Last Updated on October 25, 2026 11:24 am by INDIAN AWAAZ

جاوید اختر
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالیاتی اداروں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ بینک ڈپازٹس، شیئرز، ڈیویڈنڈ، انشورنس اور پنشن سمیت غیر دعویٰ شدہ مالیاتی اثاثوں کو ان کے حقیقی مالکان تک واپس پہنچانے کے عمل میں تیزی لائیں۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر مالیاتی نظام کو لاحق خطرات سے نمٹنے، سائبر تحفظ مضبوط بنانے اور مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔نرملا سیتا رمن نے نئی دہلی میں مالیاتی استحکام اور ترقی کونسل (ایف ایس ڈی سی) کے 30ویں اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ملکی اور عالمی معاشی صورت حال، مالیاتی شعبے کی سلامتی، ڈیجیٹل جدت، سرمایہ کاری کے فروغ اور مالیاتی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


وزارت خزانہ کے مطابق، کونسل نے غیر دعویٰ شدہ اثاثوں کی واپسی کے لیے جاری ’آپ کا پیسہ، آپ کا حق‘ مہم کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور متعلقہ وزارتوں و ریگولیٹری اداروں کو ہدایت دی کہ وہ اصل مالکان کی شناخت اور ان کی رقم واپس کرنے کے لیے مزید کوششیں کریں۔ یہ مہم ضلعی سطح پر مختلف متعلقہ اداروں کے اشتراک سے چلائی جا رہی ہے۔غیر دعویٰ شدہ اثاثوں میں ایسے بینک ڈپازٹس، ڈیویڈنڈ، شیئرز، پوسٹ آفس اکاؤنٹس، انشورنس اور پنشن کی رقوم شامل ہیں جن پر مقررہ مدت تک دعویٰ نہیں کیا گیا۔ ان اثاثوں کے مالکان یا ان کے قانونی وارثوں تک رسائی اور رقم کی واپسی کے عمل کو آسان بنانا اس مہم کا اہم مقصد ہے۔
مالیاتی شعبے کے سائبر تحفظ پر توجہ
اجلاس میں بھارتی مالیاتی شعبے کے سائبر تحفظ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کونسل نے مالیاتی شعبے کی سائبر سکیورٹی حکمت عملی (ایف ایس سی ایس ایس) کا نوٹس لیا، جسے مختلف وزارتوں، مالیاتی ریگولیٹرز اور سائبر سکیورٹی ایجنسیوں کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔
اس حکمت عملی کا مقصد مالیاتی نظام کے ڈیجیٹل ڈھانچے کو زیادہ محفوظ بنانا اور سائبر حملوں یا دیگر خطرات کی صورت میں اداروں کی ردعمل دینے اور معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ اجلاس میں اہم معلوماتی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور علاقائی دیہی بینکوں کی سائبر سکیورٹی تیاریوں کو مضبوط بنانے پر بھی غور کیا گیا۔مالیاتی خدمات میں ڈیجیٹل لین دین کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر سائبر تحفظ کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ بینکوں، ادائیگی کے نظاموں اور دیگر مالیاتی اداروں کی ڈیجیٹل خدمات میں خلل صارفین اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے کونسل نے مالیاتی استحکام کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات اور اداروں کے درمیان تعاون کی اہمیت تسلیم کی۔
فن ٹیک اور اثاثوں کی ٹوکن سازی
کونسل نے مالیاتی شعبے میں ریگولیٹری اصلاحات اور ڈیجیٹل جدت کو فروغ دینے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس میں فن ٹیک کے شعبے میں اختراع کی حوصلہ افزائی اور مالیاتی اثاثوں کے ساتھ حقیقی دنیا کے دیگر اثاثوں کی ٹوکن سازی کے امکانات تلاش کرنا شامل ہے۔
ٹوکن سازی کے ذریعے کسی اثاثے کی ملکیت یا اس سے متعلق حقوق کو ڈیجیٹل ٹوکن کی شکل میں ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے بعض معاملات میں لین دین اور اثاثوں کی منتقلی کو زیادہ مؤثر بنانے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، تاہم اس کے لیے مناسب ضابطہ کاری، شفافیت اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔اجلاس میں سرمایہ کاری کے ملکی نظام کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے لیے وسائل کے بہاؤ کو بہتر بنانے سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں گفٹ انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹر (گفٹ آئی ایف ایس سی) بھی شامل ہے۔
ایم ایس ایم ایز کے لیے قرض کی سہولتیں بہتر بنانے پر غور
ایف ایس ڈی سی نے مالیاتی شعبے میں اصلاحات کے تحت اپنے صارف کو جاننے کے عمل (کے وائی سی) کو آسان اور ڈیجیٹل بنانے، غیر مقیم بھارتیوں اور غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کے لیے ڈیجیٹل آن بورڈنگ کی سہولت فراہم کرنے اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو وسعت دینے پر بھی غور کیا۔اس کے علاوہ اکاؤنٹ ایگریگیٹر نظام اور یونائیٹڈ لینڈنگ انٹرفیس (یو ایل آئی) فریم ورک کے فروغ پر توجہ دی گئی، جس میں مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) کے لیے قرض تک رسائی بہتر بنانے کو اہمیت حاصل ہے۔
کونسل نے مالیاتی شعبے میں درمیانی اخراجات کم کرنے، ضابطوں کو زیادہ مؤثر اور حالات کے مطابق بنانے اور ملک میں کریڈٹ گارنٹی اسکیموں کو معقول بنانے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ان اقدامات کا مقصد مالیاتی خدمات کی فراہمی میں رکاوٹیں کم کرنا اور کاروباروں کے لیے قرض و سرمایہ کاری کے امکانات بہتر بنانا ہے۔
عالمی خطرات کے پیش نظر مسلسل نگرانی
اجلاس میں ملکی اور عالمی میکرو مالیاتی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور عالمی بانڈز پر منافع کی شرحوں میں نمایاں اضافے سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات پر توجہ دی گئی۔کونسل نے کہا کہ مالیاتی نظام کی لچک برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ ارکان نے مالیاتی شعبے کی وسیع تر ترقی اور استحکام کے لیے ریگولیٹری اداروں کے درمیان تال میل مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔نرملا سیتا رمن نے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے پیش نظر ایف ایس ڈی سی کے اجلاس پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق زیادہ باقاعدگی سے منعقد کرنے پر زور دیا۔ کونسل نے ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر کی سربراہی میں کام کرنے والی اپنی ذیلی کمیٹی کی سرگرمیوں اور سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا۔اجلاس میں ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا، وزارت خزانہ اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام، اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی)، انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا، پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور دیگر مالیاتی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ (اے ایم این)