Last Updated on October 25, 2026 11:44 am by INDIAN AWAAZ
یو این ڈی پی کا انتباہ، آئندہ 15 برس میں 120 کروڑ نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوں گے، مگر ملازمتیں صرف 40 کروڑ کو ملنے کا امکان؛ بھارت کے لیے نوجوان آبادی کو معاشی طاقت میں بدلنا بڑا امتحان

عندلیب اختر
دنیا کی ترقی پذیر معیشتوں کے سامنے آنے والے برسوں کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ کتنے نوجوان تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھیں گے، بلکہ یہ ہوگا کہ ان کے لیے روزگار کے مواقع کہاں سے پیدا ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ،یو این ڈی پی، نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 15 برس میں تقریباً ایک ارب 20 کروڑ نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوں گے، لیکن موجودہ امکانات کے مطابق ان میں سے صرف 40 کروڑ کو ملازمت مل سکے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 80 کروڑ نوجوان روزگار کے حصول کے لیے سخت مقابلے، غیر یقینی معاشی حالات اور محدود مواقع کا سامنا کر سکتے ہیں۔یہ محض ملازمتوں کی کمی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ترقی پذیر ممالک کے معاشی مستقبل، سماجی استحکام اور غربت کے خاتمے سے جڑا ایک بنیادی چیلنج ہے۔ اگر نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو پیداواری سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے مناسب مواقع پیدا نہ کیے گئے تو آبادی سے حاصل ہونے والا ممکنہ معاشی فائدہ ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔
یو این ڈی پی کے منتظم الیگزنڈر ڈی کرو نے واضح کیا ہے کہ یہ تخمینے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہیں۔ مستقبل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومتیں سرمایہ کاری، روزگار، تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے کس طرح کی پالیسیاں اختیار کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، غربت سے نکلنے کا واحد حقیقی اور پائیدار راستہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
بھارت کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی
یہ انتباہ بھارت کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جہاں نوجوان آبادی کو ملک کی معاشی ترقی کا ایک بڑا محرک سمجھا جاتا ہے۔ بڑی افرادی قوت بھارت کو پیداوار، خدمات، ٹیکنالوجی، کاروبار اور کھپت کے میدان میں نمایاں برتری دے سکتی ہے، لیکن اس کا فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب معیشت نئے آنے والوں کے لیے کافی تعداد میں معیاری ملازمتیں پیدا کر سکے۔بھارت کے سامنے اصل چیلنج روزگار کے مواقع کی تعداد کے ساتھ ان کے معیار کا بھی ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی توقعات اور دستیاب ملازمتوں کے درمیان فرق، فنی مہارتوں کی کمی، غیر رسمی شعبے پر انحصار اور کم آمدنی والے کام روزگار کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ بہت سے نوجوانوں کے لیے مسئلہ صرف کام نہ ملنا نہیں، بلکہ اپنی قابلیت کے مطابق کام، مناسب اجرت اور ملازمت کا تحفظ حاصل کرنا بھی ہے۔
معاشی ترقی کی شرح بلند ہونے کے باوجود اس بات کا جائزہ ضروری ہے کہ ترقی کے ثمرات کتنے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کر رہے ہیں۔ اگر پیداوار اور سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ روزگار کے مواقع اسی تناسب سے نہ بڑھیں تو نوجوان آبادی کی معاشی صلاحیت پوری طرح بروئے کار نہیں آ سکے گی۔بھارت میں زراعت اب بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے، جب کہ تعمیرات، چھوٹی صنعتیں، تجارت اور خدمات کے شعبے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، ان شعبوں میں روزگار کی پائیداری، آمدنی اور سماجی تحفظ کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی اور منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرکے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھائی جا سکتی ہے۔
ڈگریاں کافی نہیں، روزگار سے جڑی مہارتیں ضروری
روزگار کے بڑھتے ہوئے بحران کا ایک اہم پہلو تعلیم اور صنعت کی ضروریات کے درمیان فرق ہے۔ صرف تعلیمی اسناد نوجوانوں کو ملازمت کی ضمانت نہیں دے سکتیں، جب تک ان کے پاس عملی تجربہ، تکنیکی مہارت اور بدلتی ہوئی معیشت کے تقاضوں کے مطابق کام کرنے کی صلاحیت نہ ہو۔یو این ڈی پی کے مجوزہ اقدامات میں اسی مسئلے پر توجہ دی گئی ہے۔ ایک پروگرام کے ذریعے حکومتوں کو سرمایہ کاری سے متعلق پالیسیوں اور قانونی ڈھانچوں کو بہتر بنانے، قابلِ عمل منصوبوں کی نشاندہی کرنے اور انہیں عملی شکل دینے میں مدد فراہم کی جائے گی۔ دوسرے اقدام کا مقصد ان شعبوں کی نشاندہی کرنا ہے جہاں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، کارکنوں کی مہارتوں کو آجروں کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے اور کاروباری سرمایہ کاری و بھرتیوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکتی ہیں۔
بھارت کے لیے بھی یہی حکمت عملی اہم ہے۔ فنی تعلیم، اپرنٹس شپ، صنعتوں کے ساتھ تعلیمی اداروں کا تعاون اور کام کے دوران تربیت نوجوانوں کو روزگار کے لیے بہتر طور پر تیار کر سکتے ہیں۔ خواتین کے لیے محفوظ کام کی جگہیں، بچوں کی نگہداشت کی سہولتیں اور کام میں مساوی مواقع فراہم کرنا بھی افرادی قوت میں ان کی شمولیت بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔
مصنوعی ذہانت روزگار چھینے گی یا نئے مواقع پیدا کرے گی؟
مصنوعی ذہانت اور خودکار ٹیکنالوجی کے تیزی سے پھیلاؤ نے روزگار کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بعض روایتی کاموں کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، جب کہ دوسری جانب ٹیکنالوجی سے وابستہ نئے پیشے اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت روزگار کو ختم کر دے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ معیشتیں اس تبدیلی کے لیے کتنی تیار ہیں۔ڈی کرو کے مطابق، نگہداشت، زراعت اور سیاحت جیسے شعبوں میں روزگار پیدا کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے، چاہے مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھے۔ ان شعبوں میں ٹیکنالوجی پیداوار اور خدمات کو بہتر بنا سکتی ہے، لیکن انسانی محنت، تربیت اور مقامی ضروریات کی اہمیت برقرار رہے گی۔
معاشی بحران کے درمیان روزگار کا دباؤ
یو این ڈی پی کا انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ترقی پذیر ممالک کو توانائی کی بلند قیمتوں، موسمیاتی خطرات اور قرضوں کی بھاری لاگت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ڈی کرو نے اس صورت حال کو تین بڑے معاشی دھچکوں کا مجموعہ قرار دیا ہے۔ان کے مطابق، ایک اوسط ترقی پذیر ملک اپنی حکومتی آمدنی کا تقریباً 9.5 فیصد صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی میں خرچ کر رہا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی پر زیادہ رقم صرف ہونے سے تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور روزگار پیدا کرنے والے منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔یو این ڈی پی نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ 2010 کے بعد پہلی مرتبہ کثیرالجہتی غربت میں زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس پیمانے میں صرف آمدنی کی کمی نہیں بلکہ بجلی، پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں تک ناکافی رسائی بھی شامل ہے۔بھارت کے لیے بھی توانائی کی قیمتوں، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی معاشی اتار چڑھاؤ کے اثرات اہم ہیں۔ ان عوامل سے کاروبار کی لاگت، گھریلو قوتِ خرید اور روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں سرمایہ کاری کے ساتھ معاشی استحکام اور سماجی تحفظ پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔بھارت سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے آئندہ برسوں کا امتحان صرف معاشی نمو برقرار رکھنا نہیں، بلکہ اس نمو کو وسیع پیمانے پر روزگار، بہتر آمدنی اور معاشی تحفظ میں تبدیل کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو مناسب مواقع فراہم کرنا سرمایہ کاری، تعلیم اور سماجی پالیسیوں کا مشترکہ ہدف بننا ہوگا۔اگر روزگار پیدا کرنے کی رفتار نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پیچھے رہ گئی تو آبادی کا ممکنہ فائدہ معاشی دباؤ میں بدل سکتا ہے۔ لیکن اگر حکومتیں سرمایہ کاری کو روزگار سے جوڑنے، مہارتوں کو بہتر بنانے اور زیادہ افرادی قوت کو پیداواری سرگرمیوں میں شامل کرنے میں کامیاب ہو گئیں تو یہی نوجوان آبادی ترقی کا سب سے بڑا وسیلہ بن سکتی ہے۔ یو این ڈی پی کا انتباہ دراصل اسی انتخاب کی نشاندہی کرتا ہے: نوجوانوں کو معیشت کا فعال حصہ بنایا جائے، ورنہ روزگار کا خلا آنے والے برسوں میں مزید گہرا ہو سکتا ہے۔AMN
