اور مبینہ بے قاعدگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

چونکہ اساتذہ کی بھرتی کے آئندہ مرحلے میں ہزاروں عہدوں پر تقرری متوقع ہے، اس لیے امتحان کے طریقۂ کار، سرکاری اعلان اور بھرتی کے پورے عمل کو لے کر امیدواروں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

بہار میں سرکاری ملازمت کا بڑا سوال

بہار میں سرکاری ملازمت طویل عرصے سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی تحفظ کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے۔ محدود روزگار کے مواقع اور سرکاری عہدوں کے لیے امیدواروں کی بڑی تعداد کے باعث بھرتی امتحانات میں کسی بھی قسم کی تاخیر، بے ضابطگی یا شفافیت پر سوال نوجوانوں میں شدید تشویش پیدا کرتا ہے۔

امتحانی پرچے افشا ہونے، امتحانی عمل میں مبینہ بے قاعدگیوں، نتائج میں تاخیر اور بھرتی کے نظام الاوقات سے متعلق شکایات ماضی میں بھی طلبہ احتجاج کا سبب بنتی رہی ہیں۔

اسی پس منظر میں موجودہ احتجاج کو صرف ایک امتحان سے متعلق تنازع نہیں سمجھا جا رہا۔ طلبہ تنظیمیں اسے بھرتی کے پورے نظام میں شفافیت، جواب دہی اور امیدواروں کے حقوق سے جوڑ رہی ہیں۔

حکومت پر سیاسی حملے تیز

احتجاج کے بعد سیاسی الزام تراشی بھی تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بہار حکومت کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت طلبہ کے مسائل حل کرنے کے بجائے پولیس کارروائی کا سہارا لے رہی ہے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے کے بجائے امتحانات اور بھرتی کے عمل سے متعلق شکایات کا جواب دینا چاہیے۔

دوسری جانب حکومت نے طلبہ کے مسائل کو بات چیت اور انتظامی طریقۂ کار کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے طلبہ کی شکایات سننے اور ان کے مسائل کے ازالے کے لیے باقاعدہ معاونتی مراکز اور ملاقاتوں کا نظام قائم کرنے کی سمت میں بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

ایک بچے کی آواز نے بڑے سوال کھڑے کر دیے

آدتیہ کا معاملہ اب محض ایک ویڈیو کے وائرل ہونے تک محدود نہیں رہا۔ اس واقعے نے بہار میں بے روزگاری، سرکاری بھرتی امتحانات کی شفافیت اور احتجاجی مقامات پر بچوں کی حفاظت جیسے اہم سوالات کو ایک ساتھ بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

کچھ لوگوں نے آدتیہ کے اعتماد اور اپنی بات رکھنے کی صلاحیت کی تعریف کی، جبکہ دوسروں نے سوال اٹھایا کہ اتنی کم عمر بچے کو ایسے احتجاج میں نہیں ہونا چاہیے جہاں پولیس کارروائی یا تشدد کا امکان موجود ہو۔

پولیس کے مطابق بچے کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کی حفاظت کے پیش نظر اسے احتجاجی مقام سے ہٹا کر بعد میں اس کے اہل خانہ کے حوالے کیا گیا۔

اس کے باوجود چھ سالہ آدتیہ کی تصویر اور اس کے بے باک بیانات نے بہار کے موجودہ طلبہ احتجاج کو ایک جذباتی اور انسانی پہلو دے دیا ہے۔ ایک طرف ہزاروں نوجوان امتحانات، ملازمتوں اور اپنے مستقبل کے لیے سڑکوں پر ہیں، تو دوسری طرف ایک چھوٹے بچے کی آواز نے اس بحث کو سماج کے ایک وسیع حلقے تک پہنچا دیا ہے۔

آدتیہ کا واقعہ یہ سوال بھی سامنے لاتا ہے کہ جب بے روزگاری اور روزگار کا مسئلہ معاشرے کے ایک بڑے حصے کو متاثر کرنے لگے تو اس کی بازگشت بچوں تک بھی پہنچنے لگتی ہے۔ بہار میں بھرتی امتحانات کو لے کر جاری تنازع کے درمیان حکومت کے سامنے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ طلبہ کے مطالبات اور شکایات کا حل کتنی شفافیت، سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ تلاش کرتی ہے۔