Last Updated on October 22, 2026 12:30 am by INDIAN AWAAZ

جاوید اختر
ہندوستان میں سماجی انصاف کا تصور اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ترقی کے ثمرات معاشرے کے محروم طبقات اور پسماندہ علاقوں تک یکساں طور پر نہ پہنچیں۔ درج فہرست ذاتوں کی اکثریت والے دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی، روزگار کے محدود مواقع اور معیاری تعلیم تک رسائی کے مسائل اسی وسیع تر چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان حالات میں مرکزی حکومت کی پردھان منتری انوسوچت جاتی ابھیودے یوجنا (پی ایم-اے جے اے وائی) کا مقصد صرف دیہی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا نہیں، بلکہ محروم برادریوں کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔
وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے مطابق، اس اسکیم کے مثالی گاؤں والے جزو کے تحت ملک بھر میں 47,200 سے زیادہ گاؤں شامل کیے جا چکے ہیں، جہاں 47.79 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ 8 ستمبر 2026 تک ان میں سے 18,093 گاؤں کو مثالی گاؤں قرار دیا گیا تھا۔ وزارت کے مطابق، اسکیم کے تحت ترقیاتی کاموں کے 46,944 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جب کہ گاؤں کی ترقی کے 27,032 منصوبے تیار کیے گئے ہیں۔یہ اعداد و شمار اسکیم کے دائر? کار اور سرکاری کوششوں کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم اصل کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں دیہی خاندانوں کی زندگیوں میں کتنی پائیدار بہتری آئی ہے۔
مثالی گاؤں سے مراد ایسا گاؤں ہے جہاں پینے کا پانی، صفائی، سڑکیں، نکاسی? آب اور دیگر ضروری سہولتیں دستیاب ہوں اور معاشرے کے تمام طبقات کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس تصور کی اہمیت ان دیہی علاقوں میں زیادہ ہے جہاں سماجی اور معاشی محرومیوں کے باعث بنیادی خدمات تک رسائی محدود رہی ہے۔لیکن کسی گاؤں کو مثالی قرار دینا محض انتظامی کارروائی نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی سہولتیں مستقل طور پر کام کریں، ان کی دیکھ بھال کے لیے وسائل دستیاب ہوں اور مقامی آبادی کو ان سے حقیقی فائدہ پہنچے۔ پانی کی فراہمی کا نظام نصب کرنا اسی وقت مفید ہے جب پانی باقاعدگی سے دستیاب ہو۔ اسی طرح سڑکوں، نکاسی? آب اور صفائی کے منصوبوں کی افادیت ان کے طویل مدتی انتظام پر منحصر ہے۔اس لیے گاؤں کی ترقی کے منصوبوں میں مقامی آبادی کی ضروریات، ترجیحات اور مشاورت کو مرکزی اہمیت دینا ضروری ہے۔ ترقی کا پائیدار ماڈل وہی ہو سکتا ہے جس میں بنیادی ڈھانچے کے ساتھ مقامی سطح پر اس کے انتظام اور دیکھ بھال کی صلاحیت بھی پیدا کی جائے۔
روزگار اور ہنرمندی: معاشی خودمختاری کی بنیاد
پی ایم-اے جے اے وائی کے تین بنیادی اجزا ہیں۔ پہلا، درج فہرست ذاتوں کی اکثریت والے گاؤں کو مثالی گاؤں کے طور پر ترقی دینا؛ دوسرا، ریاستی اور ضلعی سطح پر سماجی و اقتصادی منصوبوں کے لیے امدادی گرانٹ فراہم کرنا؛ اور تیسرا، طلبہ کے ہاسٹلوں کی تعمیر اور مرمت کرنا۔
امدادی گرانٹ کا مقصد روزگار کے مواقع بڑھانا، ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنا اور ایسے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مدد دینا ہے جو محروم طبقات کی آمدنی میں اضافے کا ذریعہ بن سکے۔ وزارت کے مطابق، مالی سال 2021-22 سے 2025-26 کے دوران اس جزو کے تحت ریاستوں کو تقریباً 1,730 کروڑ روپے براہِ راست جاری کیے گئے۔ اس مالی معاونت کے ذریعے 2.5 لاکھ سے زیادہ انفرادی اور اجتماعی مستفیدین کے لیے ہنرمندی کی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔
یہ اقدام اہم ہے، کیونکہ سماجی ترقی کے لیے صرف بنیادی سہولتوں کی فراہمی کافی نہیں۔ خاندانوں کی آمدنی میں مستقل اضافہ، ہنر کے مطابق روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں شرکت بھی ضروری ہے۔ تاہم تربیت کے پروگراموں کی کامیابی کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جانا چاہیے کہ کتنے افراد کو تربیت کے بعد روزگار ملا، ان کی آمدنی میں کتنا اضافہ ہوا اور کتنے افراد اپنا کاروبار شروع کرنے یا اسے وسعت دینے میں کامیاب ہوئے۔ہنرمندی کی تربیت کو مقامی صنعتوں، زرعی سرگرمیوں، خدمات کے شعبے اور بدلتی ہوئی روزگار منڈی کی ضروریات سے مربوط کرنا بھی اہم ہے۔ اس سے سرکاری سرمایہ کاری کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
تعلیم اور ہاسٹلوں کی اہمیت
اسکیم کا تیسرا جزو درج فہرست ذاتوں کے طلبہ کے لیے ہاسٹلوں کی تعمیر اور مرمت سے متعلق ہے۔ دیہی اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے تعلیمی اداروں تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہو سکتی ہے۔ رہائش کی سہولت نہ ہونے، سفر کے اخراجات اور خاندانی مالی مشکلات کے باعث بعض طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔وزارت کے مطابق، ستمبر 2026 تک اس اسکیم کے تحت طلبہ کے 785 ہاسٹل مکمل کیے جا چکے تھے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے لڑکوں اور لڑکیوں کے دو ہاسٹل منصوبوں کے لیے مرکزی امداد کی مد میں 61.46 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان ہاسٹلوں میں مجموعی طور پر 264 طلبہ و طالبات کی رہائش کا انتظام ہوگا۔ہاسٹلوں کی تعمیر تعلیمی مواقع بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، لیکن ان کی افادیت کا انحصار محفوظ رہائش، صاف پانی، صفائی، مناسب خوراک، مطالعے کے ماحول اور بروقت دیکھ بھال پر بھی ہے۔ اسی طرح لڑکیوں کی تعلیم کے لیے محفوظ رہائشی سہولتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ ان سے خاندانوں کے خدشات کم کرنے اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈیجیٹل نگرانی اور جواب دہی کا سوال
اسکیم کے نفاذ کو بہتر بنانے کے لیے پی ایم-اے جے اے وائی موبائل ایپ اور پورٹل متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان کا مقصد کاغذی کارروائی پر انحصار کم کرنا، معلومات تک رسائی بہتر بنانا اور منصوبوں کی نگرانی کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ڈیجیٹل نظام کے ذریعے منصوبوں کی پیش رفت، فنڈز کے استعمال اور مستفیدین سے متعلق معلومات کی نگرانی میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے اعداد و شمار کی درستگی، باقاعدہ اپ ڈیٹ، شکایات کے ازالے اور زمینی سطح پر تصدیق ضروری ہے۔ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل
خواندگی کی محدود دستیابی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اسکیم سو فیصد مرکزی مالی اعانت سے چلائی جاتی ہے، جب کہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے ضرورت کے مطابق اضافی وسائل فراہم کر سکتے ہیں۔ مالی وسائل کے استعمال کے لیے مختلف اجزا میں مخصوص تناسب مقرر ہے۔ بنیادی ڈھانچے، تکنیکی معاونت، ہاسٹلوں اور ریاستی و ضلعی سطح کے منصوبوں کے لیے مختص رقم کا درست استعمال اور شفاف نگرانی اس اسکیم کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کا ہدف اسی وقت بامعنی ہو سکتا ہے جب ترقی کے مواقع معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔ پی ایم-اے جے اے وائی کا مربوط طریق? کار—جس میں گاؤں کی بنیادی سہولتیں، روزگار، ہنرمندی اور تعلیم شامل ہیں—اس سمت میں ایک اہم کوشش ہے۔تاہم ترقیاتی اسکیموں کی اصل کامیابی صرف منظور شدہ منصوبوں، جاری شدہ فنڈز یا مستفیدین کی مجموعی تعداد سے نہیں ناپی جا سکتی۔ اس کے لیے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا محروم خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا، بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے امکانات بہتر ہوئے، بنیادی سہولتوں میں مستقل بہتری آئی اور سماجی و معاشی عدم مساوات کم کرنے میں پیش رفت ہوئی۔
