Last Updated on July 3, 2026 3:52 pm by INDIAN AWAAZ
شمع کی روشنی میں انسائیکلوپیڈیا پڑھنے والے اویس احمد آج بھارت کے کامیاب اسپیس ٹیک اسٹارٹ اپ “پکسل” کے بانی اور سی ای او، ناسا سمیت عالمی اداروں کے ساتھ کر رہے ہیں کام

اسد مرزا / عندليب أختر
بھارت میں ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کے شعبے میں ایک اور کامیابی کی داستان سامنے آئی ہے، جہاں کرناٹک کے ایک نوجوان مسلم سائنس دان اور کاروباری شخصیت اویس احمد نے اپنی محنت، صلاحیت اور عزم کے بل پر اسپیس ٹیک کمپنی پکسل (Pixxel) کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا ہے۔ تقریباً 900 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کرنے والی یہ کمپنی آج دنیا کی نمایاں خلائی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
کرناٹک کے ضلع چکمگلورو کے ایک چھوٹے سے گاؤں الدور میں پیدا ہونے والے عویس احمد کا بچپن انتہائی سادہ ماحول میں گزرا۔ ان کے پاس نہ اسمارٹ فون تھا اور نہ ہی انٹرنیٹ کی سہولت۔ آٹھویں جماعت تک انہوں نے انٹرنیٹ استعمال بھی نہیں کیا تھا۔ ان کے والد گھر پر سائنسی انسائیکلوپیڈیا لاتے تھے، جنہیں عویس اکثر رات کے وقت شمع یا کم روشنی میں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ یہی کتابیں ان کے دل میں خلا، ستاروں اور کائنات کے اسرار جاننے کا شوق پیدا کرنے کا سبب بنیں۔
بعد ازاں عویس احمد نے بٹس پلانی (BITS Pilani) سے ریاضی کی تعلیم حاصل کی، لیکن ان کی دلچسپی صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں رہی۔ وہ طلبہ کے سیٹلائٹ پروگرام ٹیم اننت سے وابستہ ہوئے، جس نے اسرو (ISRO) کے ساتھ مل کر مختلف منصوبوں پر کام کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہائپرلوپ انڈیا کے انجینئرنگ سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جہاں ان کی ٹیم نے اسپیس ایکس (SpaceX) کے عالمی مقابلے کے فائنل تک رسائی حاصل کی۔
سن 2018 میں عویس احمد اور ان کے ساتھی کشتیج کھنڈیلوال زرعی شعبے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ اس دوران انہیں احساس ہوا کہ دستیاب سیٹلائٹ تصاویر اتنی واضح نہیں کہ فصلوں، ماحولیات یا گیسوں کے اخراج میں ہونے والی باریک تبدیلیوں کی درست نشاندہی کر سکیں۔ اسی ضرورت نے دونوں نوجوانوں کو اپنی الگ کمپنی قائم کرنے کی ترغیب دی۔

فروری 2019 میں انہوں نے محدود وسائل اور عویس کے والد سے لیے گئے قرض کی مدد سے پکسل کی بنیاد رکھی۔ ابتدا میں کمپنی کا ماہانہ خرچ صرف دس ہزار روپے کے قریب تھا، لیکن چند ہی برسوں میں یہ اسٹارٹ اپ عالمی اسپیس ٹیک صنعت میں ایک نمایاں نام بن گیا۔
پکسل نے ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی پر مبنی جدید سیٹلائٹ تیار کیے ہیں، جو زمین کی سطح، ماحول، زراعت، آبی وسائل اور آلودگی سے متعلق نہایت باریک معلومات فراہم کرتے ہیں۔ 2025 میں کمپنی نے فائر فلائی نامی چھ سیٹلائٹس پر مشتمل اپنا جدید سیٹلائٹ نیٹ ورک خلا میں بھیجا، جو 250 سے زائد اسپیکٹرل بینڈز میں معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عویس احمد کی قیادت میں پکسل نے کئی اہم عالمی کامیابیاں حاصل کیں۔ کمپنی ناسا (NASA) کے ساتھ معاہدہ کرنے والی پہلی بھارتی نجی اسپیس ٹیک کمپنی بنی، جبکہ امریکی نیشنل ریکونیسنس آفس کے ساتھ بھی پانچ سالہ معاہدہ کیا۔ کمپنی کو گوگل، لائٹسپیڈ وینچر پارٹنرز اور دیگر عالمی سرمایہ کاروں سے مجموعی طور پر تقریباً 95 ملین امریکی ڈالر (900 کروڑ روپے سے زائد) کی سرمایہ کاری حاصل ہو چکی ہے۔
اس وقت اویس احمد بنگلورو اور لاس اینجلس کے درمیان اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ انہیں فوربز 30 انڈر 30 اور ایم آئی ٹی انوویٹرز انڈر 35 جیسی عالمی فہرستوں میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔
اویس احمد کی کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ محدود وسائل، دیہی پس منظر اور مشکلات کے باوجود اگر عزم، علم اور مسلسل محنت کو اپنا شعار بنایا جائے تو عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کی یہ داستان بھارت کے نوجوانوں، خصوصاً مسلم طلبہ اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کے خواہش مند افراد کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال سمجھی جا رہی ہے۔
