
آفرین حسین، کولکاتا
مغربی بنگال میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکر کو لے کر پیدا ہونے والے تنازع نے ایک بار پھر مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور عوامی نظم و ضبط کے درمیان توازن کے سوال کو بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کے خلاف کارروائی کو لے کر سیاسی الزام تراشی اگرچہ تیز ہوگئی ہے، لیکن ان کے استعمال کو منظم کرنے والا قانونی ڈھانچہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران عدالتوں کے فیصلوں اور صوتی آلودگی سے متعلق قوانین کے ذریعے اس سلسلے میں واضح رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔
مغربی بنگال میں اس تنازع کی قانونی تاریخ بائیں محاذ کی حکومت کے دور تک جاتی ہے۔ 1996 میں کلکتہ ہائی کورٹ نے واضح کیا تھا کہ کسی فرد یا ادارے کو، حتیٰ کہ مذہبی مقاصد کے لیے بھی، لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کا غیر محدود حق حاصل نہیں ہے۔ عدالت کا یہ موقف تمام مذہبی مقامات پر یکساں طور پر لاگو ہوتا تھا۔ اس وقت بائیں محاذ کی حکومت نے اس معاملے کو بنیادی طور پر انتظامی اور قانون و نظم سے متعلق مسئلہ سمجھا، نہ کہ سیاسی مسئلہ۔
بعد کے برسوں میں ترنمول کانگریس حکومت کے دور میں بھی صوتی آلودگی (ضابطہ اور کنٹرول) قواعد، 2000 نافذ رہے۔ شکایات یا عدالتی ہدایات کی بنیاد پر پولیس کی جانب سے غیر مجاز لاؤڈ اسپیکروں کے خلاف کارروائی کے واقعات سامنے آتے رہے۔ 2020 میں کلکتہ ہائی کورٹ نے ایک بار پھر موجودہ قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا موقف رہا ہے کہ ہر برادری کو پرامن طریقے سے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما کنال گھوش نے لاؤڈ اسپیکر کے معاملے کو سیاسی رنگ دیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوسکتی ہے۔

موجودہ تنازع میں اپوزیشن بی جے پی نے غیر مجاز لاؤڈ اسپیکروں کے خلاف کارروائی اور عدالتی ہدایات پر عمل درآمد کے مطالبے کو نمایاں طور پر اٹھایا ہے۔ دوسری جانب ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ صوتی آلودگی سے متعلق قوانین تمام مذہبی اور عوامی مقامات پر یکساں طور پر نافذ ہونے چاہئیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کا مقصد کسی مخصوص مذہب کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ موجودہ قوانین کو نافذ کرنا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے پر مختلف موقف اختیار کیے ہیں۔ سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم کا کہنا ہے کہ اگر صوتی آلودگی سے متعلق قوانین نافذ کیے جاتے ہیں تو ان کا اطلاق مساجد اور مندروں کے ساتھ ساتھ گرجا گھروں، سیاسی ریلیوں اور مذہبی جلوسوں پر بھی یکساں طور پر ہونا چاہیے۔ کانگریس نے بھی عدالتی احکامات پر سختی سے عمل درآمد کی حمایت کی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ یقینی بنانے پر زور دیا ہے کہ کارروائی غیر جانب دار ہو اور اس میں سیاسی تعصب کی کوئی گنجائش نہ ہو۔
انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کے رکن اسمبلی نوشاد صدیقی نے لاؤڈ اسپیکروں کے خلاف کارروائی کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اذان اسلامی مذہبی روایت کا ایک اہم حصہ ہے اور مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب رکن اسمبلی نذرالاسلام نے مسلمانوں سے قانونی تقاضوں کی پابندی کرنے، تصادم سے گریز کرنے اور اپنے مذہبی حقوق کا تحفظ آئینی طریقے سے کرنے کی اپیل کی ہے۔
آئین ہند کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو مذہبی آزادی کا حق فراہم کرتا ہے، تاہم یہ حق عوامی نظم و ضبط، اخلاقیات اور صحت سے مشروط ہے۔ عدالتیں وقتاً فوقتاً یہ فرق واضح کرتی رہی ہیں کہ مذہبی عقیدے اور عبادت کا حق ایک الگ معاملہ ہے، جبکہ اس حق کے اظہار کے لیے برقی آلات، یعنی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو منظم کرنے والے قوانین ایک الگ قانونی مسئلہ ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مغربی بنگال میں جاری بحث محض لاؤڈ اسپیکر کی آواز تک محدود نہیں رہتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ قانون کس حد تک یکساں طور پر نافذ کیا جاتا ہے اور سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو کس انداز میں عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں۔
لاؤڈ اسپیکر کی آواز چند منٹوں یا گھنٹوں تک سنی جاسکتی ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والی سیاسی گونج کہیں زیادہ دیر تک برقرار رہ سکتی ہے۔ مغربی بنگال کے سامنے اصل چیلنج یہی ہے کہ قانون نافذ ہو تو بلاامتیاز، مذہبی آزادی برقرار رہے تو آئینی حدود کے اندر، اور سیاسی بحث ہو تو فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کیے بغیر۔
کیونکہ بنگال میں اس وقت سوال صرف یہ نہیں ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کتنی بلند آواز میں بج رہا ہے—سوال یہ بھی ہے کہ اس کے پیچھے چھپی سیاست کی آواز کتنی بلند ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اسی کو مزید اداریاتی اور تحقیقاتی انداز میں 1000 سے 1200 الفاظ کا اردو مضمون بھی بنا سکتا ہوں، جس میں 1996 کے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے، 2000 کے صوتی آلودگی قواعد اور سپریم کورٹ کے متعلقہ فیصلوں کو بھی شامل کیا جائے۔
