
عندلیب اختر
ہندوستان کے قومی پرندے کے طور پر مور کی تصویر اتنی گہرائی سے ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکی ہے کہ شاید ہی کبھی یہ سوال ذہن میں آتا ہو کہ کیا کبھی کسی اور پرندے پر بھی غور کیا گیا تھا۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہندوستان کا قومی پرندہ بننے کے لیے ایک اور غیر معمولی پرندہ سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جاتا تھا— انڈین گریٹ بسٹرڈ کا نام اس کے ہندوستانی برصغیر میں پائے جانے اور اس کے بڑے اور شاندار جسم کی وجہ سے رکھا گیا۔ اسے عام طور پر سوہن چڑیا یا سوہن چڑیا(گوداون)بھی کہا جاتا ہے، جس کی نسبت اس کے سنہری جھلک والے پروں اور جسم کے سلیٹی رنگ سے جوڑی جاتی ہے۔
حال ہی میں کانگریس رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک دلچسپ تاریخی واقعہ شیئر کیا، جس نے اس بھولی ہوئی داستان کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا۔
جے رام رمیش کے مطابق21جون1976کو اُس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی، مہارانا پرتاپ کو تاریخی اور لازوال شخصیت بنانے والی ہلدی گھاٹی کی جنگ کی400ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں شرکت کے لیے اُدے پور جا رہی تھیں۔ سفر کے دوران اُن کی نظر ہندوستان ٹائمز کے پہلے صفحے پر شائع ہونے والی گریٹ انڈین بسٹرڈ کی ایک تصویر پر پڑی۔ اس کے ساتھ ایک خبر بھی شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ نایاب پرندہ معدومی کے خطرے سے دوچار ہو رہا ہے۔
اُدے پور پہنچنے کے بعد اندرا گاندھی نے پرندوں کے تحفظ سے وابستہ افراد کے ایک گروپ سے ملاقات کی، جس کی قیادت اُس وقت راجستھان وائلڈ لائف بورڈ سے وابستہ ہرش وردھن کر رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہی واقعات نے گریٹ انڈین بسٹرڈ کے تحفظ کی کوششوں کو نئی رفتار دی اور بعد میں جیسلمیر اور باڑمیر کے وسیع علاقے پر مشتمل ڈیزرٹ نیشنل پارک کے قیام جیسے اقدامات کی بنیاد مضبوط ہوئی۔
لیکن گوداون اور ہندوستانی قومی شناخت کا تعلق اس سے بھی پرانا ہے۔
سن1961میں ہندوستان کے معروف ماہرِ طیور سلیم علی نے گریٹ انڈین بسٹرڈ کو ہندوستان کا قومی پرندہ قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ ان کے نزدیک یہ پرندہ ہندوستان کی منفرد گھاس زاروں، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی ورثے کی نمائندگی کرتا تھا۔
تاہم دو برس بعد فیصلہ بدل گیا۔
1963 میں انڈین بورڈ فار وائلڈ لائف نے مور کو قومی پرندہ منتخب کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے تاریخی، تہذیبی، مذہبی اور اساطیری وجوہات کو اہم قرار دیا گیا۔ ہندوستانی روایت میں مور کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ مذہبی علامتوں، لوک کہانیوں، کلاسیکی فنون اور ثقافتی شناخت سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں گوداون نسبتاً کم معروف اور محدود جغرافیائی خطوں میں پایا جانے والا پرندہ تھا۔
اس کے باوجود گوداون اپنی ایک منفرد شان رکھتا ہے۔
گریٹ انڈین بسٹرڈ دنیا کے سب سے وزنی اُڑنے والے پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی لمبی ٹانگیں، پُروقار انداز اور کھلے میدانوں اور نیم صحرائی علاقوں میں زندہ رہنے کی غیر معمولی صلاحیت اسے منفرد بناتی ہے۔ افزائش کے موسم میں نر گوداون اپنی گردن کے نیچے موجود سفید تھیلی نما حصے کو پھلا کر دلکش انداز میں مادہ کو متوجہ کرتا ہے۔ اس کی چال میں وقار اور مزاج میں غیر معمولی احتیاط نمایاں ہوتی ہے۔
کبھی ہندوستان کے وسیع علاقوں میں پایا جانے والا یہ پرندہ آج چند محدود خطوں تک سمٹ چکا ہے اور شدید خطرے سے دوچار انواع میں شمار کیا جاتا ہے۔ رہائشی علاقوں کا سکڑنا، بجلی کی ہائی وولٹیج تاروں سے ٹکراؤ اور گھاس زاروں کا ختم ہونا اس کے وجود کے لیے بڑے خطرات بن چکے ہیں۔
مور ہندوستان کا قومی پرندہ بن گیا، لیکن گوداون کی کہانی آج بھی یہ یاد دلاتی ہے کہ کسی قوم کی شناخت صرف اس کی ثقافت سے نہیں بنتی، بلکہ ان جانداروں اور قدرتی ورثوں سے بھی بنتی ہے جنہیں وہ محفوظ رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے۔
