نفٹی اور سینسیکس میں ہفتہ وار معمولی اضافہ، درمیانی ہفتے کی اتھل پتھل کے باوجود بازار مستحکم

BY Our Business Correspondent

ممبئی: بھارتی حصص بازار نے 3 سے 7 اگست 2026 کے ہفتے کا اختتام معمولی تیزی کے ساتھ کیا، اگرچہ دورانِ ہفتہ بازار میں اتار چڑھاؤ، مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے رجحان میں تبدیلی اور مارکیٹ کے اختتامی نرخ طے کرنے کے نئے نظام کے باعث خاصی سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ ہفتے کا آغاز مضبوط رہا، منگل کو سرمایہ کاروں نے منافع وصول کیا، بدھ کو ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد بازار میں استحکام آیا، جمعرات کو محدود تیزی رہی، جبکہ جمعہ کو مالیاتی شعبے کے بڑے حصص میں فروخت کے دباؤ نے بازار کو نیچے کھینچ لیا۔

ہفتے کے مجموعی جائزے کے مطابق نفٹی 50 میں تقریباً 0.8 فیصد جبکہ بی ایس ای سینسیکس میں تقریباً 0.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔ وسیع تر بازار نے بھی نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں مڈ کیپ اور اسمال کیپ حصص میں بینچ مارک اشاریوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوطی دیکھی گئی۔

اس ہفتے کی سب سے اہم پیش رفت میں کلوزنگ آکشن سیشن (CAS) کا آغاز بھی شامل تھا، جو 3 اگست سے نافذ ہوا۔ اس نئے نظام کے تحت بعض حصص کے اختتامی نرخ پہلے کے طریقہ کار کے بجائے نیلامی کے عمل کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں۔ پہلے ہی دن اختتامی نرخوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے بازار کے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

پیر: خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے بازار کو سہارا

ہفتے کا آغاز بھارتی بازار کے لیے مثبت رہا۔ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو مضبوط کیا اور بینچ مارک اشاریوں میں تیزی دیکھی گئی۔

نفٹی 50 کا سرکاری اختتامی سطح 24,774.30 رہی، جبکہ سینسیکس 78,639.03 پر بند ہوا۔ سینسیکس میں تقریباً 0.7 فیصد کی تیزی رہی، جبکہ نئے کلوزنگ آکشن نظام کے باعث نفٹی کے سرکاری اختتام میں 3:30 بجے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔

نئے اختتامی نظام کے پہلے دن نفٹی اور سینسیکس کے درمیان پیدا ہونے والے فرق نے مارکیٹ کے ماہرین کی توجہ حاصل کی۔ ماہرین کے مطابق اختتامی نیلامی کے عمل نے آخری نرخوں پر نمایاں اثر ڈالا اور یہ ضروری نہیں کہ اس حرکت کو بنیادی معاشی یا کارپوریٹ عوامل میں اچانک تبدیلی کے طور پر دیکھا جائے۔

دریں اثنا، برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5 فیصد گر کر 83.55 ڈالر فی بیرل کے قریب آگئی۔ ایران سے متعلق سفارتی پیش رفت اور عالمی سپلائی کے امکانات نے بھی تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا۔

پیر کو بڑے شعبوں میں مجموعی طور پر مثبت رجحان رہا۔ نفٹی آئی ٹی انڈیکس تقریباً 3.3 فیصد بڑھا جبکہ مڈ کیپ اور اسمال کیپ اشاریوں میں بھی بالترتیب تقریباً 1.3 فیصد اور 1.2 فیصد کی تیزی رہی۔

منگل: ریزرو بینک کے فیصلے سے پہلے منافع وصولی

منگل کو بازار میں پیر کی تیزی کے بعد منافع وصولی دیکھی گئی۔ سرمایہ کار ریزرو بینک کی مانیٹری پالیسی کے اعلان سے پہلے محتاط ہوگئے۔

نفٹی 0.64 فیصد گر کر 24,614.90 جبکہ سینسیکس 0.27 فیصد کی کمی کے ساتھ 78,428.95 پر بند ہوا۔

مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا انڈیا VIX تقریباً 12.19 تک پہنچ گیا، جو تقریباً ایک ہفتے کی بلند ترین سطح تھی۔

نئے کلوزنگ آکشن سسٹم نے بھی بازار کے رجحان کو متاثر کیا، کیونکہ ٹریڈرز نئے طریقہ کار کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہفتہ وار ڈیریویٹیوز ایکسپائری سے پہلے بھی احتیاط دیکھی گئی۔

خام تیل کی قیمتوں میں بھی پیر کی کمی کے بعد تقریباً 2.9 فیصد کا اضافہ ہوا اور برینٹ تقریباً 86.20 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ تیل کی قیمتوں میں اس اضافے نے مہنگائی اور کمپنیوں کی لاگت کے حوالے سے تشویش پیدا کی۔

بدھ: آر بی آئی نے شرح سود برقرار رکھی

بدھ کو ملکی بازار کے لیے سب سے اہم پیش رفت ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کا اعلان تھا۔

جیسا کہ بڑے پیمانے پر توقع کی جا رہی تھی، آر بی آئی نے ریپو ریٹ 5.25 فیصد پر برقرار رکھا اور پالیسی موقف کو غیر جانب دار رکھا۔ اس فیصلے سے مالیاتی بازار کو کسی حد تک استحکام ملا، اگرچہ سرمایہ کار خام تیل کی قیمتوں اور عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال کو لے کر محتاط رہے۔

بدھ کو سینسیکس 152.05 پوائنٹس یا 0.19 فیصد بڑھ کر 78,581 پر بند ہوا، جبکہ نفٹی 9.75 پوائنٹس یا 0.04 فیصد کی معمولی تیزی کے ساتھ 24,624.65 پر پہنچا۔

محدود ردعمل سے ظاہر ہوا کہ ریپو ریٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ بڑی حد تک پہلے ہی بازار کی قیمتوں میں شامل ہوچکا تھا۔ سرمایہ کاروں کی توجہ جلد ہی کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج، خام تیل، عالمی بازار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہوگئی۔

آر بی آئی کا فیصلہ مرکزی بینک کے محتاط اور انتظار کرو پالیسی موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ مہنگائی اور اقتصادی ترقی دونوں پر نظر رکھتے ہوئے مرکزی بینک نے کسی اچانک پالیسی تبدیلی سے گریز کیا۔

جمعرات: سینسیکس میں بحالی، نفٹی میں معمولی اضافہ

جمعرات کو بازار میں ملا جلا رجحان رہا۔ سینسیکس 373.76 پوائنٹس یا 0.48 فیصد بڑھ کر 78,954.76 پر بند ہوا، جبکہ نفٹی صرف 11.35 پوائنٹس یا 0.05 فیصد کی معمولی تیزی کے ساتھ 24,636 پر پہنچا۔

دونوں بڑے اشاریوں کی کارکردگی میں فرق نے اسٹاک مخصوص سرگرمی اور انڈیکس کی مختلف ساخت کی عکاسی کی۔ کئی بڑے حصص میں خریداری دیکھی گئی، لیکن کچھ بڑی کمپنیوں میں کمزوری نے نفٹی کی مجموعی تیزی کو محدود رکھا۔

سرمایہ کار عالمی حالات پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔ خام تیل کی قیمت تقریباً 79.50 ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہی، جبکہ عالمی حصص بازاروں میں کارپوریٹ نتائج اور امریکی شرح سود کے امکانات اہم موضوع بنے رہے۔

آر بی آئی کے فیصلے کے بعد ملکی سطح پر ایک اہم غیر یقینی کیفیت کم ضرور ہوئی، لیکن جمعرات کے کاروبار نے واضح کیا کہ بھارتی بازار اب بھی عالمی عوامل سے خاصا متاثر ہوسکتا ہے۔

جمعہ: مالیاتی حصص کی فروخت سے بازار میں گراوٹ

ہفتے کے آخری کاروباری دن بازار پر دوبارہ فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔

سینسیکس 455.59 پوائنٹس یا 0.58 فیصد گر کر 78,499.17 پر بند ہوا، جبکہ نفٹی 65.35 پوائنٹس یا 0.27 فیصد کی کمی کے ساتھ 24,570.65 پر بند ہوا۔

مالیاتی شعبہ بازار کے لیے سب سے بڑا منفی عنصر رہا۔ بجاج فائنانس میں 5.84 فیصد، آئی سی آئی سی آئی بینک میں 2.50 فیصد اور ایکسس بینک میں 1.43 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

تاہم وسیع تر بازار میں نسبتاً مضبوطی برقرار رہی۔ ہفتے کے مجموعی دوران اسمال کیپ اور مڈ کیپ اشاریوں نے بینچ مارک کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

جمعہ کو سرمایہ کار امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے منتظر بھی رہے۔ یہ اعداد و شمار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی کے لیے اہم اشارہ سمجھے جاتے ہیں۔

ہفتہ وار مارکیٹ اسکور کارڈ

اشاریہ / اشارہ3 تا 7 اگست 2026
نفٹی 5024,570.65
ہفتہ وار نفٹی اضافہتقریباً 0.8 فیصد
سینسیکس78,499.17
ہفتہ وار سینسیکس اضافہتقریباً 0.5 فیصد
آر بی آئی ریپو ریٹ5.25 فیصد
پالیسی موقفغیر جانب دار
اہم ملکی پیش رفتآر بی آئی مانیٹری پالیسی
اہم مارکیٹ تبدیلیکلوزنگ آکشن سیشن
اہم عالمی عنصرامریکی روزگار کے اعداد و شمار
اہم کموڈیٹی عنصرخام تیل

مالیاتی حصص دباؤ میں، وسیع تر بازار مضبوط

ہفتے کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک بڑے مالیاتی حصص اور وسیع تر بازار کی مختلف سمتوں میں حرکت تھی۔

مالیاتی شعبے نے پیر کو بازار کی تیزی میں حصہ لیا، لیکن اس کے بعد اس میں فروخت کا دباؤ بڑھا۔ جمعہ کو بجاج فائنانس سمیت کئی بڑے مالیاتی حصص میں نمایاں گراوٹ نے بینچ مارک اشاریوں کو متاثر کیا۔

اس کے برعکس وسیع تر بازار زیادہ مستحکم رہا۔ مضبوط سہ ماہی نتائج، ملکی سرمایہ کاری اور مخصوص شعبوں میں خریداری نے مڈ کیپ اور اسمال کیپ حصص کو سہارا دیا۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اب پورے بازار کے بجائے کمپنیوں کی مخصوص کارکردگی، آمدنی میں اضافہ اور قیمتوں کے جائزے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سرگرمی اہم

غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی سرگرمی بھی بازار کے لیے ایک اہم سہارا رہی۔ اگست کے ابتدائی دنوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھارتی حصص میں خریداری دیکھی گئی، جبکہ جولائی میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری آئی تھی۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل واپسی بھارتی بازار کے لیے اہم ہے، کیونکہ ان کی خریداری یا فروخت نفٹی اور سینسیکس کے ساتھ ساتھ روپے، بانڈ ییلڈ اور مجموعی لیکویڈیٹی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

اگر عالمی شرح سود میں نرمی کے امکانات بڑھتے ہیں تو ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول مزید سازگار ہوسکتا ہے۔

کلوزنگ آکشن سیشن: بازار کے لیے نیا عنصر

اس ہفتے کی سب سے اہم ساختی تبدیلی کلوزنگ آکشن سیشن کا آغاز تھا۔

اس نئے نظام کا مقصد اختتامی نرخوں کی دریافت کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔ اختتامی وقت کے قریب ایک مخصوص نیلامی کے ذریعے حصص کی قیمت طے کی جاتی ہے، جو بعد میں سرکاری اختتامی قیمت بنتی ہے۔

تاہم پہلے ہی دن اس نظام کے نتیجے میں کچھ حصص اور اشاریوں میں غیر معمولی اختتامی حرکت دیکھی گئی۔ ٹریڈرز، آربیٹریج کرنے والے سرمایہ کاروں اور ڈیریویٹیوز مارکیٹ سے وابستہ افراد کو نئے طریقہ کار کے مطابق خود کو ڈھالنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

طویل مدت میں اس نظام کا مقصد اختتامی نرخوں میں ممکنہ بگاڑ کو کم کرنا اور قیمتوں کی بہتر دریافت کو یقینی بنانا ہے، لیکن ابتدائی مرحلے میں اس کے باعث اتار چڑھاؤ بڑھنے کا امکان موجود ہے۔

آئندہ ہفتے کا منظرنامہ

3 سے 7 اگست کا ہفتہ بھارتی حصص بازار کے لیے کئی اہم پیغامات لے کر آیا۔ ایک طرف مضبوط ملکی لیکویڈیٹی، کارپوریٹ آمدنی اور مڈ کیپ و اسمال کیپ حصص میں دلچسپی نے بازار کو سہارا دیا، تو دوسری طرف مالیاتی حصص میں فروخت، خام تیل کی قیمتوں اور عالمی شرح سود سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے دباؤ برقرار رکھا۔

آئندہ ہفتے نفٹی کے لیے 24,500 کی سطح اہم رہ سکتی ہے، جبکہ 24,600 سے 24,800 کے درمیان کی سطحیں قلیل مدتی رجحان کے لیے اہم سمجھی جائیں گی۔ سینسیکس کے لیے 79,000 کے آس پاس برقرار رہنا بھی سرمایہ کاروں کی نظر میں رہے گا۔

خام تیل ایک اہم خطرہ بنا ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کسی نئی کشیدگی یا آبنائے ہرمز سے متعلق سپلائی میں رکاوٹ خام تیل کی قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جاسکتی ہے، جس سے ہندوستان کی مہنگائی، روپے اور کمپنیوں کے منافع پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

عالمی شرح سود کی سمت بھی اہم ہوگی۔ جمعہ کو جاری ہونے والے امریکی روزگار کے کمزور اعداد و شمار میں جولائی کے دوران غیر زرعی شعبے میں روزگار میں 23,000 کی کمی سامنے آئی، جبکہ بے روزگاری کی شرح گھٹ کر 4.1 فیصد ہوگئی۔ اس رپورٹ کے بعد امریکی شرح سود کے مستقبل کے حوالے سے توقعات میں تبدیلی آسکتی ہے، جس کا اثر عالمی بانڈ ییلڈ، ڈالر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سرمایہ کاری پر پڑ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر 3 تا 7 اگست کا ہفتہ اس بات کا ثبوت رہا کہ بھارتی بازار بنیادی طور پر مضبوط ضرور ہے، لیکن عالمی خطرات، خام تیل، مالیاتی حصص اور مارکیٹ کے نئے ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیاں اتار چڑھاؤ کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔

مختصر یہ کہ سرمایہ کاری کی لیکویڈیٹی مضبوط ہے، کمپنیوں کے نتائج بازار کو سہارا دے رہے ہیں اور ملکی بنیادیں اب بھی مستحکم ہیں، لیکن عالمی خطرات اور مالیاتی شعبے میں کمزوری آنے والے دنوں میں بازار کی رفتار کو متاثر کرسکتی ہے۔

ڈسکلیمر: یہ رپورٹ صرف خبری اور معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ اسے کسی بھی حصص یا سکیورٹی کی خرید و فروخت کے لیے سرمایہ کاری کا مشورہ یا سفارش نہ سمجھا جائے۔ سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے سے قبل خود تحقیق کریں اور مستند مالیاتی مشیر سے مشورہ کریں۔