Last Updated on October 8, 2026 8:52 am by INDIAN AWAAZ

AMN / NEWS DESK
ہندی اور مراٹھی فلموں کے معروف اداکار نانا پاٹیکر جمعرات کو 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے بھارتی فلمی دنیا اور ان کے لاکھوں مداحوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ نانا پاٹیکر کو اپنے منفرد اندازِ اداکاری، پُراثر آواز، جذباتی مکالمہ نگاری اور مشکل کرداروں کو حقیقت کے قریب پیش کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔
رپورٹس کے مطابق نانا پاٹیکر کو گوا میں ان کی رہائش گاہ پر اچانک شدید قلبی دورہ پڑا۔ انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں بچانے کی کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے بھی ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔
نانا پاٹیکر کا اصل نام وشوناتھ پاٹیکر تھا۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز تھیٹر سے کیا اور بعد میں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ تھیٹر کے تجربے نے ان کی اداکاری میں گہرائی، شدت اور مکالمہ ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت پیدا کی، جو بعد میں ان کی شناخت بن گئی۔
1989 میں ریلیز ہونے والی فلم ’پرِندا‘ نے انہیں ملک گیر سطح پر نمایاں مقام دلایا۔ اس فلم میں شاندار اداکاری پر انہیں قومی فلم ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے بعد ’کرانتی ویر‘، ’اگنی ساکشی‘، ’خاموشی: دی میوزیکل‘، ’یشونت‘، ’اب تک چھپن‘، ’اپرن‘ اور مراٹھی فلم ’نٹسمراٹ‘ سمیت متعدد فلموں میں ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔
’کرانتی ویر‘ میں ان کا کردار خاص طور پر یادگار رہا۔ ان کی پُرجوش مکالمہ ادائیگی اور سماجی ناانصافی کے خلاف لڑنے والے کردار نے ناظرین پر گہرا اثر چھوڑا۔ اسی طرح ’اب تک چھپن‘ میں پولیس افسر کے کردار میں ان کی سنجیدہ اداکاری نے بھی انہیں نئی شناخت دی۔
نانا پاٹیکر صرف سنجیدہ کرداروں تک محدود نہیں رہے۔ فلم ’ویلکم‘ میں ادے شیٹی کا مزاحیہ کردار ان کے کیریئر کی مقبول ترین اداکاری میں شمار ہوتا ہے۔ اس کردار نے نئی نسل کے ناظرین میں بھی ان کی مقبولیت کو مزید بڑھایا۔
اداکاری کے علاوہ نانا پاٹیکر نے ہدایت کاری اور تھیٹر میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ فن اور سنیما کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں پدم شری سے بھی نوازا گیا تھا۔
نانا پاٹیکر ان فنکاروں میں شامل تھے جنہوں نے روایتی ہیرو کے تصور سے الگ اپنی اداکاری کی بنیاد کردار کی مضبوطی پر رکھی۔ ان کی آواز، مکالمہ ادا کرنے کا مخصوص انداز اور جذباتی شدت انہیں دوسرے فنکاروں سے ممتاز کرتی تھی۔
ان کے انتقال سے بھارتی سنیما نے ایک ایسے منفرد اور باصلاحیت اداکار کو کھو دیا ہے جس کی جگہ پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
